۷۵. سورۃ القیامہ
قیامۃ
ٱلْقِيَامَة

سورۃ القیامہ

قیامۃ
۴۰ آیاتمکی

سورۃ القیامہ (القيامة، معنی: قیامۃ) قرآن کی ۷۵ویں سورۃ ہے۔ یہ مکی سورۃ ہے جس میں ۴۰ آیات ہیں، اور یہ پارہ ۲۹ میں مدنی مصحف کے صفحہ ۵۷۷ سے شروع ہوتی ہے۔

سورۃ القیامہ کا تعارف

نام :

  

پہلی ہی آیت کے  لفظ اَلْقِیٰمَۃ

کو اس سُورہ کا نام قرار دیا گیا ہے ، اور یہ صرف نام ہی نہیں ہے۔بلکہ اس سُورہ کا عنوان بھی ہے۔ کیونکہ اس میں قیامت ہی پر بحث کی گئی ہے۔

زمانۂ نزول :

     اگرچہ  کسی روایت سے اِس کا زمانہ نزول معلوم نہیں ہوتا ، لیکن اِس کے مضمون میں ایک داخلی شہادت ایسی موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل ابتدائی زمانہ کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔ آیت ۱۵ کے بعد یکایک سلسلہ کلام توڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا جاتا ہے کہ”اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو، اِس کو یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمّہ ہے، لہٰذا جب ہم اِسے پڑھ رہے ہوں اس وقت تم اس کی قرأت کو غور سے سنتے رہو، پھر اس کا مطلب سمجھا دنیا بھی ہمارے ہی ذمّہ ہے“۔ اس کے بعد آیت ۲۰ سے پھر وہی مضمون شروع ہوجاتا ہے جو ابتدا سے آیت ۱۵ تک چلا آ رہا تھا۔ یہ جملہ معترضہ اپنے موقع و محل سے بھی اور روایات کی رُو سے بھی اِس بنا پر دورانِ کلام میں وارد ہوا ہے کہ جس وقت حضرت جبریلؑ  یہ سورہ حضورؐ کو سنا رہے تھے اُس وقت آپ اِس اندیشے سے کہ کہیں بعد میں  بھول نہ جائیں، اس کے الفاظ اپنی زبان مبارک سے دُہراتے جا رہے تھے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ  یہ واقعہ اُس زمانہ کا ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نزولِ وحی کا نیا نیا تجربہ ہو رہا تھا اور ابھی آپ کو وحی اخذ کرنے کی عادت اچھی طرح نہیں پڑی تھی۔ قرآن مجید میں اس کی دو مثالیں اور بھی ملتی ہیں۔ ایک سورہ طٰہٰ میں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا  ہے

وَلاَ تَجْعَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰیٓ اِلَیْکَ وَحْیُہٗ،

”اور دیکھو، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تمہاری طرف اس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے“(آیت۱۱۴)۔دوسرے سورہ اعلیٰ میں جہاں حضور ؐ  کو اطمینان دلا یا گیا ہے کہ سَنُقْرِ ئُکَ فَلاَ تَنْسیٰ،”ہم عنقریب تم کو پڑھو ا دینگے پھر تم بھولو گے نہیں“(آیت۶)۔ بعد میں جب حضور ؐ کو وحی اخذ کرنے کی اچھی طرح مشق ہو گئی تو اِس طرح کی ہدایات دینے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اسی لیے قرآن میں اِن تین مقامات کے سوا اِس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔

موضوع اور مضمون:

      یہاں سے آخرِ کلام اللہ تک جو سُورتیں پائی جاتی ہیں ان میں سے اکثر اپنے مضمون اور انداز بیان سے اُس زمانہ کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہیں جب سورہ مُدثِّر کی ابتدائی سات آیات کے بعد نزول قرآن کا سلسلہ بارش کی طرح شروع ہوا اور پے در پے نازل ہونے والی سُورتوں میں ایسے پُرزور اور مؤثر طریقہ سے نہایت جامع اور مختصر فقروں میں اسلام اور اس کے بنیادی عقائد اور اخلاقی تعلیمات کو پیش کیا گیا اور اہل مکہ کو ان کی گمراہیوں پر متنبہ کیا گیا جس سے قریش کے سردار بَوکھلا گئے اور پہلا حج آنے سے پہلے حضورؐ کو زک دینے کی تدبیریں سوچنے کے لیے انہوں نے وہ کانفرنس منعقد کی جس کا ذکر ہم سورہ مدّثِر کے دیباچہ میں کر چکے ہیں۔

اس سُورہ میں منکرینِ آخرت کو خطاب کر کے ان کے ایک ایک شبہ اور ایک ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے، بڑے مضبوط دلائل کے ساتھ قیامت اور آخرت کے امکان، وقوع اور وجوب کا ثبوت دیا گیا ہے، اور یہ بھی صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ جو لوگ بھی آخرت کا انکا ر کرتے ہیں  ان کے انکار کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کی عقل اسے ناممکن سمجھتی ہے، بلکہ اس کا اصل محِرّک یہ ہے کہ ان کی خوا ہشاتِ نفس اسے ماننا نہیں چاہتیں۔ اس کے ساتھ لوگوں کو خبر دار کر دیا گیا ہے کہ جس وقت کے آنے کا تم انکار کر رہے ہو وہ آکر رہے گا، تمہارا سب کیا دھرا تمہارے سامنے لا کر رکھ دیا جائے گا، اور حقیقت میں تو اپنا نامہ اعمال دیکھنے سے بھی پہلے تم میں سے ہر شخص  کو خود معلوم ہوگا کہ وہ دنیا میں کیا کر کے آیا ہے، کیونکہ کوئی شخص بھی اپنے آپ سے ناواقف نہیں ہوتا، خواہ وہ دنیا کو بہکانے اور اپنے ضمیر کو بہلانے کے لیے اپنی حرکات کے لیے کتنے ہی بہانے اور عذرات تراشتا رہے۔

ماخذ: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Loading…

سورۃ القیامہ کی تمام آیات — عربی متن اور اردو ترجمہ

لفظی ترجمہ، تلفظ اور تفسیر کے لیے کوئی بھی آیت کھولیں۔
  1. 75:1لَآ أُقْسِمُ بِيَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِمیں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی.
  2. 75:2وَلَآ أُقْسِمُ بِٱلنَّفْسِ ٱللَّوَّامَةِاور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے واﻻ ہو.
  3. 75:3أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَٰنُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُۥکیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں.
  4. 75:4بَلَىٰ قَٰدِرِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّسَوِّىَ بَنَانَهُۥہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں.
  5. 75:5بَلْ يُرِيدُ ٱلْإِنسَٰنُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُۥبلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے.
  6. 75:6يَسَْٔلُ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلْقِيَٰمَةِپوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا.
  7. 75:7فَإِذَا بَرِقَ ٱلْبَصَرُپس جس وقت کہ نگاه پتھرا جائے گی.
  8. 75:8وَخَسَفَ ٱلْقَمَرُاور چاند بے نور ہو جائے گا.
  9. 75:9وَجُمِعَ ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُاور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے.
  10. 75:10يَقُولُ ٱلْإِنسَٰنُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ ٱلْمَفَرُّاس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟
  11. 75:11كَلَّا لَا وَزَرَنہیں نہیں کوئی پناہ گاه نہیں.
  12. 75:12إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمُسْتَقَرُّآج تو تیرے پروردگار کی طرف ہی قرار گاه ہے.
  13. 75:13يُنَبَّؤُا۟ ٱلْإِنسَٰنُ يَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَآج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاه کیا جائے گا.
  14. 75:14بَلِ ٱلْإِنسَٰنُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ بَصِيرَةٌبلکہ انسان خود اپنے اوپر آپ حجت ہے.
  15. 75:15وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُۥاگر چہ کتنے ہی بہانے پیش کرے.
  16. 75:16لَا تُحَرِّكْ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِۦٓ(اے نبی) آپ قرآن کو جلدی (یاد کرنے) کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں.
  17. 75:17إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُۥ وَقُرْءَانَهُۥاس کا جمع کرنا اور (آپ کی زبان سے) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے.
  18. 75:18فَإِذَا قَرَأْنَٰهُ فَٱتَّبِعْ قُرْءَانَهُۥہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں.
  19. 75:19ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُۥپھر اس کا واضح کر دینا ہمارے ذمہ ہے.
  20. 75:20كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ ٱلْعَاجِلَةَنہیں نہیں تم جلدی ملنے والی (دنیا) کی محبت رکھتے ہو.
  21. 75:21وَتَذَرُونَ ٱلَْٔاخِرَةَاور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو.
  22. 75:22وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌاس روز بہت سے چہرے تروتازه اور بارونق ہوں گے.
  23. 75:23إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌاپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے.
  24. 75:24وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌاور کتنے چہرے اس دن (بد رونق اور) اداس ہوں گے.
  25. 75:25تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌسمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے واﻻ معاملہ کیا جائے گا.
  26. 75:26كَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَاقِىَنہیں نہیں جب روح ہنسلی تک پہنچے گی.
  27. 75:27وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍاور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک کرنے واﻻ ہے؟
  28. 75:28وَظَنَّ أَنَّهُ ٱلْفِرَاقُاور جان لیا اس نے کہ یہ وقت جدائی ہے.
  29. 75:29وَٱلْتَفَّتِ ٱلسَّاقُ بِٱلسَّاقِاور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی.
  30. 75:30إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمَسَاقُآج تیرے پروردگار کی طرف چلنا ہے.
  31. 75:31فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰاس نے نہ تو تصدیق کی نہ نماز ادا کی.
  32. 75:32وَلَٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰبلکہ جھٹلایا اور روگردانی کی.
  33. 75:33ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ يَتَمَطَّىٰٓپھر اپنے گھر والوں کے پاس اتراتا ہوا گیا.
  34. 75:34أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰافسوس ہے تجھ پر حسرت ہے تجھ پر.
  35. 75:35ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰٓوائے ہے اور خرابی ہے تیرے لیے.
  36. 75:36أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَٰنُ أَن يُتْرَكَ سُدًىکیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا.
  37. 75:37أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَىٰکیا وه ایک گاڑھے پانی کا قطره نہ تھا جو ٹپکایا گیا تھا؟
  38. 75:38ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰپھر وه لہو کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست بنا دیا.
  39. 75:39فَجَعَلَ مِنْهُ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓپھر اس سے جوڑے یعنی نر وماده بنائے.
  40. 75:40أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحِْۧىَ ٱلْمَوْتَىٰکیا (اللہ تعالیٰ) اس (امر) پر قادر نہیں کہ مردے کو زنده کردے.
سورۃ سنیںMishary Alafasy