۵۳. سورۃ النجم
ستارہ
ٱلنَّجْم

سورۃ النجم

ستارہ
۶۲ آیاتمکی

سورۃ النجم (النجم، معنی: ستارہ) قرآن کی ۵۳ویں سورۃ ہے۔ یہ مکی سورۃ ہے جس میں ۶۲ آیات ہیں، اور یہ پارہ ۲۷ میں مدنی مصحف کے صفحہ ۵۲۶ سے شروع ہوتی ہے۔

سورۃ النجم کا تعارف

نام:

پہلے ہی لفظ ہی وَالنجم سے ماخوذ ہے۔ یہ بھی مضمون کے لحاظ سے سورۃ کا عنوان نہیں ہے بلکہ محض علامت کے طور پر اس کا نام قرار دیا گیا ہے ۔

زمانۂ نزول:

بخاری، مسلم، ابوداؤد اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ اَوَّلُ سَوْرَۃٍ اُنْزِلَتْ فِیھا سجدۃٌ النجم (پہلی سورۃ جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی النجم ہے )۔  اس حدیث کے جو اجزاء اسود بن یزید، ابواسحاق، اور زُہَیر بن معاویہ کی روایات میں حضرت ابن مسعود سے منقول ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن مجید کی وہ پہلی سورۃ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریش کے ایک مجمع عام میں ( اور ابن مردوؤیہ کی روایت کے مطابق حَرَم میں)سنایا تھا۔ مجمع میں کافر  اور مومن سب موجود تھے ۔آخر میں جب آپ نے آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ فرمایا تو تمام حاضرین آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے اور مشرکین کے وہ بڑے بڑے سردار تک، جو مخالفت میں پیش پیش تھے سجدہ کیے بغیر نہ رہ سکے ۔ ابن مسعد و رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کفار میں سے سرف ایک شخص امیہ بن خَلَف کو دیکھا کہ اس نے سجدہ کرنے کے بجائے کچھ مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگا لی اور کہا کہ میرے لیے بس یہی کافی ہے ۔ بعد میں میری آنکھوں نے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں قتل ہوا۔

اس واقعہ دے دوسرے عینی شاہد حضرت مُطلب بن ابی وَداعَہ ہیں جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے ۔ نسائی اور مُسند احمد میں ان کا اپنی بیان یہ نقل ہوا ہے کہ جب حضورؐ نے سورہ نجم پڑھ کر سجدہ فرمایا اور سب حاضرین آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے تو میں نے سجدہ نہ کیا، اور اسی کی تلافی اب میں اس طرح کرتا ہوں کہ اس سورے کی تلاوت کے وقت سجدہ کبھی نہیں چھوڑتا۔

ابن سعد کا بیان ہے کہ اس سے پہلے رجب 5 نبوی میں صحابہ کرام کی ایک مختصر سی جماعت حبش میں طرف ہجرت کر چکی تھی۔ پھر جب اسی سال رمضان میں یہ واقعہ پیش آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریش کے مجمع عام میں سورہ نجم کی تلاوت فرمائی اور کافر و مومن سب آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے، تو حبش کے مہاجرین تک یہ قصہ اس شکل میں پہنچا کہ کفارمکہ مسلمان ہو گئے ہیں۔ اس خبر کو سن کر ان میں سے کچھ لوگ شوال 5 نبوی میں مکہ واپس آ گئے۔مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ ظلم کی چکی اسی طرح چل رہی ہے جس طرح پہلے چل رہی تھی، آخر کار دوسرے ہجرت حبشہ واقع ہوئی جس میں پہلی ہجرت سے بھی زیادہ لوگ مکہ چھوڑ کر چلے گئے۔

اس طرح یہ بات قریب قریب یقینی طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ سورۃ رمضان 5 نبوی میں نازل ہوئی ہے ۔

تاریخی پس منظر:

زمانہ نزول کی اس تفصیل سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کیا حالات تھے جن میں یہ سورہ نازل ہوئی۔ ابتدائے بعثت کے بعد سے پانچ سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صرف نجی صحبتوں اور مخصوص مجلسوں ہی میں اللہ کا کلام سنا سنا کر لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دیتے رہے تھے ۔ اس پوری مدت میں آپ کو کبھی کسی مجمع عام میں قرآن سنانے کا موقعنہ مل سکا تھا، کیونکہ کفار کی سخت مزاحمت اس میں مانع تھی۔ ان کو اس امر کا خوب اندازہ تھا کہ آپ کی شخصیت اور آپ کی تبلیغ میں سک بال کہ کشش، اور قرآن مجید کی آیات میں کس غضب کی تاثیر ہے ۔اس لیے وہ کوشش کرتے تھے کہ اس کلام کو نہ خود نہیں نہ کسی کو سننے دیں، اور آپ کے خلاف طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیلا کر محض اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کے زور سے آپ کی دعوت کو دبا دیں۔ اس غرض کے لیے ایک طرف تو وہ جگہ جگہ یہ مشہور کرتے پھر رہے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم بہک گئے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے درپے ہیں۔ دوسری طرف ان کا یہ مستقل طریق کار تھا کہ جہاں بھی آپ قرآن سنانے کی کوشش کریں وہاں شور مچا دیا جائے تاکہ لوگ یہ جان ہی نہ سکیں کہ وہ بات کیا ہے جس کی بنا پر آپ کو گمراہ اور بہکا ہوا آدمی قرار دیا جا رہا ہے ۔

ان حالات میں ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حرم پاک میں جہاں قریش کے لوگوں کا ایک بڑا مجمع موجود تھا، یکایک تقریر کرنے کھڑے ہو گئے اور اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی زبان مبارک پر یہ خطبہ جاری ہوا جو سورہ نجم کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔اس کلام کی شدت تاثیر کا حال یہ تھا کہ جب آپ نے اسے سنانا شروع کیا تو مخالفین کو اس پر شور  مچانے کا ہوش ہی نہ رہا، اور خاتمے پر جب آپ نے سجدہ فرمایا تو وہ بھی سجدے میں گر گئے۔ بعد میں انہیں سخت پریشانی لاحق ہوئی کہ یہ ہم سے کیا کمزوری سرد ہو گئی، اور لوگوں نے بھی انہیں اس پر مطعون کرنا شروع کیا کہ دوسروں کو تو یہ کلام سننے سے منع کرتے تھے ، آج خود اسے نہ صرف کان لگا کر سنا بلکہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سجدہ بھی کر گزرے ۔ آخر کار انہوں نے یہ بات بنا کر اپنا پیچھا چھڑایا کہ صاحب ہمارے کانوں نے تو : اَفَرْءَیْتُمُ اللّٰتَ وَا لْعزّیٰ۔ وَمَنٰوۃَ الثَّا لِثَۃَ الْقُخْریٰ کے بعد محمدؐ کی زبان سے یہ الفاظ سنے تھے تلک الغرانقۃ العُلیٰ، وان شفا گتھنا لتر جیٰ (یہ بلند مرتبہ دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت ضرور متوقع ہے )، اس لیے ہم نے سمجھا کہ محمدؐ ہمارے طریقے پر واپس آ  گئے  ہیں۔ حالانکہ کوئی پاگل آدمی ہی یہ سوچ سکتا تھا کہ اس پوری سورۃ کے سیاق و سباق میں ان فقروں کی بھی کوئی جگہ ہو سکتی ہے جو ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے کانوں نے سنے ہیں(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم،الحج، حواشی 96 تا 101 )۔

موضوع اور مضمون:

تقریر کا موضوع کفار مکہ کو اس رویے کی غلطی پر متنبہ کرنا ہے جو وہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلے میں اختیار کیے ہوئے تھے ۔

کلام کا آغاز اس طرح فرمایا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم بہکے اور بھٹکے ہوئے آدمی نہیں ہیں، جیسا کہ تم ان کے متعلق مشہور کرتے پر رہے ہو، اور نہ اسلام کی یہ تعلیم اور دعوت انہوں نے خود اپنے دل سے گھڑ لی ہے ، جیسا کہ تم اپنے نزدیک سمجھے بیٹھے ہو، بلکہ جو کچھ وہ پیش کر رہے ہیں وہ خالص وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے ۔ جن حقیقتوں کو وہ تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں وہ ان کے اپنے قیاس و گمان کی آفریدہ نہیں ہیں بلکہ ان کی آنکھوں دیکھی حقیقتیں ہیں۔ انہوں نے اس فرشتے کو خود دیکھا ہے جس کے ذریعہ سے ان کو یہ علم دیا جاتا ہے ۔ انہیں اپنے رب کی عظیم نشانیوں کا براہ راست مشاہدہ کرایا گیا ہے ۔وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سوچ کر نہیں دیکھ کر کہہ رہے ہیں۔ ان سے تمہارا جھگڑنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی اندھا آنکھوں والے سے اس چیز پر جھگڑے جو اسے نظر نہیں آتی اور آنکھوں والے کو نظر آتی ہے ۔

اس کے بعد علی الترتیب تین مضامین ارشاد ہوئے ہیں:

اوّلاً سامعین کو سمجھایا گیا ہے کہ جس دین کی تم پیروی کر رہے ہو اس کی بنیاد محض گمان اور من مانے مفروضات پر قائم ہے ۔ تم نے لات اور منات اور عزّیٰ جیسی چند دیویوں کے معبود بنا رکھا ہے ، حالانکہ اُلوہیت میں برائے نام بھی ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے رکھا ہے ،حالانکہ خود اپنے لی تم بیٹی کو عار سمجھتے ہو۔ تم نے اپنے نزدیک یہ فرض کر لیا ہے کہ تمہارے یہ معبود اللہ تعالیٰ سے تمہارے کام بنوا سکتے ہیں، حالانکہ تمام ملائکہ، مقربین مل کر بھی اللہ سے اپنی کوئی بات نہیں منوا سکتے ۔ اس طرح کے عقائد جو تم نے اختیار کر رکھے ہیں، ان میں سے کوئی عقیدہ بھی کسی علم اور دلیل پر مبنی نہیں ہے ، بلکہ کچھ خواہشات ہیں جن کی خاطر تم بعض اوہام کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہو۔ یہ ایک بہت بڑی بنیادی غلطی ہے جس میں تم لوگ مبتلا ہو۔ دین وہی صحیح ہے جو حقیقت کے مطابق ہو۔ اور حقیقت لوگوں کی خواہشات کی تابع نہیں ہوا کرتی کہ جسے وہ حقیقت سمجھ بیٹھیں وہی حقیقت ہو جائے۔ اس سے مطابقت کے لیے قیاس و گمان کام نہیں دیتا، بلکہ اس کے لیے علم درکار ہے ۔ وہ علم تمہارے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو تم اس سے منہ موڑتے ہو اور الٹا اس شخص کو گمراہ ٹھیراتے ہو جو تمہیں صحیح بات بتا رہا ہے ۔ اس غلطی میں تمہارے مبتلا ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ تمہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہے ، بس دنیا ہی تمہاری مطلوب بنی ہوئی ہے ۔ اس لیے نہ تمہیں حقیقت کو کوئی طلب  ہے ،نہ اس بات کی کوئی پروا کہ جن عقائد کی تم پیروی کر رہے ہو وہ حق کے مطابق ہیں یا نہیں۔

ثانیاً لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ ہی ساری کائنات کا مالک و مختار ہے ۔ راست رو وہ ہے جو اس کے راستے پر ہو، اور گمراہ وہ جو اس کی راہ سے ہٹا ہوا ہو۔ گمراہ کی گمراہی اور راست رو کی راست روی اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔ ہر ایک کے عمل کو وہ جانتا ہے اور اس کے ہاں لازماً برائی کا بدلہ برا اور بھلائی کا بدلہ بھلا مل کر رہنا ہے ۔ اصل فیصلہ اس پر نہیں ہوتا کہ تم اپنے زعم میں اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو اور اپنی زبان سے اپنی پاکیزگی کے کتنے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہو، بلکہ فیصلہ اس  اس پر ہونا ہے کہ خدا کے علم میں تم متقی ہو یا نہیں۔ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرو تو اس کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ چھوٹے چھوٹے قصوروں سے وہ در گزر فرمائے گا۔

ثالثاً، دین حق کے وہ چند بنیادی امور لوگوں کے سامنے پیش کیے گئے ہیں جو قرآن مجید کے نزول سے صدہا برس پہلے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں بیان ہو چکے تھے ، تاکہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہی کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کوئی نیا اور نرالا دین لے آئے ہیں، بلکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ یہ وہ اصلی حقائق ہیں جو ہمیشہ سے خدا کے نبی بیان کرتے چلے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ان ہی صحیفوں سے یہ بات بھی نقل کر دی گئی ہے کہ عاد اور ثمود اور قوم نوح اور قوم لوط کی تباہی اتفاقی حوادث کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسی ظلم و طغیان کی پاداش میں ان کو ہلاک کیا تھا جس سے باز آنے پر کفار مکہ کسی طرح آمادہ نہیں ہو رہے ہیں۔

یہ مضامین ارشاد فرمانے کے بعد تقریر کا خاتمہ اس بات پر کیا گیا ہے کہ فیصلے کی گھڑی قریب آ لگی ہے جسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہے ۔ اس گھڑی کے آنے سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور قرآن مجید کے ذریعہ سے تم لوگوں کو اسی طرح خبردار کیا جا رہا ہے جس طرح پہلے لوگوں کے خبردار کیا گیا تھا۔اب کیا یہی وہ بات ہے جو تمہیں انوکھی لگتی ہے ؟ جس کی تم ہنسی اڑاتے ہو؟ باز آ جاؤ اپنی اس روش سے جھک جاؤ اللہ کے سامنے اور اسی کی بندگی کرو۔

یہی وہ مؤثر خاتمہ کلام تھا جسے سن کر کٹے سے کٹے منکرین بھی ضبط نہ کر سکے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب کلام الٰہی کے یہ فقرے ادا کر کے سجدہ کیا تو وہ بھی بے اختیار سجدے میں گر گئے۔

ماخذ: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Loading…

سورۃ النجم کی تمام آیات — عربی متن اور اردو ترجمہ

لفظی ترجمہ، تلفظ اور تفسیر کے لیے کوئی بھی آیت کھولیں۔
  1. 53:1وَٱلنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰقسم ہے ستارے کی جب وه گرے.
  2. 53:2مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰکہ تمہارے ساتھی نے نہ راه گم کی ہے نہ وه ٹیڑھی راه پر ہے.
  3. 53:3وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓاور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں.
  4. 53:4إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰوه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے.
  5. 53:5عَلَّمَهُۥ شَدِيدُ ٱلْقُوَىٰاسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے.
  6. 53:6ذُو مِرَّةٍ فَٱسْتَوَىٰجو زور آور ہے پھر وه سیدھا کھڑا ہو گیا.
  7. 53:7وَهُوَ بِٱلْأُفُقِ ٱلْأَعْلَىٰاور وه بلند آسمان کے کناروں پر تھا.
  8. 53:8ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰپھر نزدیک ہوا اور اتر آیا.
  9. 53:9فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰپس وه دو کمانوں کے بقدر فاصلہ ره گیا بلکہ اس سے بھی کم.
  10. 53:10فَأَوْحَىٰٓ إِلَىٰ عَبْدِهِۦ مَآ أَوْحَىٰپس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچائی.
  11. 53:11مَا كَذَبَ ٱلْفُؤَادُ مَا رَأَىٰٓدل نے جھوٹ نہیں کہا جسے (پیغمبر نے) دیکھا.
  12. 53:12أَفَتُمَٰرُونَهُۥ عَلَىٰ مَا يَرَىٰکیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو (پیغمبر) دیکھتے ہیں.
  13. 53:13وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰاسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا.
  14. 53:14عِندَ سِدْرَةِ ٱلْمُنتَهَىٰسدرةالمنتہیٰ کے پاس.
  15. 53:15عِندَهَا جَنَّةُ ٱلْمَأْوَىٰٓاسی کے پاس جنہ الماویٰ ہے.
  16. 53:16إِذْ يَغْشَى ٱلسِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰجب کہ سدره کو چھپائے لیتی تھی وه چیز جو اس پر چھا رہی تھی.
  17. 53:17مَا زَاغَ ٱلْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰنہ تو نگاه بہکی نہ حد سے بڑھی.
  18. 53:18لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ ءَايَٰتِ رَبِّهِ ٱلْكُبْرَىٰٓیقیناً اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں.
  19. 53:19أَفَرَءَيْتُمُ ٱللَّٰتَ وَٱلْعُزَّىٰکیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا.
  20. 53:20وَمَنَوٰةَ ٱلثَّالِثَةَ ٱلْأُخْرَىٰٓاور منات تیسرے پچھلے کو.
  21. 53:21أَلَكُمُ ٱلذَّكَرُ وَلَهُ ٱلْأُنثَىٰکیا تمہارے لیے لڑکے اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہیں؟
  22. 53:22تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰٓیہ تو اب بڑی بےانصافی کی تقسیم ہے.
  23. 53:23إِنْ هِىَ إِلَّآ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَٰنٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَمَا تَهْوَى ٱلْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ ٱلْهُدَىٰٓدراصل یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ لوگ تو صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی ہے.
  24. 53:24أَمْ لِلْإِنسَٰنِ مَا تَمَنَّىٰکیا ہر شخص جو آرزو کرے اسے میسر ہے؟
  25. 53:25فَلِلَّهِ ٱلَْٔاخِرَةُ وَٱلْأُولَىٰاللہ ہی کے ہاتھ ہے یہ جہان اور وه جہان.
  26. 53:26۞ وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ لَا تُغْنِى شَفَٰعَتُهُمْ شَئًْا إِلَّا مِنۢ بَعْدِ أَن يَأْذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَىٰٓاور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لیے چاہے اجازت دے دے.
  27. 53:27إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلَْٔاخِرَةِ لَيُسَمُّونَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ تَسْمِيَةَ ٱلْأُنثَىٰبیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وه فرشتوں کا زنانہ نام مقرر کرتے ہیں.
  28. 53:28وَمَا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ ۖ وَإِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ ٱلْحَقِّ شَئًْاحاﻻنکہ انہیں اس کا کوئی علم نہیں وه صرف اپنے گمان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور بیشک وہم (و گمان) حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں دیتا.
  29. 53:29فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَاتو آپ اس سے منھ موڑ لیں جو ہماری یاد سے منھ موڑے اور جن کا اراده بجز زندگانیٴ دنیا کے اور کچھ نہ ہو.
  30. 53:30ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ ٱلْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱهْتَدَىٰیہی ان کے علم کی انتہا ہے۔ آپ کا رب اس سے خوب واقف ہے جو اس کی راه سے بھٹک گیا ہے اور وہی خوب واقف ہےاس سے بھی جو راه یافتہ ہے.
  31. 53:31وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ أَسَُٰٓٔوا۟ بِمَا عَمِلُوا۟ وَيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ بِٱلْحُسْنَىاور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے.
  32. 53:32ٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلْإِثْمِ وَٱلْفَوَٰحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَٰسِعُ ٱلْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِى بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی۔ سوائے کسی چھوٹے سے گناه کے۔ بیشک تیرا رب بہت کشاده مغفرت واﻻ ہے، وه تمہیں بخوبی جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے۔ پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو، وہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے.
  33. 53:33أَفَرَءَيْتَ ٱلَّذِى تَوَلَّىٰکیا آپ نے اسے دیکھا جس نے منھ موڑ لیا.
  34. 53:34وَأَعْطَىٰ قَلِيلًا وَأَكْدَىٰٓاور بہت کم دیا اور ہاتھ روک لیا.
  35. 53:35أَعِندَهُۥ عِلْمُ ٱلْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰٓکیا اسے علم غیب ہے کہ وه (سب کچھ) دیکھ رہا ہے؟
  36. 53:36أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَىٰکیا اسے اس چیز کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے.
  37. 53:37وَإِبْرَٰهِيمَ ٱلَّذِى وَفَّىٰٓاور وفادار ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں تھا.
  38. 53:38أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰکہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا.
  39. 53:39وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَٰنِ إِلَّا مَا سَعَىٰاور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی.
  40. 53:40وَأَنَّ سَعْيَهُۥ سَوْفَ يُرَىٰاور یہ کہ بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی.
  41. 53:41ثُمَّ يُجْزَىٰهُ ٱلْجَزَآءَ ٱلْأَوْفَىٰپھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا.
  42. 53:42وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلْمُنتَهَىٰاور یہ کہ آپ کے رب ہی کی طرف پہنچنا ہے.
  43. 53:43وَأَنَّهُۥ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰاور یہ کہ وہی ہنساتا ہے اور وہی رﻻتا ہے.
  44. 53:44وَأَنَّهُۥ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَااور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جلاتا ہے.
  45. 53:45وَأَنَّهُۥ خَلَقَ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰاور یہ کہ اسی نے جوڑا یعنی نر ماده پیدا کیا ہے.
  46. 53:46مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰنطفہ سے جبکہ وه ٹپکایا جاتا ہے.
  47. 53:47وَأَنَّ عَلَيْهِ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْأُخْرَىٰاور یہ کہ اسی کے ذمہ دوباره پیدا کرنا ہے.
  48. 53:48وَأَنَّهُۥ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰاور یہ کہ وہی مالدار بناتا ہے اور سرمایہ دیتا ہے.
  49. 53:49وَأَنَّهُۥ هُوَ رَبُّ ٱلشِّعْرَىٰاور یہ کہ وہی شعریٰ (ستارے) کا رب ہے.
  50. 53:50وَأَنَّهُۥٓ أَهْلَكَ عَادًا ٱلْأُولَىٰاور یہ کہ اس نے عاد اول کو ہلاک کیا ہے.
  51. 53:51وَثَمُودَا۟ فَمَآ أَبْقَىٰاور ﺛمود کو بھی (جن میں سے) ایک کو بھی باقی نہ رکھا.
  52. 53:52وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَىٰاور اس سے پہلے قوم نوح کو، یقیناً وه بڑے ﻇالم اور سرکش تھے.
  53. 53:53وَٱلْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَىٰاور مؤتفکہ (شہر یا الٹی ہوئی بستیوں کو) اسی نے الٹ دیا.
  54. 53:54فَغَشَّىٰهَا مَا غَشَّىٰپھر اس پر چھا دیا جو چھایا.
  55. 53:55فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰپس اے انسان تو اپنے رب کی کس کس نعمت کے بارے میں جھگڑے گا؟
  56. 53:56هَٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ ٱلنُّذُرِ ٱلْأُولَىٰٓیہ (نبی) ڈرانے والے ہیں پہلے ڈرانے والوں میں سے.
  57. 53:57أَزِفَتِ ٱلَْٔازِفَةُآنے والی گھڑی قریب آ گئی ہے.
  58. 53:58لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ كَاشِفَةٌاللہ کے سوا اس کا (وقت معین پر کھول) دکھانے واﻻ اور کوئی نہیں.
  59. 53:59أَفَمِنْ هَٰذَا ٱلْحَدِيثِ تَعْجَبُونَپس کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو.
  60. 53:60وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَاور ہنس رہے ہو؟ روتے نہیں؟
  61. 53:61وَأَنتُمْ سَٰمِدُونَ(بلکہ) تم کھیل رہے ہو.
  62. 53:62فَٱسْجُدُوا۟ لِلَّهِ وَٱعْبُدُوا۟ ۩اب اللہ کے سامنے سجدے کرو اور (اسی) کی عبادت کرو.
سورۃ سنیںMishary Alafasy