۸۳. سورۃ المطففین
ناپ تول میں کمی کرنے والے
ٱلْمُطَفِّفِين

سورۃ المطففین

ناپ تول میں کمی کرنے والے
۳۶ آیاتمکی

سورۃ المطففین (المطففين، معنی: ناپ تول میں کمی کرنے والے) قرآن کی ۸۳ویں سورۃ ہے۔ یہ مکی سورۃ ہے جس میں ۳۶ آیات ہیں، اور یہ پارہ ۳۰ میں مدنی مصحف کے صفحہ ۵۸۷ سے شروع ہوتی ہے۔

سورۃ المطففین کا تعارف

نام :

پہلی ہی آیت

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ

سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول :

اس کے اندازِبیان اور مضامین سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے جب اہل مکہ کے ذہن میں آخرت کا عقیدہ بٹھانے کے لیے پے در پے سورتیں نازل ہورہی تھیں، اور اس کا نزول اُس زمانے میں ہوا ہے جب اہل مکہ نے سڑکوں پر، بازاروں میں  اور مجلسو ں میں مسلمانوں پر آوازے کسنے اور ان کی توہین ذنذیل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، مگر ظلم و ستم اور مار پیٹ کا دورا بھی شروع نہیں ہوا تھا۔۔ بعض مفسرین نے اس سورہ کو مدنی قرار دیا ہے۔اِس غلط فہمی کی وجہ دراصل ابن عباسؓ کی یہ روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے تشریف لائے تو یہاں کے لوگوں میں کم ناپنے اور تولنے کا مرض بُری طرح پھیلا ہوا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ

نازل کی اور لو گ بہت اچھی طرح ناپنے تولنے لگے (نسائی، ابن ماجہ، ابن مردویہ، ابن جریر، بیقہی فی شُعَب الایمان)۔ لیکن جیسا کہ اس سے پہلے ہم سورہ دَہر کے دیباچے میں بیان کر چکے ہیں، صحابہ اور تابعین کا یہ عام طریقہ تھا کہ ایک آیت جس معاملہ پر چسپاں ہوتی ہو اس کے متعلق وہ یوں کہا کرتے تھے کہ یہ فلاں معاملہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس لیے ابن عباس کی روایت سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ جب ہجرت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے لوگوں میں یہ بُری عادت پھیلی ہوئی پائی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے یہ سورت ان کو سنائی اور اِس سے اُن کے معاملات درست ہوگئے۔

موضوع اور مضمون:

اس کاموضوع بھی آخرت ہے۔

پہلی چھ آیتوں میں اُس عام بے ایمانی پر گرفت کی گئی ہے جو کاروباری لوگوں میں بکثرت پھیلی ہوئی تھی کہ دوسروں سے لینا ہوتا تھا تو پورا ناپ کر اور تول کر لیتے تھے، مگر جب دوسروں کو دینا ہوتا تو ناپ تول میں ہر ایک کو کچھ نہ کچھ  گھاٹا دیتے تھے۔ معاشرے کی  بے شمار خرابیوں میں سے اِس ایک خرابی  کو، جس کی قباحت سے کوئی انکار نہ کر سکتا تھا، بطورِ مثال لے کر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ آخرت سے غفلت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جب تک لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ایک روز خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور کوڑی کوڑی کا حساب دینا ہے اُس وقت تک یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے معاملات میں کامل راستبازی اختیار کر سکیں۔ کوئی شخص دیانت داری کو”اچھی پالیسی“سمجھ کر بعض چھوٹے چھوٹے معاملات میں دیانت برت بھی لے تو ایسے مواقع پر وہ کبھی دیانت نہیں برت سکتا جہاں بے ایمانی ایک”مفید پالیسی“ثابت ہوتی ہو۔ آدمی کے اندر سچّی اور مستقل دیانت داری اگر پیدا ہو سکتی ہے تو صرف خدا کے خوف اور آخرت پر یقین ہی سے ہو سکتی ہے، کیونکہ اِس صورت میں دیانت ایک ”پالیسی“نہیں بلکہ”فریضہ“قرار پاتی ہے اور آدمی کے اُس پر قائم رہنے یا نہ رہنے کا انحصار دنیا میں اس کے مفید یا غیر مفید ہونے پر نہیں رہتا ۔

اس طر ح اخلاق کے ساتھ عقیدہ آخرت کا تعلق نہایت مؤثر اور دل نشین طریقہ سے واضح کرنے کے بعد آیت ۷ سے ۱۷ تک بتایا گیا ہے کہ بد کار لوگوں کے نامہ اعمال پہلے ہی جرائم پیشہ لوگوں کے رجسٹر(

Black list

) میں درج ہورہے ہیں اور آخرت میں ان کو سخت تباہی سے  دو چار ہونا ہے۔پھرآیت ۱۸ سے۲۸ تک نیک لوگوں کا بہترین انجام بیان کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے اعمال نامے بلند پایہ لوگوں کے رجسٹر میں درج ہورہے ہیں جس پر مقرب فرشتے مامور ہیں۔

          آخر میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے اور اس کے ساتھ کفار کو خبر دار بھی کیا گیا ہے کہ آج جو لوگ ایمان لانے والوں کی تذلیل کر رہے ہیں، قیامت کے روز یہی مجرم لوگ اپنی اِس روش کا بہت بُرا انجام دیکھیں گے اور یہی ایمان لانے والے ان مجرموں کا بُرا انجام دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔

ماخذ: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Loading…

سورۃ المطففین کی تمام آیات — عربی متن اور اردو ترجمہ

لفظی ترجمہ، تلفظ اور تفسیر کے لیے کوئی بھی آیت کھولیں۔
  1. 83:1وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَبڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی.
  2. 83:2ٱلَّذِينَ إِذَا ٱكْتَالُوا۟ عَلَى ٱلنَّاسِ يَسْتَوْفُونَکہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں.
  3. 83:3وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَاور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں.
  4. 83:4أَلَا يَظُنُّ أُو۟لَٰٓئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَکیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں.
  5. 83:5لِيَوْمٍ عَظِيمٍاس عظیم دن کے لئے.
  6. 83:6يَوْمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَجس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے.
  7. 83:7كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلْفُجَّارِ لَفِى سِجِّينٍیقیناً بدکاروں کا نامہٴ اعمال سِجِّينٌ میں ہے.
  8. 83:8وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا سِجِّينٌتجھے کیا معلوم سِجِّينٌ کیا ہے؟
  9. 83:9كِتَٰبٌ مَّرْقُومٌ(یہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہے.
  10. 83:10وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَاس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے.
  11. 83:11ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِجو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے رہے.
  12. 83:12وَمَا يُكَذِّبُ بِهِۦٓ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍاسے صرف وہی جھٹلاتا ہےجو حد سے آگے نکل جانے واﻻ (اور) گناه گار ہوتا ہے.
  13. 83:13إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَجب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں.
  14. 83:14كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَیوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے.
  15. 83:15كَلَّآ إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سےاوٹ میں رکھے جائیں گے.
  16. 83:16ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُوا۟ ٱلْجَحِيمِپھر یہ لوگ بالیقین جہنم میں جھونکے جائیں گے.
  17. 83:17ثُمَّ يُقَالُ هَٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَپھر کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے وه جسے تم جھٹلاتے رہے.
  18. 83:18كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلْأَبْرَارِ لَفِى عِلِّيِّينَلرگزنہیں،بےشک نیکوکاروں کے اعمال نامے علییں میں ہیں .
  19. 83:19وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا عِلِّيُّونَاورتجھے کیا پتہ کہ عِلِّیین کیا ہے؟
  20. 83:20كِتَٰبٌ مَّرْقُومٌ(وه تو) لکھی ہوئی کتاب ہے.
  21. 83:21يَشْهَدُهُ ٱلْمُقَرَّبُونَمقرب (فرشتے) اس کا مشاہده کرتے ہیں.
  22. 83:22إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍیقیناً نیک لوگ (بڑی) نعمتوں میں ہوں گے.
  23. 83:23عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ يَنظُرُونَمسہریوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے.
  24. 83:24تَعْرِفُ فِى وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ ٱلنَّعِيمِتو ان کے چہروں سے ہی نعمتوں کی تروتازگی پہچان لے گا.
  25. 83:25يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍیہ لوگ سربمہر خالص شراب پلائے جائیں گے.
  26. 83:26خِتَٰمُهُۥ مِسْكٌ ۚ وَفِى ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ ٱلْمُتَنَٰفِسُونَجس پر مشک کی مہر ہوگی، سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہئے.
  27. 83:27وَمِزَاجُهُۥ مِن تَسْنِيمٍاور اس کی آمیزش تسنیم کی ہوگی.
  28. 83:28عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا ٱلْمُقَرَّبُونَ(یعنی) وه چشمہ جس کا پانی مقرب لوگ پیئں گے.
  29. 83:29إِنَّ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ كَانُوا۟ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يَضْحَكُونَگنہگار لوگ ایمان والوں کی ہنسی اڑایا کرتے تھے.
  30. 83:30وَإِذَا مَرُّوا۟ بِهِمْ يَتَغَامَزُونَاور ان کے پاس سے گزرتے ہوئے آپس میں آنکھ کےاشارے کرتے تھے.
  31. 83:31وَإِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمُ ٱنقَلَبُوا۟ فَكِهِينَاور جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے تو دل لگیاں کرتے تھے.
  32. 83:32وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوٓا۟ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ لَضَآلُّونَاور جب انہیں دیکھتے تو کہتے یقیناً یہ لوگ گمراه (بے راه) ہیں.
  33. 83:33وَمَآ أُرْسِلُوا۟ عَلَيْهِمْ حَٰفِظِينَیہ ان پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجے گئے.
  34. 83:34فَٱلْيَوْمَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنَ ٱلْكُفَّارِ يَضْحَكُونَپس آج ایمان والے ان کافروں پر ہنسیں گے.
  35. 83:35عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ يَنظُرُونَتختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے.
  36. 83:36هَلْ ثُوِّبَ ٱلْكُفَّارُ مَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَکہ اب ان منکروں نے جیسا یہ کرتے تھے پورا پورا بدلہ پالیا.
سورۃ سنیںMishary Alafasy