۸۶. سورۃ الطارق
رات کو آنے والا
ٱلطَّارِق

سورۃ الطارق

رات کو آنے والا
۱۷ آیاتمکی

سورۃ الطارق (الطارق، معنی: رات کو آنے والا) قرآن کی ۸۶ویں سورۃ ہے۔ یہ مکی سورۃ ہے جس میں ۱۷ آیات ہیں، اور یہ پارہ ۳۰ میں مدنی مصحف کے صفحہ ۵۹۱ سے شروع ہوتی ہے۔

سورۃ الطارق کا تعارف

نام :

پہلی آیت کے لفظ

الطّارق

کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول :

اس کے مضمون کا اندازِ بیان مکّہ معظمہ کی ابتدائی سورتوں سے ملتا جُلتا ہے ، مگر یہ اُس زمانے کی نازل شدہ ہے جب کفار مکہ قرآن  اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو زک دینے کے لیے ہر طرح کی چالیں چل رہے تھے۔

موضوع اور مضمون:

      اس میں وہ مضمون بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کو مرنے کے بعد، خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ دوسرے یہ کہ قرآن ایک قولِ فصیل ہے جسے کفار کی کوئی چال اور تدبیر زک نہیں دے سکتی۔

سب سے پہلے آسمان کے  تاروں کو اِس بات کی شہادت میں پیش کیا گیا ہے کہ کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو ایک ہستی کی نگہبانی کے بغیر اپنی جگہ قائم اور باقی رہ سکتی ہو۔ پھر انسان کا خود اس  کی اپنی ذات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ کس طرح نطفے کی ایک بوند سے اُس کو وجود میں لایا گیا  اور جیتا جاگتا انسان بنا دیا گیا۔ اس کےبعد فرمایا گیا ہے کہ جو خدا  اِس طرح اُسے وجود میں لا یا ہے وہ یقیناً اُس کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ اور یہ دوبارہ پیدائش اِس غرض کے لیے ہوگی کہ انسان کے اُن تمام رازوں کی جانچ پڑتال کی جائے جن پر دنیا میں پردہ پڑا رہ گیا تھا۔ اُس وقت اپنے اعمال کے نتائج بھگتنے سے انسان نہ اپنے بل بوتے پر بچ سکے گا اور نہ کوئی اُس کی مدد کو آسکے گا۔          خاتمہ کلام پر ارشاد ہوا ہے کہ جس طرح آسمان سے بارش کا برسنا اور زمین سے درختوں اور فصلوں کا اُگنا کوئی کھیل نہیں بلکہ ایک سنجیدہ کام ہے ، اُسی طرح قرآن میں جو حقائق بیان کیے گئے ہیں وہ بھی کوئی ہنسی مذاق نہیں ہیں بلکہ پختہ اور اٹل باتیں ہیں۔ کفار اس غلط فہمی میں ہیں کہ اُن کی چالیں اِس قرآن کی دعوت کو زک دے دیں گی، مگر انہیں خبر نہیں ہے کہ اللہ بھی ایک تدبیر میں لگا ہوا ہے اور اس کی تدبیر کے آگے کفار کی چالین سب دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ پھرا یک فقرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی اور درپردہ کفار کو یہ دھمکی دے کر بات ختم کر دی گئی ہے کہ آپؑ ذرا صبر سے کام لیں  اور کچھ مدت کفار کو اپنی سی کر لینے دیں، زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ ان کی چالیں قرآن کو زک دیتی ہیں یا قرآن اُسی جگہ غالب آکر رہتا ہے جہاں یہ اُسے زک دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماخذ: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Loading…

سورۃ الطارق کی تمام آیات — عربی متن اور اردو ترجمہ

لفظی ترجمہ، تلفظ اور تفسیر کے لیے کوئی بھی آیت کھولیں۔
  1. 86:1وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِقسم ہے آسمان کی اور اندھیرے میں روشن ہونے والے کی.
  2. 86:2وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُتجھے معلوم بھی ہے کہ وه رات کو نمودار ہونے والی چیز کیا ہے؟
  3. 86:3ٱلنَّجْمُ ٱلثَّاقِبُوه روشن ستاره ہے.
  4. 86:4إِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌکوئی ایسا نہیں جس پر نگہبان فرشتہ نہ ہو.
  5. 86:5فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَٰنُ مِمَّ خُلِقَانسان کو دیکھنا چاہئے کہ وه کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے.
  6. 86:6خُلِقَ مِن مَّآءٍ دَافِقٍوه ایک اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے.
  7. 86:7يَخْرُجُ مِنۢ بَيْنِ ٱلصُّلْبِ وَٱلتَّرَآئِبِجو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے.
  8. 86:8إِنَّهُۥ عَلَىٰ رَجْعِهِۦ لَقَادِرٌبیشک وه اسے پھیر ﻻنے پر یقیناً قدرت رکھنے واﻻ ہے.
  9. 86:9يَوْمَ تُبْلَى ٱلسَّرَآئِرُجس دن پوشیده بھیدوں کی جانچ پڑتال ہوگی.
  10. 86:10فَمَا لَهُۥ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍتو نہ ہوگا اس کے پاس کچھ زور نہ مدددگار.
  11. 86:11وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلرَّجْعِبارش والے آسمان کی قسم!
  12. 86:12وَٱلْأَرْضِ ذَاتِ ٱلصَّدْعِاور پھٹنے والی زمین کی قسم!
  13. 86:13إِنَّهُۥ لَقَوْلٌ فَصْلٌبیشک یہ (قرآن) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے واﻻ کلام ہے.
  14. 86:14وَمَا هُوَ بِٱلْهَزْلِیہ ہنسی کی (اور بے فائده) بات نہیں.
  15. 86:15إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًاالبتہ کافر داؤ گھات میں ہیں.
  16. 86:16وَأَكِيدُ كَيْدًااور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں.
  17. 86:17فَمَهِّلِ ٱلْكَٰفِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًۢاتو کافروں کو مہلت دے انہیں تھوڑے دنوں چھوڑ دے.
سورۃ سنیںMishary Alafasy