۷۳. سورۃ المزمل
کپڑا لپیٹنے والا
ٱلْمُزَّمِّل

سورۃ المزمل

کپڑا لپیٹنے والا
۲۰ آیاتمکی

سورۃ المزمل (المزمل، معنی: کپڑا لپیٹنے والا) قرآن کی ۷۳ویں سورۃ ہے۔ یہ مکی سورۃ ہے جس میں ۲۰ آیات ہیں، اور یہ پارہ ۲۹ میں مدنی مصحف کے صفحہ ۵۷۴ سے شروع ہوتی ہے۔

سورۃ المزمل کا تعارف

نام :

پہلی آیات کے لفظ

المُزّمِّل

کو اس سُورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف نام ہے اس کے مضامین کا عنوان نہیں ہے۔

زمانۂ نزول :

اس سورۃ کے دو رکوع دو الگ زمانوں میں نازل ہوئے ہیں۔

پہلا رکُوع بالاتفاق مکّی ہے۔ اس کے مضامین اوراحادیث کی روایات دونوں سے یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ مکّی زندگی کے کس دور میں نازل ہوا ہے، اِس کا جواب ہمیں روایات سے تو نہیں ملتا، لیکن اِس رکوع کے مضامین کی داخلی شہادت اِس کا زمانہ متعین کرنے میں بڑی مدد دیتی ہے:

اوّلاً، اِس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ آپ راتوں کواٹھ کر اللہ کی عبادت کیا کریں تا کہ آپ کے اندر نبوّت کے بارِ عظیم کو اٹھانے اوراس کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی قوت پیدا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم حضورؐ کی نبوت کے ابتدائی دور ہی میں نازل ہوا ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِس منصب کے لیے آپ کی تربیت کی جا رہی تھی۔

ثانیاً، اِس میں حکم دیا گیا ہے کہ نمازِ تہّجد میں آدھی آدھی رات یا اس سے کچھ کم و بیش قرآن مجید کی تلاوت کی جائے۔ یہ ارشاد خود بخود اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اُس وقت قرآن مجید کا کم از کم اتنا حصّہ نازل ہو چکا تھا کہ اس کی طویل قرأت کی جا سکے۔

ثالثاً ، اِس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخالفین کی زیادیتوں پر صبر کی تلقین کی گئی ہے اور کفّارِ مکّہ کو عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رکوع اُس زمانے میں نازل ہوا ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی عَلانیہ تبلیغ شروع کر چکے تھے اور مکّہ میں آپ کی مخالفت زور پکڑ چکی تھی۔

دوسرے رکوع کے متعلق اگرچہ بہت سے مفسّرین نے یہ خیا ل ظاہر کیا ہے کہ وہ بھی مکہ ہی میں نازل ہوا ہے، لیکن بعض دوسرے مفسرین نے اسے مدنی قرار دیا ہے، اور اس رکوع کے مضامین سے اِسی خیا ل کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ اس میں قتال فی سبیل اللہ کا ذکر ہے، اور ظاہر ہے کہ مکہ میں اس کا کوئی سوال پیدا نہ ہوتا تھا، اور اس میں فرض زکوٰۃ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، اور یہ بات ثابت ہے کہ زکوٰۃ ایک مخصوص شرح اور نصاب کے ساتھ مدینہ میں فرض ہوئی ہے۔        

موضوع اور مضامین:

پہلی سات آیات میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ جس کارِ عظیم کا بار آپ پر ڈالا گیا ہے اس کی ذمّہ داریاں سنبھالنے کے لیے آپ اپنے آپ کو تیار کریں، اور اُس کی عملی صورت یہ بتائی گئی ہےکہ راتوں کو اُٹھ کر آپ آدھی آدھی رات، یا اس سے کچھ کم و بیش نماز پڑھا کریں۔

آیت ۸ سے ۱۴ تک حضورؐ کو تلقین کی گئی ہے کہ سب سے کٹ کر اُس خدا کے ہور میں  جو ساری کائنات کا مالک ہے۔ اپنے سارے معاملات اُسی کے سُپرد کرکے مطمئن ہو جائیں۔ مخالفین جو باتین آپ کے خلاف بنا رہے ہیں ان ر صبر کریں، اُن کے منہ نہ لگیں اور ان کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیں کہ وہی اُن سے نمٹ لے گا۔

اس کے بعد آیات ۱۴ سے ۱۹ تک مکّہ کے اُن لوگوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کر رہے تھے، مُتَنَبِّہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اُسی طرح تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جس طرح فرعون کی طرف بھیجا تھا، پھر دیکھ لو کہ جب فرعون نے اللہ کے رسول کی بات نہ مانی تو وہ کس انجام سے دو چار ہوا۔ اگر فرض کر لو کہ دنیا میں تم پر کوئی عذاب نہ آیا تو قیامت کے روز تم کفر کی سزا سے کیسے بچ نکلو گے؟

          یہ پہلے رکوع کے مضامین ہیں۔ دوسرا رکوع حضرت سعید بن جُبیَر کی روایت کے مطابق اُس کے دس سال بعد نازل ہوا اور اس میں نمازِ تہجّد کے متعلق اُس ابتدائی حکم کے اندر تخفیف کر دی گئی جو پہلے رکوع کے آغاز میں دیا گیا تھا ۔ اب یہ حکم دیا گیا کہ جہاں تک تہجّد کی نماز کا تعلق ہے وہ تو جتنی بآسانی پڑھی جا سکے پڑھ لیا کرو، لیکن مسلمانوں کو اصل اہتمام جس چیز کا کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ پنجوقتہ فرض نماز پُوری پا بندی کے ساتھ قائم رکھیں، فریضہ زکوٰۃ ٹھیک ٹھیک ادا کرتے رہیں اور اللہ کی راہ میں اپنا مال خلوصِ نیت کے ساتھ صرف کریں۔ آخر میں مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ جو بھلائی کے کام تم دنیا میں انجام دو گے وہ ضائع نہیں جائیں گے بلکہ اُن کی حیثیت اُس سامان کی سی ہے جو ایک مسافر اپنی مستقل قیام گاہ پرپہلے سے بھیج دیتا ہے۔ اللہ کے ہاں پہنچ کر تم وہ سب کچھ موجود پاِؤ گے جو دنیا میں تم نے آگے روانہ کیا ہے ، اور پیشگی سامان نہ صرف یہ کہ اُس سامان سے بہت بہتر ہے جو تمہیں دنیا میں چھوڑ جانا ہے، بلکہ اللہ کے ہاں تمہیں اپنے بھیجے ہوئے اصل مال سے بڑھ کر بہت بڑا اجر بھی ملے گا۔

ماخذ: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Loading…

سورۃ المزمل کی تمام آیات — عربی متن اور اردو ترجمہ

لفظی ترجمہ، تلفظ اور تفسیر کے لیے کوئی بھی آیت کھولیں۔
  1. 73:1يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمُزَّمِّلُاے کپڑے میں لپٹنے والے.
  2. 73:2قُمِ ٱلَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًارات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہوجاؤ مگر کم.
  3. 73:3نِّصْفَهُۥٓ أَوِ ٱنقُصْ مِنْهُ قَلِيلًاآدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرلے.
  4. 73:4أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ ٱلْقُرْءَانَ تَرْتِيلًایا اس پر بڑھا دے اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (صاف) پڑھا کر.
  5. 73:5إِنَّا سَنُلْقِى عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًایقیناً ہم تجھ پر بہت بھاری بات عنقریب نازل کریں گے.
  6. 73:6إِنَّ نَاشِئَةَ ٱلَّيْلِ هِىَ أَشَدُّ وَطًْٔا وَأَقْوَمُ قِيلًابیشک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لیے انتہائی مناسب ہے اور بات کو بہت درست کر دینے واﻻ ہے.
  7. 73:7إِنَّ لَكَ فِى ٱلنَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًایقیناً تجھے دن میں بہت شغل رہتا ہے.
  8. 73:8وَٱذْكُرِ ٱسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًاتو اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کر اور تمام خلائق سے کٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوجا.
  9. 73:9رَّبُّ ٱلْمَشْرِقِ وَٱلْمَغْرِبِ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَٱتَّخِذْهُ وَكِيلًامشرق ومغرب کا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کار ساز بنالے.
  10. 73:10وَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًااور جو کچھ وه کہیں تو سہتا ره اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ تھلگ ره.
  11. 73:11وَذَرْنِى وَٱلْمُكَذِّبِينَ أُو۟لِى ٱلنَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًااور مجھے اور ان جھٹلانے والے آسوده حال لوگوں کو چھوڑ دے اور انہیں ذرا سی مہلت دے.
  12. 73:12إِنَّ لَدَيْنَآ أَنكَالًا وَجَحِيمًایقیناً ہمارے ہاں سخت بیڑیاں ہیں اور سلگتی ہوئی جہنم ہے.
  13. 73:13وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًااور حلق میں اٹکنے واﻻ کھانا ہے اور درد دینے واﻻ عذاب ہے.
  14. 73:14يَوْمَ تَرْجُفُ ٱلْأَرْضُ وَٱلْجِبَالُ وَكَانَتِ ٱلْجِبَالُ كَثِيبًا مَّهِيلًاجس دن زمین اور پہاڑ تھرتھرا جائیں گے اور پہاڑ مثل بھربھری ریت کے ٹیلوں کے ہوجائیں گے.
  15. 73:15إِنَّآ أَرْسَلْنَآ إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَٰهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَآ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًابیشک ہم نے تمہاری طرف بھی تم پر گواہی دینے واﻻ رسول بھیج دیا ہے جیسے کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا.
  16. 73:16فَعَصَىٰ فِرْعَوْنُ ٱلرَّسُولَ فَأَخَذْنَٰهُ أَخْذًا وَبِيلًاتو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے سخت (وبال کی) پکڑ میں پکڑ لیا.
  17. 73:17فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِن كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ ٱلْوِلْدَٰنَ شِيبًاتم اگر کافر رہے تو اس دن کیسے پناه پاؤ گے جو دن بچوں کو بوڑھا کردے گا.
  18. 73:18ٱلسَّمَآءُ مُنفَطِرٌۢ بِهِۦ ۚ كَانَ وَعْدُهُۥ مَفْعُولًاجس دن آسمان پھٹ جائے گا اللہ تعالیٰ کا یہ وعده ہو کر ہی رہنے واﻻ ہے.
  19. 73:19إِنَّ هَٰذِهِۦ تَذْكِرَةٌ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلًابیشک یہ نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راه اختیار کرے.
  20. 73:20۞ إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَىِ ٱلَّيْلِ وَنِصْفَهُۥ وَثُلُثَهُۥ وَطَآئِفَةٌ مِّنَ ٱلَّذِينَ مَعَكَ ۚ وَٱللَّهُ يُقَدِّرُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ ۚ عَلِمَ أَن لَّن تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَٱقْرَءُوا۟ مَا تَيَسَّرَ مِنَ ٱلْقُرْءَانِ ۚ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَىٰ ۙ وَءَاخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِى ٱلْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ ۙ وَءَاخَرُونَ يُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ فَٱقْرَءُوا۟ مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَقْرِضُوا۟ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا۟ لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۚ وَٱسْتَغْفِرُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌۢآپ کا رب بخوبی جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت قریب دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے تہجد پڑھتی ہے اور رات دن کا پورا اندازه اللہ تعالیٰ کو ہی ہے، وه (خوب) جانتا ہے کہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سکو گے پس اس نے تم پر مہربانی کی لہٰذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو اتنا ہی پڑھو، وه جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے، بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کا فضل (یعنی روزی بھی) تلاش کریں گے اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد بھی کریں گے، سو تم بہ آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ﺛواب میں بہت زیاده پاؤ گے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ. مہربان ہے
سورۃ سنیںMishary Alafasy