۸۸. سورۃ الغاشیہ
چھا جانے والی
ٱلْغَاشِيَة

سورۃ الغاشیہ

چھا جانے والی
۲۶ آیاتمکی

سورۃ الغاشیہ (الغاشية، معنی: چھا جانے والی) قرآن کی ۸۸ویں سورۃ ہے۔ یہ مکی سورۃ ہے جس میں ۲۶ آیات ہیں، اور یہ پارہ ۳۰ میں مدنی مصحف کے صفحہ ۵۹۲ سے شروع ہوتی ہے۔

سورۃ الغاشیہ کا تعارف

نام :

 پہلی ہی آیت کے لفظ

الغاشیۃ

کو اس سُورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول :

 

سورۃ کا پورا مضمون اِس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ بھی ابتدائی زمانہ کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے، مگر یہ وہ زمانہ تھا جب حضور ؐ تبلیغِ  عام شروع کر چکے تھے اور مکّہ کے لوگ بالعموم اُسے سُن سُن کر نظر انداز کیے جا رہے تھے۔

موضوع اور مضمون:

 

 اِس کے موضوع کو سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ ابتدائی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ زیادہ تر دو ہی باتیں لوگوں کے ذہن نشین کرنے پر مرکوز تھی۔ ایک توحید ،دوسرے آخرت۔ اور اہلِ مکہ اِن دونوں باتوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے تھے ۔ اِس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد اب  اِس سورہ کے مضمون اور اندازِ بیان  پر غور کیجیے۔

اس میں سب سے پہلےغفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چَونکانے کے لیے اچانک اُن کے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا ہے کہ تمہیں اُ س وقت کی بھی کچھ خبر ہے جب سارے عالَم پر چھا جانے والی ایک آفت نازل ہو گی؟ اِس کے بعد فوراً ہی یہ تفصیل بیان کرنی شروع کر دی گئی ہے کہ اُس وقت سارے انسان دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر دو مختلف انجام دیکھیں گے۔ ایک وہ جو جہنّم میں جائیں گے اور اُنہیں ایسے اور ایسے سخت عذاب جھیلنے ہوں گے۔ دوسرے وہ جو عالی مقام جنّت میں جائیں گے اور اُن کو ایسی اور ایسی نعمتیں میسّر ہوں گی۔

اس طرح لوگوں کو چونکانے کے بعد یکلخت مضمون تبدیل ہوتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جو قرآن کی تعلیم ِ توحید اور خبرِ آخرت کو سُن کر نا ک بھوں چڑھا رہے ہیں، اپنے سامنے کی اُن چیزوں کو نہیں دیکھتے جن سے ہر وقت انہیں سابقہ پیش آتا ہے؟ عرب کے سحرا میں جن اُونٹوں پر ان کی ساری زندگی کا انحصار ہے، کبھی یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ یہ کیسے ٹھیک اُنہی خصوصیات کے مطابق بن گئے جیسی خصوصیات کے جانور کی ضرورت ان کی صحرائی زندگی کے لیے تھی؟ اپنے سفروں میں جب یہ چلتے ہیں تو انہیں یا آسمان نظر آتا ہے، یا پہاڑ، یا زمین ۔ انہی تین چیزوں پر یہ غو ر کریں۔ اوپر یہ آسمان کیسے چھا گیا؟ سامنے یہ پہاڑ کیسے کھڑے ہو گئے؟ نیچے یہ زمین کیسے بِچھ گئی؟ کیا یہ سب کسی قادرِ مطلق صانعِ حکیم کی کاریگری کے بغیر ہو گیا ہے؟ اگر یہ مانتے ہیں کہ ایک خالق نے بڑی حکمت اور بڑی قدرت کےساتھ ان چیزوں کو بنایا ہے ، اور کوئی دوسرا ان کی تخلیق میں شریک نہیں ہے ، تو اسی کو اکیلا ربّ ماننے سے انہیں کیوں انکار ہے؟ اور اگر یہ مانتے ہیں کہ وہ خدا یہ سب کچھ پیدا کرنے پر قادر تھا ، تو آخر کس معقول دلیل سے انہیں یہ ماننے میں تأمُّل ہے کہ وہی خدا قیامت  لانے پر بھی قادر ہے؟ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے؟ جنت اور دوزخ بنانے پر بھی قادر ہے؟

اس مختصر اور نہایت معقول استدلال سے بات سمجھانے کے بعد کفّار کی طرف سے رُخ پھیر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا جاتا ہے اور آپ ؐ سے ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں ، تم اِن پر تو جبّار بنا کر تو مسلط کیے گئے نہیں ہو کہ زبردستی ان سے منوا کر ہی چھوڑو۔ تمہارا کام نصیحت کرنا ہے، سو تم نصیحت کیے جاؤ۔ آخر کار انہیں آنا ہمارے ہی پاس ہے۔ اُس وقت ہم ان سے پورا پورا حساب لے لیں گے اور نہ ماننے والوں کو بھاری سزا دیں گے۔

ماخذ: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Loading…

سورۃ الغاشیہ کی تمام آیات — عربی متن اور اردو ترجمہ

لفظی ترجمہ، تلفظ اور تفسیر کے لیے کوئی بھی آیت کھولیں۔
  1. 88:1هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْغَٰشِيَةِکیا تجھے بھی چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے.
  2. 88:2وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَٰشِعَةٌاس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے.
  3. 88:3عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ(اور) محنت کرنے والے تھکے ہوئے ہوں گے.
  4. 88:4تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةًوه دہکتی ہوئی آگ میں جائیں گے.
  5. 88:5تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ ءَانِيَةٍاور نہایت گرم چشمے کا پانی ان کو پلایا جائے گا.
  6. 88:6لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍان کے لئے سوائے کانٹے دار درختوں کے اور کچھ کھانے کو نہ ہوگا.
  7. 88:7لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِى مِن جُوعٍجو نہ موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا.
  8. 88:8وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌبہت سے چہرے اس دن تروتازه اور (آسوده حال) ہوں گے.
  9. 88:9لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌاپنی کوشش پر خوش ہوں گے.
  10. 88:10فِى جَنَّةٍ عَالِيَةٍبلند وباﻻ جنتوں میں ہوں گے.
  11. 88:11لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَٰغِيَةًجہاں کوئی بیہوده بات نہیں سنیں گے.
  12. 88:12فِيهَا عَيْنٌ جَارِيَةٌجہاں بہتا ہوا چشمہ ہوگا.
  13. 88:13فِيهَا سُرُرٌ مَّرْفُوعَةٌ(اور) اس میں اونچے اونچے تخت ہوں گے.
  14. 88:14وَأَكْوَابٌ مَّوْضُوعَةٌاور آبخورے رکھے ہوئے (ہوں گے).
  15. 88:15وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌاور ایک قطار میں لگے ہوئے تکیے ہوں گے.
  16. 88:16وَزَرَابِىُّ مَبْثُوثَةٌاور مخملی مسندیں پھیلی پڑی ہوں گی.
  17. 88:17أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى ٱلْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْکیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وه کس طرح پیدا کیے گئے ہیں.
  18. 88:18وَإِلَى ٱلسَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْاور آسمان کو کہ کس طرح اونچا کیا گیا ہے.
  19. 88:19وَإِلَى ٱلْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْاور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں.
  20. 88:20وَإِلَى ٱلْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْاور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے.
  21. 88:21فَذَكِّرْ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌپس آپ نصیحت کر دیا کریں (کیونکہ) آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں.
  22. 88:22لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍآپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں.
  23. 88:23إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَہاں! جو شخص روگردانی کرے اور کفر کرے.
  24. 88:24فَيُعَذِّبُهُ ٱللَّهُ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَكْبَرَاسے اللہ تعالیٰ بہت بڑا عذاب دے گا.
  25. 88:25إِنَّ إِلَيْنَآ إِيَابَهُمْبیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے.
  26. 88:26ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمپھر بیشک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا.
سورۃ سنیںMishary Alafasy