۵۶. سورۃ الواقعہ
واقعہ ہونے والی قیامت
ٱلْوَاقِعَة

سورۃ الواقعہ

واقعہ ہونے والی قیامت
۹۶ آیاتمکی

سورۃ الواقعہ (الواقعة، معنی: واقعہ ہونے والی قیامت) قرآن کی ۵۶ویں سورۃ ہے۔ یہ مکی سورۃ ہے جس میں ۹۶ آیات ہیں، اور یہ پارہ ۲۷ میں مدنی مصحف کے صفحہ ۵۳۴ سے شروع ہوتی ہے۔

سورۃ الواقعہ کا تعارف

نام:

پہلی ہی آیت کے لفظ اَلْواقِعَہ کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول:

حضرت عبداللہ بن عباس کے سورتوں کی جو ترتیب نزول بیان کی ہے اس میں وہ فرما رہے ہیں کہ پہلے سورہ طٰہٰ نازل ہوئی، پھر الواقعہ اور اس کے بعد الشعراء(الاتْقان للسُّیوطی)۔ یہی ترتیب عکرمہ نے بھی بیان کی ہے (بیہقی، دلائل النبوۃ)۔

اس کی تائید اس قصہ سے بھی ہوتی ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے بارے میں ابن ہشام نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔ اس میں یہ ذکر آتا ہے کہ جب حضرت عمرؓ اپنی بہن کے گھر میں داخل ہوئے تو سورہ طٰہٰ پڑھی جا رہی تھی۔ ان کی آہٹ سن کر ان لوگوں کو قرآن کے اوراق چھپا دیے۔ حضرت عمرؓ پہلے تو بہنوئی پر پِل پڑے اور جب بہن ان کو بچانے آئیں تو ان کو بھی مارا یہاں تک کہ ان سر پھٹ گیا۔ بہن کا خون بہتے دیکھ کر حضرت عمرؓ کو سخت ندامت ہوئی،اور انہوں نے کہا، اچھا مجھے وہ صحیفہ دکھاؤ جسے تم نے چھپا لیا ہے۔ دیکھوں تو سہی اس میں کیا لکھا ہے۔ بہن نے کہا ’’آپ اپنے شرک کی وجہ سے نجس ہیں، وانہٗ لا یمسھا الا اطاھر

، ’’ اس صحیفے کو صرف طاہر آدمی ہی ہاتھ لگا سکتا ہے ‘‘۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اٹھ کر غسل کیا اور پھر اس صحیفے کو لے کر پڑھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت سورہ واقعہ نازل ہو چکی تھی، کیونکہ اسی میں آیت

لا یمسہ الا المطھرون

وارد ہوئی ہے۔ اور یہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ ہجرت حبشہ کے بعد 5 نبوی میں ایمان لائے ہیں۔

موضوع اور مضمون:

 اس کا موضوع آخرت، توحید اور قرآن کے متعلق کفار مکہ کے شبہات کی تردید ہے۔ وہ سب سے زیادہ جس چیز کو ناقابل یقین قرار دیتے تھے وہ یہ تھی کہ کبھی قیامت بر پا ہوگی جو میں زمین و آسمان کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور پھر تمام مزے ہوئے انسان دوبارہ جِلا اٹھائے  جائیں گے اور ان کا محاسبہ ہو گا اور  نیک انسان جنت کے باغوں میں رکھے جائیں گے اور گناہ گار انسان دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں جن کا عالم واقعہ میں پیش آنا غیر ممکن ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ جب وہ واقعہ پیش آ جائے گا اس وقت کوئی یہ جھوٹ بولنے والا نہ ہو گا کہ وہ پیش نہیں آیا ہے، نہ کسی کی یہ طاقت ہو گی کہ اسے آتے آتے روک دے، یا واقعہ سے غیر واقعہ بنا دے۔ اس وقت لازماً تمام انسان تین طبقات میں تقسیم ہو جائیں گے۔ ایک، سابقین۔ دوسرے، عام صالحین، تیسرے وہ لوگ جو آخرت کے منکر رہے اور مرتے دم تک کفر و شرک اور گناہ کبیرہ پر جمے رہے۔ ان تینوں طبقات کے ساتھ جو معاملہ ہو گا اسے تفصیل کے ساتھ آیت 7 سے 56 تک بیان کیا گیا ہے۔

اس کے بعد آیت 57 سے آیت 74 تک اسلام کے ان دونوں بنیادی عقائد کی صداقت پر پے درپے دلائل دیے گئے ہیں جن کو ماننے کفار انکار کر رہے تھے، یعنی توحید اور آخرت۔ان دلائل میں زمین و آسمان کی دوسری تمام چیزوں کو چھوڑ کر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی طرف اور اس غذا کی طرف جسے وہ کھاتا ہے اور اس پانی کی طرف جسے وہ پیچا ہے اور اس آگ کی طرف جس سے وہ اپنا کھانا پکاتا ہے، توجہ دلائی گئی ہے۔ اور اسے اس سوال پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ تو جس خدا کے بنانے سے بنا ہے اور جس کے دیے ہوئے سامان زیست پر پل رہا ہے اس کے مقابلے  میں خود مختار ہونے، یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی بجا لانے کا آخر تجھے حق کیا ہے؟ اور اس کے متعلق تو نے یہ کیسے گمان کر لیا کہ وہ ایک دفعہ تجھے وجود میں لے آنے کے بعد ایسا عاجز و درماندہ ہو جاتا ہے کہ دوبارہ تجھ کو وجود میں لانا چاہے بھی تو نہیں لا سکتا؟

پھر آیت 75 سے 82 تک قرآن کے بارے میں ان کے شکوک کی تردید کی گئی ہے اور ان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ بد نصیبو، یہ عظیم الشان نعمت تمہارے پاس آئی ہے اور تم نے اپنا حصہ اس نعمت میں یہ رکھا ہے کہ اسے جھٹلاتے ہو اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹی بے اعتنائی برتتے ہو۔ قرآن کی صداقت پر دو مختصر سے فقروں میں یہ بے نظیر دلیل پیش کی گئی ہے کہ اس پر کوئی غور کرے تو اس کے اندر ویسا ہی محکم نظام پائے گا جیسا کائنات کے تاروں اور سیاروں کا نظام محکم ہے، اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا مصنف وہی ہے جس نے کائنات کا یہ نظام بنایا ہے۔ پھر کفار سے کہا گیا ہے کہ یہ کتاب اس نوشتہ تقدیر میں ثبت ہے جو مخلوقات کی دست رس سے باہر ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ اسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس شیاطین لاتے ہیں، حالانکہ لوح محفوظ سے محمد صلی اللہ علیہ و سلم تک جس ذریعہ سے یہ پہنچتی ہے اس میں پاک نفس فرشتوں کے سوا کسی کا ذرہ برابر بھی کوئی دخل نہیں ہے۔

 آخر میں انسان کو بتایا گیا ہے کہ تو کتنی ہی لن ترانیاں ہانکے اور اپنی خود مختاری کے گھمنڈ میں کتنا ہی حقائق کی طرف سے اندھا ہو جائے، مگر موت کا وقت تیری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ اس وقت تو بالکل بے بس ہوتا ہے۔اپنے ماں باپ کو نہیں بچا سکتا۔اپنی اولاد کو نہیں بچا سکتا۔ اپنے پیروں اور پیشواؤں اور محبوب ترین لیڈروں کو نہیں بچا سکتا۔ سب تیری آنکھوں کے سامنے مرتے ہیں اوور تو دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی بالا تر طاقت تیرے اوپر فرمانروا نہیں ہے اور تیرا یہ زعم درست ہے کہ دنیا میں جس تو ہی تو ہے، کوئی خدا نہیں ہے، تو کسی مرنے والے کی نکلتی ہوئی جان کو پلٹا کیوں نہیں لاتا؟ جس طرح تو اس معاملہ میں بے بس ہے اسی طرح خدا کے محاسبے اور اس کی جزا و سزا کو بھی روک دینا تیرے اختیار میں نہیں ہے۔ تو خواہ مانے یا نہ مانے، موت کے بعد ہر مرنے والا اپنا انجام دیکھ کر رہے گا۔ مقربین میں سے ہو تو مقربین کا انجام دیکھے گا۔ صالحین میں سے ہو تو صالحین کا انجام دیکھے گا۔ اور جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہو تو وہ انجام دیکھے گا جو ایسے مجرموں کے لیے مقدر ہے۔

ماخذ: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Loading…

سورۃ الواقعہ کی تمام آیات — عربی متن اور اردو ترجمہ

لفظی ترجمہ، تلفظ اور تفسیر کے لیے کوئی بھی آیت کھولیں۔
  1. 56:1إِذَا وَقَعَتِ ٱلْوَاقِعَةُجب قیامت قائم ہو جائے گی.
  2. 56:2لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌجس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں.
  3. 56:3خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌوه پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی.
  4. 56:4إِذَا رُجَّتِ ٱلْأَرْضُ رَجًّاجبکہ زمین زلزلہ کے ساتھ ہلا دی جائے گی.
  5. 56:5وَبُسَّتِ ٱلْجِبَالُ بَسًّااور پہاڑ بالکل ریزه ریزه کر دیے جائیں گے.
  6. 56:6فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنۢبَثًّاپھر وه مثل پراگنده غبار کے ہو جائیں گے.
  7. 56:7وَكُنتُمْ أَزْوَٰجًا ثَلَٰثَةًاور تم تین جماعتوں میں ہو جاؤ گے.
  8. 56:8فَأَصْحَٰبُ ٱلْمَيْمَنَةِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلْمَيْمَنَةِپس داہنے ہاتھ والے کیسے اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے.
  9. 56:9وَأَصْحَٰبُ ٱلْمَشَْٔمَةِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلْمَشَْٔمَةِاور بائیں ہاتھ والے کیا حال ہے بائیں ہاتھ والوں کا.
  10. 56:10وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلسَّٰبِقُونَاور جو آگے والے ہیں وه تو آگے والے ہی ہیں.
  11. 56:11أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلْمُقَرَّبُونَوه بالکل نزدیکی حاصل کیے ہوئے ہیں.
  12. 56:12فِى جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِنعمتوں والی جنتوں میں ہیں.
  13. 56:13ثُلَّةٌ مِّنَ ٱلْأَوَّلِينَ(بہت بڑا) گروه تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا.
  14. 56:14وَقَلِيلٌ مِّنَ ٱلَْٔاخِرِينَاور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے.
  15. 56:15عَلَىٰ سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍیہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر.
  16. 56:16مُّتَّكِِٔينَ عَلَيْهَا مُتَقَٰبِلِينَایک دوسرے کےسامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے.
  17. 56:17يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَٰنٌ مُّخَلَّدُونَان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رہیں گے آمدورفت کریں گے.
  18. 56:18بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍآبخورے اور جگ لے کر اور ایسا جام لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے پر ہو.
  19. 56:19لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَجس سے نہ سر میں درد ہو نہ عقل میں فتور آئے.
  20. 56:20وَفَٰكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَاور ایسے میوے لیے ہوئے جو ان کی پسند کے ہوں.
  21. 56:21وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَاور پرندوں کے گوشت جو انہیں مرغوب ہوں.
  22. 56:22وَحُورٌ عِينٌاور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں.
  23. 56:23كَأَمْثَٰلِ ٱللُّؤْلُؤِ ٱلْمَكْنُونِجو چھپے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں.
  24. 56:24جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَیہ صلہ ہے ان کے اعمال کا.
  25. 56:25لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًانہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناه کی بات.
  26. 56:26إِلَّا قِيلًا سَلَٰمًا سَلَٰمًاصرف سلام ہی سلام کی آواز ہوگی.
  27. 56:27وَأَصْحَٰبُ ٱلْيَمِينِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلْيَمِينِاور داہنے ہاتھ والے کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے.
  28. 56:28فِى سِدْرٍ مَّخْضُودٍوه بغیرکانٹوں کی بیریوں.
  29. 56:29وَطَلْحٍ مَّنضُودٍاور تہ بہ تہ کیلوں.
  30. 56:30وَظِلٍّ مَّمْدُودٍاور لمبے لمبے سایوں.
  31. 56:31وَمَآءٍ مَّسْكُوبٍاور بہتے ہوئے پانیوں.
  32. 56:32وَفَٰكِهَةٍ كَثِيرَةٍاور بکثرت پھلوں میں.
  33. 56:33لَّا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍجو نہ ختم ہوں نہ روک لیے جائیں.
  34. 56:34وَفُرُشٍ مَّرْفُوعَةٍاور اونچے اونچے فرشوں میں ہوں گے.
  35. 56:35إِنَّآ أَنشَأْنَٰهُنَّ إِنشَآءًہم نے ان کی (بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے.
  36. 56:36فَجَعَلْنَٰهُنَّ أَبْكَارًااور ہم نے انہیں کنواریاں بنا دیا ہے.
  37. 56:37عُرُبًا أَتْرَابًامحبت والیاں اور ہم عمر ہیں.
  38. 56:38لِّأَصْحَٰبِ ٱلْيَمِينِدائیں ہاتھ والوں کے لیے ہیں.
  39. 56:39ثُلَّةٌ مِّنَ ٱلْأَوَّلِينَجم غفیر ہے اگلوں میں سے.
  40. 56:40وَثُلَّةٌ مِّنَ ٱلَْٔاخِرِينَاور بہت بڑی جماعت ہے پچھلوں میں سے.
  41. 56:41وَأَصْحَٰبُ ٱلشِّمَالِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلشِّمَالِاور بائیں ہاتھ والے کیا ہیں بائیں ہاتھ والے
  42. 56:42فِى سَمُومٍ وَحَمِيمٍگرم ہوا اور گرم پانی میں (ہوں گے).
  43. 56:43وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍاورسیاه دھوئیں کے سائے میں.
  44. 56:44لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍجو نہ ٹھنڈا ہے نہ فرحت بخش.
  45. 56:45إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَفِينَبیشک یہ لوگ اس سے پہلے بہت نازوں میں پلے ہوئے تھے.
  46. 56:46وَكَانُوا۟ يُصِرُّونَ عَلَى ٱلْحِنثِ ٱلْعَظِيمِاور بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرتے تھے.
  47. 56:47وَكَانُوا۟ يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَاور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر دوباره اٹھا کھڑے کیے جائیں گے.
  48. 56:48أَوَءَابَآؤُنَا ٱلْأَوَّلُونَاور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟
  49. 56:49قُلْ إِنَّ ٱلْأَوَّلِينَ وَٱلَْٔاخِرِينَآپ کہہ دیجئے کہ یقیناً سب اگلے اور پچھلے.
  50. 56:50لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَٰتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍضرور جمع کئے جائیں گے ایک مقرر دن کے وقت.
  51. 56:51ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا ٱلضَّآلُّونَ ٱلْمُكَذِّبُونَپھر تم اے گمراہو جھٹلانے والو!
  52. 56:52لََٔاكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍالبتہ کھانے والے ہو تھوہر کا درخت.
  53. 56:53فَمَالُِٔونَ مِنْهَا ٱلْبُطُونَاور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہو.
  54. 56:54فَشَٰرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ ٱلْحَمِيمِپھر اس پر گرم کھولتا پانی پینے والے ہو.
  55. 56:55فَشَٰرِبُونَ شُرْبَ ٱلْهِيمِپھر پینے والے بھی پیاسے اونٹوں کی طرح.
  56. 56:56هَٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ ٱلدِّينِقیامت کے دن ان کی مہمانی یہ ہے.
  57. 56:57نَحْنُ خَلَقْنَٰكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے؟
  58. 56:58أَفَرَءَيْتُم مَّا تُمْنُونَاچھا پھر یہ تو بتلاؤ کہ جو منی تم ٹپکاتے ہو.
  59. 56:59ءَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُۥٓ أَمْ نَحْنُ ٱلْخَٰلِقُونَکیا اس کا (انسان) تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں؟
  60. 56:60نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ ٱلْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَہم ہی نے تم میں موت کو متعین کر دیا ہے اور ہم اس سے ہارے ہوئے نہیں ہیں.
  61. 56:61عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَٰلَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِى مَا لَا تَعْلَمُونَکہ تمہاری جگہ تم جیسے اور پیدا کر دیں اور تمہیں نئے سرے سے اس عالم میں پیدا کریں جس سے تم (بالکل) بےخبر ہو.
  62. 56:62وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَتمہیں یقینی طور پر پہلی دفعہ کی پیدائش معلوم ہی ہے پھر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟
  63. 56:63أَفَرَءَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَاچھا پھر یہ بھی بتلاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہو.
  64. 56:64ءَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُۥٓ أَمْ نَحْنُ ٱلزَّٰرِعُونَاسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں.
  65. 56:65لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَٰهُ حُطَٰمًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَاگر ہم چاہیں تواسے ریزه ریزه کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے ہی ره جاؤ.
  66. 56:66إِنَّا لَمُغْرَمُونَکہ ہم پر تو تاوان ہی پڑ گیا.
  67. 56:67بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَبلکہ ہم بالکل محروم ہی ره گئے.
  68. 56:68أَفَرَءَيْتُمُ ٱلْمَآءَ ٱلَّذِى تَشْرَبُونَاچھا یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو.
  69. 56:69ءَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ ٱلْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ ٱلْمُنزِلُونَاسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟
  70. 56:70لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنَٰهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَاگر ہماری منشا ہو تو ہم اسے کڑوا زہر کردیں پھر تم ہماری شکرگزاری کیوں نہیں کرتے؟
  71. 56:71أَفَرَءَيْتُمُ ٱلنَّارَ ٱلَّتِى تُورُونَاچھا ذرا یہ بھی بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو.
  72. 56:72ءَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَآ أَمْ نَحْنُ ٱلْمُنشُِٔونَاس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں؟
  73. 56:73نَحْنُ جَعَلْنَٰهَا تَذْكِرَةً وَمَتَٰعًا لِّلْمُقْوِينَہم نے اسے سبب نصیحت اور مسافروں کے فائدے کی چیز بنایا ہے.
  74. 56:74فَسَبِّحْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلْعَظِيمِپس اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو.
  75. 56:75۞ فَلَآ أُقْسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِپس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی.
  76. 56:76وَإِنَّهُۥ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌاور اگرتمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے.
  77. 56:77إِنَّهُۥ لَقُرْءَانٌ كَرِيمٌکہ بیشک یہ قرآن بہت بڑی عزت واﻻ ہے.
  78. 56:78فِى كِتَٰبٍ مَّكْنُونٍجو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے
  79. 56:79لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُطَهَّرُونَجسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں.
  80. 56:80تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَیہ رب العالمین کی طرف سےاترا ہوا ہے.
  81. 56:81أَفَبِهَٰذَا ٱلْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَپس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو؟
  82. 56:82وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَاور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو.
  83. 56:83فَلَوْلَآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلْحُلْقُومَپس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے.
  84. 56:84وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَاور تم اس وقت آنکھوں سے دیکھتے رہو.
  85. 56:85وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیاده قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے.
  86. 56:86فَلَوْلَآ إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَپس اگر تم کسی کے زیرفرمان نہیں.
  87. 56:87تَرْجِعُونَهَآ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَاور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ.
  88. 56:88فَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَپس جو کوئی بارگاه الٰہی سے قریب کیا ہوا ہوگا.
  89. 56:89فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍاسے تو راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے.
  90. 56:90وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلْيَمِينِاور جو شحص داہنے (ہاتھ) والوں میں سے ہے.
  91. 56:91فَسَلَٰمٌ لَّكَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلْيَمِينِتو بھی سلامتی ہے تیرے لیے کہ تو داہنے والوں میں سے ہے.
  92. 56:92وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلْمُكَذِّبِينَ ٱلضَّآلِّينَلیکن اگر کوئی جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہے.
  93. 56:93فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيمٍتو کھولتے ہوئے گرم پانی کی مہمانی ہے.
  94. 56:94وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍاور دوزخ میں جانا ہے.
  95. 56:95إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ حَقُّ ٱلْيَقِينِیہ خبر سراسر حق اور قطعاً یقینی ہے.
  96. 56:96فَسَبِّحْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلْعَظِيمِپس تواپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر.
سورۃ سنیںMishary Alafasy