۹۲. سورۃ اللیل
رات
ٱللَّيْل

سورۃ اللیل

رات
۲۱ آیاتمکی

سورۃ اللیل (الليل، معنی: رات) قرآن کی ۹۲ویں سورۃ ہے۔ یہ مکی سورۃ ہے جس میں ۲۱ آیات ہیں، اور یہ پارہ ۳۰ میں مدنی مصحف کے صفحہ ۵۹۵ سے شروع ہوتی ہے۔

سورۃ اللیل کا تعارف

نام :

 

 پہلے ہی لفظ وَالَّیْل

کو اس سُورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول :

  

اس کا مضمون سورۂ شمس سے اِس قدر مشابہ ہے کہ یہ دونوں سورتیں ایک دوسرے کی تفسیر محسوس ہوتی ہیں ۔ ایک ہی بات ہے جسے سورۂ شمس میں ایک طریقہ سے سمجھایا گیا ہے اور اِس سورہ میں دوسرے طریقے سے ۔ اِس سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ دونوں قریب قریب ایک ہی زمانے میں نازل ہو ئی ہیں۔

موضوع اور مضمون:

 

اِس کا موضوع زندگی کے دو مختلف راستوں کا فرق اور ان کے انجام اور نتائج کا اختلاف بیان کرنا ہے ۔ مضمون کے لحاظ سے یہ سورۃ دو حصّوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصّہ آغاز سے آیت ۱۱ تک ہے ، اور دوسرا حصّہ آیت ۱۲ سے آخر تک۔

پہلے حصّہ میں سب سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ نوع انسانی کے افراد ، اقوام اور گروہ دنیا میں جو سعی و عمل بھی کر رہے ہیں ، وہ لازمًا اپنی اخلاقی نوعیت کے لحاظ سے اُسی طرح مختلف ہیں جس طرح دن رات سے اور نر مادہ سے مختلف ہے۔ اِس کے بعد قرآن کی مختصر سورتوں کے عام انداز بیان کے مطابق تین اخلاقی خصوصیات ایک نوعیت کی، اور تین اخلاقی خصوصیات دوسری نوعیت کی سعی و عمل کے ایک وسیع مجموعے میں سے لے کر بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں جنہیں سن کر ہر شخص بڑی آسانی  کے ساتھ یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ ایک قسم کی خصوصیات کس طرزِ زندگی کی نمائندگی کرتی ہیں اور دوسری قسم کی خصوصیات اُس کے بر عکس کس دوسرے طرزِ زندگی کی علامات ہیں۔ یہ دونوں نمونے ایسے چھوٹے چھوٹے خوبصورت جچے تُلے فقروں میں بیان کیے گئے ہیں کہ سنتے ہی آدمی کے دل میں اتر جائیں اور زبان پر چڑھ جائیں۔پہلی قسم کی خصوصیات یہ ہیں کہ آدمی مال دے ، خدا ترسی و پرہیز گاری اختیار کرے اور بھلائی کو بھلائی مانے۔ دوسری قسم کی خصوصیات یہ ہیں کہ وہ بخل کرے، خدا کی رضا اور ناراضی کی فکر سے بے پروا ہو جائے اور بھلی بات کو جھُٹلا دے۔ پھر بتایا گیا کہ یہ دو طرزِ عمل جو صریحًا ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اپنے نتائج کے اعتبار سے ہر گز یکساں نہیں ہیں، بلکہ جس قدر یہ اپنی نوعیت میں متضاد ہیں اسی قدر اِن کے نتائج بھی متضاد ہیں۔ پہلے طرزِ عمل کو جو شخص یا گروہ اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے زندگی کے صاف اور سیدھے راستے کو سہل کر دے گا یہاں تک کہ اس کے لیے نیکی کرنا آسان اور بدی کرنا مشکل ہو جائے گا ۔ اور دوسرے طرزِ عمل کو جو بھی اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے زندگی کے بِکَٹ اور سخت راستے کو سہل کر دے گا یہاں تک کہ اس کے لیے بد آسان اور نیکی مشکل ہو جائے گی۔ اِس بیان کو ایک نہایت مؤثر اور تیر کی طرح دل میں پیوست ہو جانے والے جملے پر ختم کیا گیا ہے کہ دنیا کا یہ مال جس کے پیچھے آدمی جان دیے دیتا ہے ، آخر قبر میں تو اُس کے ساتھ جانے والا نہیں ہے ، مرنے کے بعد یہ اُس کے کس کام آئے گا؟

دوسرے حصّے میں بھی اِسی اختصار کے ساتھ تین حقیقتیں بیان کی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ اللہ نے  دنیا کی اِس امتحان گاہ میں انسان کو بے خبر نہیں چھوڑا ہے بلکہ اُس نے یہ بتا دینا اپنے ذمّہ لیا ہے کہ زندگی کے مختلف راستوں میں سے سیدھا راستہ کو ن سا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ کہنے کی ضرورت نہ تھی کہ اپنا رسول اور اپنی کتاب بھیج کر اُس نے اپنی یہ ذمہ داری ادا کردی ہے ، کیونکہ رسول ؐ اور قرآن، دونوں ہدایت دینے کے لیے سب کے سامنے موجود تھے۔ دوسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں کا مالک اللہ ہی ہے۔ دنیا مانگو گے تو بھی اسی سے ملے گی اور آخرت مانگو گے تو اس کا دینے والا بھی وہی ہے۔ یہ فیصلہ کرنا تمہارا  اپنا کام ہے کہ تم اُس سے کیا مانگتے ہو۔ تیسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ جو بدبخت اُس بھلائی کو جُھٹلائے گا جسے رسول اور کتاب کے ذریعہ سے پیش کیا جا رہا ہے ، اور اُس سے منہ پھیرے گا اُس کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار ہے۔ اور جو خدا ترس آدمی پوری بے غرضی کے ساتھ محض اپنے ربّ کی رضا جوئی کی خاطر اپنا مال راہِ خیر میں صرف کرے گا اُس کا ربّ اُس سے راضی ہو گا اور اسے اتنا کچھ دے گا کہ وہ خوش ہو جائے گا۔

ماخذ: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Loading…

سورۃ اللیل کی تمام آیات — عربی متن اور اردو ترجمہ

لفظی ترجمہ، تلفظ اور تفسیر کے لیے کوئی بھی آیت کھولیں۔
  1. 92:1وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰقسم ہے رات کی جب چھا جائے.
  2. 92:2وَٱلنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰاور قسم ہے دن کی جب روشن ہو.
  3. 92:3وَمَا خَلَقَ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓاور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر وماده کو پیدا کیا.
  4. 92:4إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰیقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے.
  5. 92:5فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَٱتَّقَىٰجس نے دیا (اللہ کی راه میں) اور ڈرا (اپنے رب سے).
  6. 92:6وَصَدَّقَ بِٱلْحُسْنَىٰاور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا.
  7. 92:7فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْيُسْرَىٰتو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے.
  8. 92:8وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسْتَغْنَىٰلیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی.
  9. 92:9وَكَذَّبَ بِٱلْحُسْنَىٰاور نیک بات کی تکذیب کی.
  10. 92:10فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْعُسْرَىٰتو ہم بھی اس کی تنگی ومشکل کے سامان میسر کر دیں گے.
  11. 92:11وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُۥٓ إِذَا تَرَدَّىٰٓاس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا.
  12. 92:12إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰبیشک راه دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے.
  13. 92:13وَإِنَّ لَنَا لَلَْٔاخِرَةَ وَٱلْأُولَىٰاور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے.
  14. 92:14فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰمیں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے.
  15. 92:15لَا يَصْلَىٰهَآ إِلَّا ٱلْأَشْقَىجس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا.
  16. 92:16ٱلَّذِى كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰجس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منھ پھیر لیا.
  17. 92:17وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلْأَتْقَىاور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا.
  18. 92:18ٱلَّذِى يُؤْتِى مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰجو پاکی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال دیتا ہے.
  19. 92:19وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰٓکسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو.
  20. 92:20إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ ٱلْأَعْلَىٰبلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کے لئے.
  21. 92:21وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰیقیناً وه (اللہ بھی) عنقریب رضامند ہو جائے گا.
سورۃ سنیںMishary Alafasy