۴۶. سورۃ الاحقاف
ریگستان
ٱلْأَحْقَاف

سورۃ الاحقاف

ریگستان
۳۵ آیاتمکی

سورۃ الاحقاف (الأحقاف، معنی: ریگستان) قرآن کی ۴۶ویں سورۃ ہے۔ یہ مکی سورۃ ہے جس میں ۳۵ آیات ہیں، اور یہ پارہ ۲۶ میں مدنی مصحف کے صفحہ ۵۰۲ سے شروع ہوتی ہے۔

سورۃ الاحقاف کا تعارف

نام:

آیت نمبر 21 کے فقرے اِذْاَنْذَ رَقَوْمَہٗ بِالْاَحْقَافِ  سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ  نزول:

ایک تاریخی واقعہ سے متعین ہو جاتا ہے جس کا ذکر آیت 29۔32 میں آ یا ہے۔ ان آیات میں جِنوں کے آ نے اور قرآن سن کر واپس جانے کا جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ حدیث وسیرت کی متفق علیہ روایت کی رو سے اس وقت پیش آیا تھا جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم طائف سے  مکہ معظمہ کی طرف پلٹتے ہوئے نَخْلہ کے مقام پر ٹھہرے  تھے، اور تمام معتبر تاریخی روایت کے مطابق آپ کے طائف تشریف لے جانے کا واقعہ ہجرت سے تین سال پہلے کا ہے، لہٰذا یہ متعین ہو جاتا ہے کہ یہ سورۃ 10نبوی کے آخر، یا 11نبوی میں نازل ہوئی۔

تاریخی منظر:

10 نبوی حضورؐ کی حیات طیبہ میں انتہائی سختی کا سال تھا۔ تین برس سے قریش کے تمام قبیلوں نے مل کر نبی ہاشم اور مسلمانوں کا مکمل مقاطعہ ر رکھا تھا اور حضور اپنے خاندان اور اپنے اصحاب کے ساتھ شعیب ابی طالب (شعب ابی طالب مکہ معظمہ کے ایک محلے کا نام تھا جس میں بنی ہاشم رہا کرتے تھے۔ شعب عربی زبان میں گھاٹی کو کہتے ہیں۔ چونکہ یہ محلہ کوہ اب قبیس کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں واقع تھا، اور ابو طالب نبی ہاشم کے سردار تھے، اس لیے اسے شعب ابی طالب کہا جاتا تھا۔ مکہ معظمہ میں جو مکان آج مقامی روایات کے مطابق نبی صلیی اللہ علیہ و سلم کے مقام پیدائش کی حیثیت سے معروف ہے،اسی کے قریب یہ گھاٹی واقع تھی۔ اب اسے شعب علی یا شعب بنی ہاشم کہتے ہیں۔)میں محور تھے۔ قریش کے لوگوں نے ہر طرف سے اس محلے کی ناکہ بندی کر رکھی تھی جس سے گزر کر کسی قسم کی رسد اندر نہ پہنچ سکتی تھی۔ صرف حج کے زمانے میں یہ محصورین نکل کر کچھ خریداری کر سکتے تھے۔ مگر ابو لہب جب بھی ان میں سے کسی کو بازار کی طرف، یا کسی تجارتی قافلے کی طرف جاتے دیکھتا، پکار کر تاجروں سے کہہ دیتا کہ جو چیز یہ خریدنا چاہیں اس کی قیمت اتنی زیادہ بتاؤ کہ یہ نہ خرید سکیں، پھر وہ چیز ہاشم کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی اور ان پر ایسے ایسے سخت وقت گزر گئے تھے جن میں بسا اوقات گھاس اور پتے کھانے کی نوبت آ جاتی تھی۔ خدا خدا کر کے یہ محاصرہ اس سال ٹوٹا ہی تھا کہ حضورؐ کے چچا ابو طالب، جو دس سال سے آپؐ کے لیے ڈھال بنے ہوئے تھے، وفات پا گئے، اور اس سانحے پر بمشکل ایک مہینہ گزرا تھا کہ آپ کی رفیقہ حیات حضرت خدیجہ بھی انتقال فرما گئیں جن کی ذات آغاز نبوت سے لے کر اس وقت تک آپ کے لیے وجہ سکون و تسلی بنی رہی تھی۔ ان پے درپے صدموں اور تکلیفوں کی وجہ سے حضورؐ اس سال کو عام الحزن (رنج و غم کا سال ) فرمایا کرتے تھے۔ حضرت خدیجہ اور ابوطالب کی وفات کے بعد کفار مکہ نبی صلی اللہ ولیہ و سلم کے مقابلے میں اور زیادہ دلیر ہو گئے۔ پہلے سے زیادہ آپ کو تنگ کرنے لگے۔ حتیٰ کہ آپ کا گھر سے باہر نکلنا بھی مشکل ہو گیا۔ اسی زمانہ کا یہ واقعہ ابن ہشام نے بیان کیا ہے کہ ایک روز قریم کے اوباشوں میں سے ایک شخص نے سر بازار آپ کے سر پر مٹی پھینک دی۔ آخر کار آپ اس ارادے سے طائف تشریف لے گئے کہ بنی ثَقیف کو اسلام کی طرف دعوت دین اور اگر وہ اسلام نہ قبول کریں تو انہیں کم از کم اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ آپ کو اپنے ہاں چین سے بیٹھ کر کام کرنے کا موقع دے دیں۔ آپ کو اس وقت کوئی سواری تک میسر نہ تھی۔ مکہ سے طائف تک کا سارا سفر آپ نے پیدل طے کیا۔ بعض روایات کی رو سے آپ تنہا تشریف لے گئے تھے، اور بعض روایات کے مطابق آپ کے ساتھ صرف حضرت زید بن حارثہ تھے۔ وہاں پہنچ کر چند روز آپؐ نے قیام کیا اور ثقیف کے سرداروں اور معززین میں سے ایک ایک کے پاس جا کر بات کی۔ مگر انہوں نے نہ صرف یہ کہ آپ کی کوئی بات نہ مانی، بلکہ آپ کو صاف صاف نوٹس دے دیا کہ ان کے شہر سے نکل جائیں، کیونکہ ان کو اندیشہ ہو گیا تھا کہ کہیں آپ کی تبلیغ ان کے نوجوانوں کو ’’ بگاڑ‘‘ نہ دے۔ مجبوراً آپ کو طائف چھوڑ دینا پڑا۔ جب آپ وہاں سے نکلنے لگے تو ثقیف کے سرداروں نے اپنے ہاں کے لفنگوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ راستے کے دونوں طرف دور تک آپ پر آوازے کستے، گالیاں دیتے اور پتھر مارتے چلے گئے، یہاں تک کہ آپ زخموں سے چور ہو گئے اور آپ کی جوتیاں خون سے بھر گئیں۔ اس حالت میں آپ طائف کے باہر ایک باغ کی دیوار سے سائے میں بیٹھ گئے اور اپنے رب سے عرض کیا: ’’خداوندا، میں تیرے ہی حضور اپنی بے بسی و بے چارگی اور لوگوں کی نگاہ میں اپنی بے قدری کا شکوہ کرتا ہوں۔ اے ارحم الراحمین، تو سارے ہی کمزوروں کا رب ہے اور میرا رب بھی تو ہی ہے۔ مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کیا کسی بیگانے کے حوالے جو مجھ سے درشتی کے ساتھ پیش آئے؟ یا کسی دشمن کے حوالے جو مجھ پر قابو پالے؟ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھ کسی مصیبت کی پروا نہیں، مگر تیری طرف سے عافیت مجھے نصیب ہو جائے تو اس میں میرے لیے زیادہ کشادگی ہے۔ میں پناہ مانگتا ہوں تیری ذات کے اس نور کی جو اندھیرے میں اجالا اور دنیا اور آخرت کے معاملات کو درست کرتا ہے، مجھے اس سے بچا لے کہ تیرا غضب مجھ پر نازل ہو یا میں تیرے عتاب کا مستحق ہو جاؤں۔تیری مرضی پر راضی ہوں یہاں تک کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے۔ کوئی زور اور طاقت تیرے بغیر نہیں‘‘ (ابن ہشام، ج 2،ص 62) دل شکستہ و غمگین پلٹ کر جب آپ قرن المنازل کے قریب پہنچے تو محسوس ہوا کہ آسمان پر ایک بادل سا چھایا ہوا ہے۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو جبریل علیہ السلام سامنے تھے۔ انہیں نے پکار کر کہا ’’ آپ کی قوم نے جو کچھ آپ کو جواب دیا ہے اللہ نے اسے سن لیا۔ اب یہ پہاڑوں کا منتظم فرشتہ اللہ نے بھیجا ہے، آپ جو حکم دینا چاہیں اسے دے سکتے ہیں‘‘۔ پھر پہاڑوں کے فرشتے نے آپ کو سلام کر کے عرض کیا ’’آپ فرمائیں تو دونوں طرف کے پہاڑ ان لوگوں پر الٹ دوں؟‘‘ آپ نے جواب دیا،’’ نہیں، بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی نسل سے وہ لوگ پیدا کرے گا جو اللہ وحدہٗ  لاشریک کی بندگی کریں گے‘‘۔ (بخاری، بدء الخلق، ذکر الملائکہ۔۔ مسلم،کتاب المغازی۔ نسائی، البعوث) اس کے بعد آپ چند روز نخلہ کے مقام پر جا کر ٹھیر گئے۔ پریشان تھے کہ اب کیسے مکہ واپس جاؤں۔ طائف میں جو کچھ گزری ہے اس کی خبریں وہاں  پہنچ چکی ہوں گی۔اس کے بعد تو کفار پہلے سے بھی زیادہ دلیر ہو جائیں گے۔ ان ہی ایام میں ایک روز رات کو آپ نماز میں قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جِنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا، انہوں نے قرآن سُنا،ایمان لائے، واپس جا کر اپنی قوم میں اسلام کی تبلیغ شروع کر دی، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ خوش خبری سنائی انسان چاہے  آپ کی دعوت سے بھاگ رہے ہوں، مگر بہت سے جِن اس کے گرویدہ ہو گئے ہیں  اور وہ اسے اپنی جنس میں پھیلا رہے ہیں۔

موضوع اور مباحث:

یہ حالات تھے جن میں یہ سورت نازل ہوئی۔ جو شخص بھی ایک طرف ان حالات نزول کو دیکھے گا اور  دوسری طرف اس سورۃ کو بغور پڑھے گا اسے اس امر میں کوئی شبہ نہ رہے گا کہ فی الواقع یہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا کلام نہیں ہے بلکہ ’’ اِس کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے۔’’ اس لیے کہ اول سے آخر تک پوری سورۃ میں کہیں ان انسانی جذبات و تأثرات کا ایک ادنیٰ شائبہ تک نہیں پایا جاتا جو ان حالات سے گزرنے والے انسان کے اندر فطری طور پر پیدا ہوتے ہیں۔ اگر یہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا کلام ہوتا، جنہیں پے در پے صدمات اور مصائب کے بے پناہ ہجوم اور طائف کے تازہ ترین چرکے نے خستہ حالی کی انتہا کو پہنچا دیا تھا، تو اس سورے میں کہیں تو ان کیفیات کا عکس نظر آتا جو اس وقت آپ کے دل پر گزر رہی تھیں۔اوپر ہم نے حضورؐ کی دعا نقل کی ہے، اسے دیکھیے۔ وہ آپ کا اپنا کلام ہے۔ اس کا لفظ لفظ ان کیفیات سے لبریز ہے۔ مگر یہ سورۃ جو اسی زمانے اور ان ہی حالات میں آپ ہی کی زبان مبارک سے ادا ہوئی ہے ان کے ہر اثر سے قطعی خالی ہے۔

سورۃ کا موضوع کفار کو ان گمراہیوں کے نتائج سے خبردار کرنا ہے جن میں وہ نہ صرف مبتلا تھے، بلکہ بڑے اصرار اور غرور و استکبار کے ساتھ ان پر جمے ہوئے تھے اور الٹا اس شخص کو ہدف ملامت بنا رہے  تھے  جو انہیں ان گمراہیوں سے نکالنے کے لیے کوشاں تھا۔ ان کے نزدیک دنیا کی حیثیت محض ایک بے مقصد کھلونے کی تھی اور اس کے اندر اپنے آپ کو وہ غیر جواب دہ مخلوق سمجھ رہے تھے۔ توحید کی دعوت ان کے خیال میں باطل تھی اور انہیں اصرار تھا کہ ان کے معبود واقعی خدا کے شریک ہیں۔ وہ قرآن کے متعلق یہ ماننے کو تیار نہ تھے کہ یہ خداوند عالم کا کلام ہے۔ رسالت کا ایک عجیب جاہلانہ تصور ان کے ذہن میں تھا اور اس کی بنا پر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے دعوائے رسالت کو جانچنے  کے لیے وہ طرح طرح کے نرالے معیار تجویز کر رہے تھے۔ان کے نزدیک اسلام کے بر حق نہ ہونے کا ایک بڑا ثبوت یہ تھا کہ ان کے شیوخ اور بڑے بڑے قبائلی سردار اور ان کی قوم کے بوجھ بجھکڑ اسے نہیں مان رہے ہیں،اور صرف چند نوجوان، چند غریب لوگ اور چند غلام ہی اس پر ایمان لائے ہیں۔ وہ قیامت، اور زندگی بعد موت، اور جزا و سزا کی باتوں کو ایک من گھڑت افسانہ سمجھتے تھے، اس ان کا خیال تھا کہ ان چیزوں کا وقوع خارج از امکان ہے۔

اس سورۃ میں بالاختصار ان ہی گمراہیوں میں سے ایک ایک کی مدلل تردید کی گئی ہے اور کفار کو خبردار کیا گیا ہے کہ تم اگر عقل و دلیل سے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے تعصب اور ہٹ دھرمی سے کام لے کر قرآن کی دعوت اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کو رد کر دو گے تو آپ اپنا ہی انجام خراب کرو گے۔

ماخذ: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Loading…

سورۃ الاحقاف کی تمام آیات — عربی متن اور اردو ترجمہ

لفظی ترجمہ، تلفظ اور تفسیر کے لیے کوئی بھی آیت کھولیں۔
  1. 46:1حمٓحٰم.
  2. 46:2تَنزِيلُ ٱلْكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيمِاس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والے کی طرف سے ہے.
  3. 46:3مَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَمَّآ أُنذِرُوا۟ مُعْرِضُونَہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو بہترین تدبیر کے ساتھ ہی ایک مدت معین کے لئے پیدا کیا ہے، اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں منھ موڑ لیتے ہیں.
  4. 46:4قُلْ أَرَءَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِى مَاذَا خَلَقُوا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ ۖ ٱئْتُونِى بِكِتَٰبٍ مِّن قَبْلِ هَٰذَآ أَوْ أَثَٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَآپ کہہ دیجئے! بھلا دیکھو تو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا ٹکڑا بنایا ہے یا آسمانوں میں ان کا کون سا حصہ ہے؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے ہی کی کوئی کتاب یا کوئی علم ہی جو نقل کیا جاتا ہو، میرے پاس ﻻؤ.
  5. 46:5وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُۥٓ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَٰفِلُونَاور اس سے بڑھ کر گمراه اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں.
  6. 46:6وَإِذَا حُشِرَ ٱلنَّاسُ كَانُوا۟ لَهُمْ أَعْدَآءً وَكَانُوا۟ بِعِبَادَتِهِمْ كَٰفِرِينَاور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کر جائیں گے.
  7. 46:7وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٍ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌاور انہیں جب ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو منکر لوگ سچی بات کو جب کہ ان کے پاس آچکی، کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے.
  8. 46:8أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ إِنِ ٱفْتَرَيْتُهُۥ فَلَا تَمْلِكُونَ لِى مِنَ ٱللَّهِ شَئًْا ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ ۖ كَفَىٰ بِهِۦ شَهِيدًۢا بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۖ وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُکیا وه کہتے ہیں کہ اسے تو اس نے خود گھڑ لیا ہے آپ کہہ دیجئے! کہ اگر میں ہی اسے بنا ﻻیا ہوں تو تم میرے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے، تم اس (قرآن) کے بارے میں جو کچھ کہہ سن رہے ہو اسے اللہ خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے وہی کافی ہے، اور وه بخشنے واﻻ مہربان ہے.
  9. 46:9قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ ٱلرُّسُلِ وَمَآ أَدْرِى مَا يُفْعَلُ بِى وَلَا بِكُمْ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ وَمَآ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌآپ کہہ دیجئے! کہ میں کوئی بالکل انوکھا پیغمبر تو نہیں نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو صرف علیاﻻعلان آگاه کر دینے واﻻ ہوں.
  10. 46:10قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ وَكَفَرْتُم بِهِۦ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِۦ فََٔامَنَ وَٱسْتَكْبَرْتُمْ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَآپ کہہ دیجئے! اگر یہ (قرآن) اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اسے نہ مانا ہو اور بنی اسرائیل کا ایک گواه اس جیسی کی گواہی بھی دے چکا ہو اور وه ایمان بھی ﻻچکا ہو اور تم نے سرکشی کی ہو، تو بیشک اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو راه نہیں دکھاتا.
  11. 46:11وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُونَآ إِلَيْهِ ۚ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا۟ بِهِۦ فَسَيَقُولُونَ هَٰذَآ إِفْكٌ قَدِيمٌاور کافروں نے ایمان داروں کی نسبت کہا کہ اگر یہ (دین) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کرنے نہ پاتے، اور چونکہ انہوں نے قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس یہ کہہ دیں گے کہ قدیمی جھوٹ ہے.
  12. 46:12وَمِن قَبْلِهِۦ كِتَٰبُ مُوسَىٰٓ إِمَامًا وَرَحْمَةً ۚ وَهَٰذَا كِتَٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنذِرَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ وَبُشْرَىٰ لِلْمُحْسِنِينَاور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی۔ اور یہ کتاب ہے تصدیق کرنے والی عربی زبان میں تاکہ ﻇالموں کو ڈرائے اور نیک کاروں کو بشارت ہو.
  13. 46:13إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَٰمُوا۟ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَبیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے.
  14. 46:14أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ خَٰلِدِينَ فِيهَا جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَیہ تو اہل جنت ہیں جو سدا اسی میں رہیں گے، ان اعمال کے بدلے جو وه کیا کرتے تھے.
  15. 46:15وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ إِحْسَٰنًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُۥ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُۥ وَفِصَٰلُهُۥ ثَلَٰثُونَ شَهْرًا ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَٰلِحًا تَرْضَىٰهُ وَأَصْلِحْ لِى فِى ذُرِّيَّتِىٓ ۖ إِنِّى تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّى مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَاور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔ یہاں تک کہ جب وه پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اوﻻد بھی صالح بنا، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں.
  16. 46:16أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا۟ وَنَتَجَاوَزُ عَن سَئَِّاتِهِمْ فِىٓ أَصْحَٰبِ ٱلْجَنَّةِ ۖ وَعْدَ ٱلصِّدْقِ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يُوعَدُونَیہی وه لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بداعمال سے درگزر کر لیتے ہیں، (یہ) جنتی لوگوں میں ہیں۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا تھا.
  17. 46:17وَٱلَّذِى قَالَ لِوَٰلِدَيْهِ أُفٍّ لَّكُمَآ أَتَعِدَانِنِىٓ أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ ٱلْقُرُونُ مِن قَبْلِى وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ ٱللَّهَ وَيْلَكَ ءَامِنْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَاور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم سے میں تنگ آگیا، تم مجھ سے یہی کہتے رہو گے کہ میں مرنے کے بعد پھر زنده کیا جاؤں گا مجھ سے پہلے بھی امتیں گزر چکی ہیں، وه دونوں جناب باری میں فریادیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں تجھے خرابی ہو تو ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعده حق ہے، وه جواب دیتا ہے کہ یہ تو صرف اگلوں کے افسانے ہیں.
  18. 46:18أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْقَوْلُ فِىٓ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ خَٰسِرِينَوه لوگ ہیں جن پر (اللہ کے عذاب کا) وعده صادق آگیا، ان جنات اور انسانوں کے گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، یقیناً یہ نقصان پانے والے .تھے.
  19. 46:19وَلِكُلٍّ دَرَجَٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوا۟ ۖ وَلِيُوَفِّيَهُمْ أَعْمَٰلَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَاور ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجے ملیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال کے پورے بدلے دے اور ان پر ﻇلم نہ کیا جائے گا.
  20. 46:20وَيَوْمَ يُعْرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَٰتِكُمْ فِى حَيَاتِكُمُ ٱلدُّنْيَا وَٱسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَٱلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ ٱلْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَاور جس دن کافر جہنم کے سرے پر ﻻئے جائیں گے (کہا جائے گا) تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کر دیں اور ان سے فائدے اٹھا چکے، پس آج تمہیں ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی، اس باعﺚ کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس باعﺚ بھی کہ تم حکم عدولی کیا کرتے تھے.
  21. 46:21۞ وَٱذْكُرْ أَخَا عَادٍ إِذْ أَنذَرَ قَوْمَهُۥ بِٱلْأَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ ٱلنُّذُرُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦٓ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍاور عاد کے بھائی کو یاد کرو، جبکہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا اور یقیناً اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں اور اس کے بعد بھی یہ کہ تم سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی عبادت نہ کرو، بیشک میں تم پر بڑے دن کے عذاب سے خوف کھاتا ہوں.
  22. 46:22قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ ءَالِهَتِنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَقوم نے جواب دیا، کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اپنے معبودوں (کی پرستش) سے باز رکھیں؟ پس اگر آپ سچے ہیں تو جس عذاب کا آپ وعده کرتے ہیں اسے ہم پر ﻻ ڈالیں.
  23. 46:23قَالَ إِنَّمَا ٱلْعِلْمُ عِندَ ٱللَّهِ وَأُبَلِّغُكُم مَّآ أُرْسِلْتُ بِهِۦ وَلَٰكِنِّىٓ أَرَىٰكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ(حضرت ہود نے) کہا (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وه تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو.
  24. 46:24فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا۟ هَٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا ٱسْتَعْجَلْتُم بِهِۦ ۖ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌپھر جب انہوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے.
  25. 46:25تُدَمِّرُ كُلَّ شَىْءٍۭ بِأَمْرِ رَبِّهَا فَأَصْبَحُوا۟ لَا يُرَىٰٓ إِلَّا مَسَٰكِنُهُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِينَجو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گی، پس وه ایسے ہوگئے کہ بجر ان کے مکانات کے اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ گنہگاروں کے گروه کو ہم یوں ہی سزا دیتے ہیں.
  26. 46:26وَلَقَدْ مَكَّنَّٰهُمْ فِيمَآ إِن مَّكَّنَّٰكُمْ فِيهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَأَبْصَٰرًا وَأَفِْٔدَةً فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ أَبْصَٰرُهُمْ وَلَآ أَفِْٔدَتُهُم مِّن شَىْءٍ إِذْ كَانُوا۟ يَجْحَدُونَ بَِٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَاور بالیقین ہم نے (قوم عاد) کو وه مقدور دیئے تھے جو تمہیں تو دیئے بھی نہیں اور ہم نے انہیں کان آنکھیں اور دل بھی دے رکھے تھے۔ لیکن ان کے کانوں اور آنکھوں اور دلوں نے انہیں کچھ بھی نفع نہ پہنچایا جبکہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرنے لگے اور جس چیز کا وه مذاق اڑایا کرتے تھے وہی ان پر الٹ پڑی.
  27. 46:27وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ ٱلْقُرَىٰ وَصَرَّفْنَا ٱلَْٔايَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَاور یقیناً ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں تباه کر دیں اور طرح طرح کی ہم نے اپنی نشانیاں بیان کر دیں تاکہ وه رجوع کر لیں.
  28. 46:28فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ قُرْبَانًا ءَالِهَةًۢ ۖ بَلْ ضَلُّوا۟ عَنْهُمْ ۚ وَذَٰلِكَ إِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَپس قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا معبود بنا رکھا تھا انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی؟ بلکہ وه تو ان سے کھو گئے، (بلکہ دراصل) یہ ان کا محض جھوٹ اور (بالکل) بہتان تھا.
  29. 46:29وَإِذْ صَرَفْنَآ إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ ٱلْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقُرْءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓا۟ أَنصِتُوا۟ ۖ فَلَمَّا قُضِىَ وَلَّوْا۟ إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِينَاور یاد کرو! جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وه قرآن سنیں، پس جب (نبی کے) پاس پہنچ گئے تو (ایک دوسرے سے) کہنے لگے خاموش ہو جاؤ، پھر جب پڑھ کر ختم ہوگیا تو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لئے واپس لوٹ گئے.
  30. 46:30قَالُوا۟ يَٰقَوْمَنَآ إِنَّا سَمِعْنَا كِتَٰبًا أُنزِلَ مِنۢ بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍکہنے لگے اے ہماری قوم! ہم نے یقیناً وه کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو سچے دین کی اور راه راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے.
  31. 46:31يَٰقَوْمَنَآ أَجِيبُوا۟ دَاعِىَ ٱللَّهِ وَءَامِنُوا۟ بِهِۦ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍاے ہماری قوم! اللہ کے بلانے والے کا کہا مانو، اس پر ایمان ﻻؤ، تو اللہ تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں المناک عذاب سے پناه دےگا.
  32. 46:32وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِىَ ٱللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُۥ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءُ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍاور جو شخص اللہ کے بلانے والے کا کہا نہ مانے گا پس وه زمین میں کہیں (بھاگ کر اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتا، نہ اللہ کے سوا اور کوئی اس کے مدد گار ہوں گے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں.
  33. 46:33أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحِْۧىَ ٱلْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰٓ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌکیا وه نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے وه نہ تھکا، وه یقیناً مُردوں کو زنده کرنے پر قادر ہے؟ کیوں نہ ہو؟ وه یقیناً ہر چیز پر قادر ہے.
  34. 46:34وَيَوْمَ يُعْرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ أَلَيْسَ هَٰذَا بِٱلْحَقِّ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَوه لوگ جنہوں نے کفر کیا جس دن جہنم کے سامنے ﻻئے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا کہ) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو جواب دیں گے کہ ہاں قسم ہے ہمارے رب کی (حق ہے) (اللہ) فرمائے گا، اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزه چکھو.
  35. 46:35فَٱصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْعَزْمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ ۚ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةً مِّن نَّهَارٍۭ ۚ بَلَٰغٌ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْفَٰسِقُونَپس (اے پیغمبر!) تم ایسا صبر کرو جیسا صبر عالی ہمت رسولوں نے کیا اور ان کے لئے (عذاب طلب کرنے میں) جلدی نہ کرو، یہ جس دن اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا وعده دیئے جاتے ہیں تو (یہ معلوم ہونے لگے گا کہ) دن کی ایک گھڑی ہی (دنیا میں) ٹھہرے تھے، یہ ہے پیغام پہنچا دینا، پس بدکاروں کے سوا کوئی ہلاک نہ کیا جائے گا.
سورۃ سنیںMishary Alafasy