۷۱. سورۃ سورہ نوح
نوح
نُوح

سورۃ سورہ نوح

نوح
۲۸ آیاتمکی

سورۃ سورہ نوح (نوح، معنی: نوح) قرآن کی ۷۱ویں سورۃ ہے۔ یہ مکی سورۃ ہے جس میں ۲۸ آیات ہیں، اور یہ پارہ ۲۹ میں مدنی مصحف کے صفحہ ۵۷۰ سے شروع ہوتی ہے۔

سورۃ سورہ نوح کا تعارف

نام :

”نوح“ اس سورة کا نام بھی ہے اور اس کے مضمون کا عنوان بھی، کیونکہ اس میں از اوّل تا آخر حضرت نوح علیہ السلام ہی کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول :

یہ بھی مکہ معظمہ کے ابتدائی در کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے، مگر اس کے مضمون کی داخلی شہادت اس امر کی نشان دہی کرتی ے کہ یہ اُس زمانے میں ناز ل ہوئی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت و تبلیغ کے مقابلہ میں کفارِ مکہ کی مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کر چکی تھی۔

موضوع اور مضمون:

اس میں حضرت نوحؑ کا  قصہ گوئی کی خاطر بیان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اسے مقصود کارِ مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہی رویہ اختیار کر رہے ہو جو حضرت نوحؑ کے ساتھ ان کی قوم نے اختیا ر کیا تھا، اور اس رویے سے اگرتم باز نہ  آئے تو تمہیں بھی وہی انجام دیکھنا پڑے گا جو اُن لوگوں نےدیکھا۔ یہ بات پُوری سورة میں کہیں صاف الفاظ میں نہیں کہی گئی ہے، لیکن جس موقع پراور جن حالات میں یہ قصہ اہل مکہ کوسنایا گیاہے اُس پس منظر میں خود بخود یہ مضمون اِس سے مترشح ہوتا ہے۔

پہلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت نوحؑ کو جب اللہ تعالیٰ نے رسالت کے منصب پر مامور فرمایا تھا اُس وقت کیا خدمت اُن کے سپرد کی گئی تھی۔

آیات ۲۔۴ میں مختصراً یہ بتا یا گیا ہے کہ اُنہوں نے اپنی دعوت کا آغاز کس طرح کیا اور اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے کیا بات پیش کی۔

پھر مدتہائے درازتک دعوت و تبلیغ کی زحمتیں اُٹھانے کے بعد جو رُوداد حضرت نوح ؑ نے اپنے رب کے حضور پیش کی وہ آیات۵۔۲۰ میں بیان کی گئی ہے۔ اس میں وہ عرض کرتے ہیں کہ کس کس طرح انہوں نے اپنی قوم کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کیں اور قوم نے ان کا  مقابلہ کس ہٹ دھرمی سے کیا۔

اس کے بعد حضرت نوحؑ  کی آخری گزارش آیات ۲۱۔۲۴ میں درج کی گئی ہے جس میں وہ  اپنے رب سے عرض کرتے ہیں کہ یہ قوم میری بات قطعی طور پر رد کر چکی ہے، اس نے اپنی تکمیل اپنے رئیسوں کے ہاتھ میں دے دی ہے، اور اُنہوں نے بہت بڑا مکر کا جال پھیلا رکھا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ اِن لوگوں نے ہدایت کی توفیق سلب کر لی جائے۔ یہ حضرت نوحؑ کی طرف سے کسی بے صبری کا مظاہرہ نہ تھا بلکہ صدیوں تک انتہائی صبر آزما حالات میں تبلیغ کا فریضہ انجام دینے کے بعد جب وہ اپنی قوم سے پوری طرح مایوس ہو گئے تو انہوں نے یہ رائے قائم کی کہ اب اس کے قوم کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان باقی نہیں ہے۔ یہ رائے ٹھیک ٹھیک اللہ تعالیٰ کے اپنے فیصلے کے مطابق تھی۔ چنانچہ اس کے متصلاً بعد آیت ۲۵ میں ارشاد ہوا ہے کہ اُس قوم پر اس کے کرتوتوں کی وجہ سے خدا کا عذاب نازل ہوگیا۔

آخری آیات میں نوح علیہ السلام کی وہ دعا درج کی گئی ہے جو انہوں نے عین نزولِ عذاب کے وقت اپنے رب سے مانگی تھی۔ اس میں وہ اپنے لیے اور سب اہلِ ایمان کے لیے مغفرت طلب کر تے ہیں، اور اپنی قوم کے کافروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ ان میں سے کسی کو زمین پر بسنے کے لیے جیتا نہ چھوڑا جائے، کیونکہ ان کے اندر اب کوئی خیر باقی نہیں رہی ہے، ان کی نسل سے جو بھی اٹھے گا کافر اور فاجر ہی اٹھے گا۔

اس سورہ کا مطالعہ کرتے ہوئے حضرت نوحؑ کے قصّے کی وہ تفصیلات نگاہ میں رہنی چاہییں جو اس سے پہلے قرآن مجید میں بیان ہو چکی ہیں۔ ملاحظہ ہو الاعراف، آیات۵۹ تا۶۴۔ یونس،۷۱،۷۳۔ ہود،۲۵تا۴۹۔ المومنون، ۲۳تا ۳۱۔ الشُعراء،۱۰۵تا۱۲۲۔ العنکبوت،۱۴،۱۵۔الصّافات،۷۵تا۸۲۔ القمر،۹تا۱۶۔

ماخذ: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Loading…

سورۃ سورہ نوح کی تمام آیات — عربی متن اور اردو ترجمہ

لفظی ترجمہ، تلفظ اور تفسیر کے لیے کوئی بھی آیت کھولیں۔
  1. 71:1إِنَّآ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦٓ أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌیقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کردو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آجائے.
  2. 71:2قَالَ يَٰقَوْمِ إِنِّى لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میری قوم! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے واﻻ ہوں.
  3. 71:3أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِکہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو اور میرا کہا مانو.
  4. 71:4يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ إِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَتو وه تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقرره تک چھوڑ دے گا۔ یقیناً اللہ کا وعده جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی.
  5. 71:5قَالَ رَبِّ إِنِّى دَعَوْتُ قَوْمِى لَيْلًا وَنَهَارًا(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میرے پرورگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے.
  6. 71:6فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآءِىٓ إِلَّا فِرَارًامگر میرے بلانے سے یہ لوگ اور زیاده بھاگنے لگے.
  7. 71:7وَإِنِّى كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوٓا۟ أَصَٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَٱسْتَغْشَوْا۟ ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ ٱسْتِكْبَارًامیں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا اور اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا.
  8. 71:8ثُمَّ إِنِّى دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاپھر میں نے انہیں بﺂواز بلند بلایا.
  9. 71:9ثُمَّ إِنِّىٓ أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًااور بیشک میں نےان سے علانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی.
  10. 71:10فَقُلْتُ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ إِنَّهُۥ كَانَ غَفَّارًااور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے واﻻ ہے.
  11. 71:11يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًاوه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا.
  12. 71:12وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَٰلٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّٰتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَٰرًااور تمہیں خوب پے درپے مال اور اوﻻد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا.
  13. 71:13مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًاتمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیده نہیں رکھتے.
  14. 71:14وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًاحاﻻنکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے پیدا کیا ہے.
  15. 71:15أَلَمْ تَرَوْا۟ كَيْفَ خَلَقَ ٱللَّهُ سَبْعَ سَمَٰوَٰتٍ طِبَاقًاکیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے ہیں.
  16. 71:16وَجَعَلَ ٱلْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ ٱلشَّمْسَ سِرَاجًااور ان میں چاند کو جگمگاتا بنایا ہے اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے.
  17. 71:17وَٱللَّهُ أَنۢبَتَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ نَبَاتًااور تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے (اور پیدا کیا ہے).
  18. 71:18ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًاپھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور (ایک خاص طریقہ) سے پھر نکالے گا.
  19. 71:19وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ بِسَاطًااور تمہارے لیے زمین کو اللہ تعالیٰ نے فرش بنادیا ہے.
  20. 71:20لِّتَسْلُكُوا۟ مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًاتاکہ تم اس کی کشاده راہوں میں چلو پھرو.
  21. 71:21قَالَ نُوحٌ رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِى وَٱتَّبَعُوا۟ مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُۥ وَوَلَدُهُۥٓ إِلَّا خَسَارًانوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال واوﻻد نے ان کو (یقیناً) نقصان ہی میں بڑھایا ہے.
  22. 71:22وَمَكَرُوا۟ مَكْرًا كُبَّارًااور ان لوگوں نے بڑا سخت فریب کیا.
  23. 71:23وَقَالُوا۟ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًااور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا).
  24. 71:24وَقَدْ أَضَلُّوا۟ كَثِيرًا ۖ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا ضَلَٰلًااور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراه کیا (الٰہی) تو ان ﻇالموں کی گمراہی اور بڑھا.
  25. 71:25مِّمَّا خَطِيَٰٓٔتِهِمْ أُغْرِقُوا۟ فَأُدْخِلُوا۟ نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا۟ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَنصَارًایہ لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے ڈبو دیئے گئے اور جہنم میں پہنچا دیئے گئے اور اللہ کے سوا اپنا کوئی مددگار انہوں نے نہ پایا.
  26. 71:26وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى ٱلْأَرْضِ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ دَيَّارًااور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے واﻻ نہ چھوڑ.
  27. 71:27إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا۟ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓا۟ إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًااگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو (یقیناً) یہ تیرے (اور) بندوں کو (بھی) گمراه کر دیں گے اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں ہی کو جنم دیں گے.
  28. 71:28رَّبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِىَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا تَبَارًۢااے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا.
سورۃ سنیںMishary Alafasy