سورۃ الاحزاب
سورۃ الاحزاب (الأحزاب، معنی: متحد گروہ) قرآن کی ۳۳ویں سورۃ ہے۔ یہ مدنی سورۃ ہے جس میں ۷۳ آیات ہیں، اور یہ پارہ ۲۱ میں مدنی مصحف کے صفحہ ۴۱۸ سے شروع ہوتی ہے۔
سورۃ الاحزاب کا تعارف
نام:
آیت ۲۰ کے فقرہ یَحْسَبُونَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْھَبُوْا سے ماخوذ ہے۔
زمانۂ نزول:
اس سورۃ کے مضامین تین اہم واقعات سے بحث کرتے ہیں۔ ایک غزوۂ اَحزاب جو شوال ۵ ھجری میں پیش آیا۔ دوسرے غزوۂ بنی قُرَیْظَہ جو ذالقعدہ ۵ ھجری میں پیش آیا۔تیسرے حضرت زینب سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا نکاح جو اسی سال ذالقعدہ میں ہوا۔ ان تاریخی واقعات سے سورۃ کا زمانۂ نزول ٹھیک متعیّن ہو جاتا ہے۔
تاریخی پس منظر:
جنگِ اُحْد (شوّال ۳ ھ) میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے مقرر کیے ہوئے تیر اندازوں کی غلطی سے لشکر اسلام کو جو شکست نصیب ہو گئی تھی اس کی وجہ سے مشرکین عرب ، یہود اور مُنافقین کی ہمّتیں بہت بڑھ گئی تھیں اور نہیں اُمید بندھ چلی تھی کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان بڑھتے ہوئے حوصلوں کا اندازہ ان واقعات سے ہو سکتا ہے جو اُحْد کے بعد پہلے ہی سال میں پیش آئے۔جنگ اُحْد پر دو مہینوں سے زیادہ نہ گزرے تھے کہ نجد کے قبیلۂ بنی اَسَدْ نے مدینہ طیّبہ پر چھاپا مارنے کی تیاریاں کیں اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ان کی روک تھام کے لیے سَرِیَّۂابو سَلَمہ(اصطلاح میں سَرِیہَّ اس فوجی مہم کو کہتے ہیں جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم خود شریک نہ ہوتے تھے۔ اور غزْوہ اُس جنگ یا مہم کو کہا جاتا ہے جس میں حُضورؐ خود قیادت فرماتے تھے ) بھیجنا پڑا۔ پھر صفر ۴ھ میں قبائل عَضَل اور قارَہ نے حضُورؐ سے چند آدمی مانگے تاکہ وہ ان علاقہ میں جا کر لوگوں کو دینِ اسلام کی تعلیم دیں۔ حُضورؐ نے چھ اصحاب کو ان کے ساتھ کر دیا۔مگر رَجیع(جدّہ اور رابِغ کے درمیان ) پہنچ کر وہ لوگ قبیلۂ ھُذَیل کے کفار کو ان بے بس مبلّغین پر چڑھا لائے ، ان میں سے چار کو قتل کر دیا ، اور دو صاحبوں (حضرت خُبَیب بن عَدِی اور حضرت زید بن الدَّثِنَّہ ) کو لے جا کر مکّۂ معظمہ میں دشمنوں کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ پھر اسی ماہِ صفر میں بنی عامر کے ایک سردار کی درخواست پر حضورؐ نے ایک اور وفد جو چالیس (یا بقول بعض ۷۰)انصاری نوجوانوں پر مشتمل تھا ، نجد کی طرف روانہ کیا۔مگر ان کے ساتھ بھی غدّاری کی گئی اور بنی سُلیم کے قبائل عُصَیَّہ اور رِعْل اور ذکْو ان نے بِئر مَعُونہ کے مقام پر اچانک نرغہ کر کے ان سب کو قتل کر دیا۔ اسی دوران میں مدینے کا یہودی قبیلہ بنی النَّضِیر دلیر ہو کر مسلسل بد عہدیاں کرتا رہا ، یہاں تک کہ ربیع الاوّل ۴ ھ میں اُس نے خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو شہید کر دینے کی سازش تک کر ڈالی۔ پھر جمادی الاولیٰ ۴ھ میں بنی غَطَفان کے دو قبیلوں ، بنو ثَعْلَبَہ اور بنو مُحَارِب نے مدینہ پر حملے کی تیاریاں کیں اور حضُورؐ کو خود ان کی روک تھام کے لیے جانا پڑا۔ اس طرح جنگ اُحْد کی شکست سے جو ہَوا اُکھڑی تھی وہ مسلسل سات آٹھ مہینے تک اپنا رنگ دکھاتی رہی۔
لیکن وہ صرف محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا عزم و تدبّر اور صحابۂ کرام کا جذبۂ فدا کاری تھا جس نے تھوڑی مدّت کے اندر ہی حالات کا رُخ بدل کر رکھ دیا۔ عربوں کے معاشی مقاطعہ نے اہل مدینہ کے لیے جینا دشوار کر رکھا تھا۔گرد و پیش کے تمام مشرک قبائل چیرہ دست ہو رہے تھے۔ خود مدینہ کے اندر یہود اور منافقین مارِ آستین بنے ہوئے تھے۔ مگر ان مٹھی بھر مومنین صادقین نے رسولؐ خُدا کی قیادت میں پے درپے ایسے اقدامات کیے جن سے عرب میں اسلام کا رعب صرف بحال ہی نہیں ہو گیا ، بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔جنگِ احزاب سے پہلے کے غَزوات: ان میں سے اوّلین اقدام وہ تھا جو جنگ اُحُد کے فوراً ہی بعد کیا گیا۔جنگ کے ٹھیک دوسرے روز جبکہ بکثرت مسلمان زخمی تھے اور بہت سے عزیز ترین اقارب کی شہادت پر کہرام برپا تھا اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی زخمی اور حضرت حمزہؓ کی شہادت پر دِلفگار تھے ، حضُورؐ نے اسلام کے فِدائیوں کو پُکارا کہ لشکر کفّار کے تعاقب میں چلنا ہے تاکہ وہ کہیں راستے سے پلٹ کر پھر مدینے پر حملہ آور نہ ہو جائیں۔ حضورؐ کا اندازہ بالکل صحیح تھا کہ کفّار قریش ہاتھ آئی ہوئی فتح کا کوئی فائدہ اُٹھائے بغیر واپس تو چلے گئے ہیں ،لیکن راستے میں جب کسی جگہ ٹھیریں گے تو اپنی اس حماقت پر نادم ہوں گے اور دوبارہ مدینے پر چڑھ آئیں گے۔ اس بناء پر آپ نے ان کے تعاقب کا فیصلہ کیا اور فوراً ۳۶۰ جاں نثار آپؐ کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو گئے۔ مکّہ کے راستے میں جب حَمْرأالاسد پہنچ کر آپؐ نے تین روز تک پڑاؤ کیا تو ایک ہمدرد غیر مسلم کے ذریعہ سے آپ کو معلوم ہو گیا کہ ابو سُفْیان اپنے ۲۹۷۸ آدمیوں کے ساتھ مدینے سے ۳۶ میل دور الرَّوحأ کے مقام پر ٹھیرا ہوا تھا اور یہ لوگ فی الواقع اپنی غلطی کو محسوس کر کے پھ پلٹ آنا چاہتے تھے ، لیکن یہ سُن کر ان کی ہمت ٹوٹ گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک لشکر لیے ہوئے ان کے تعاقب میں چلے آ رہے ہیں۔اس اس کارروائی کا صرف یہی فائدہ نہیں ہوا کہ قریش کے بڑھے ہوئے حوصلے پست ہو گئے ، بلکہ گرد و پیش کے دشمنوں کو بھی یہ معلوم ہو گیا کہ مسلمانوں کی قیادت ایک انتہائی بیدار مغز اور اولوالعزم ہستی کر رہی ہے اور مسلمان اس کے اشارے پر کٹ مرنے کے لیے ہر وقت تیا رہیں۔(مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اوّل ، صفحات ۲۲۹۔۲۳۰۔۳۰۳)
پھر جوں ہی بنی اسد نے مدینے پر چھاپہ مارنے کی تیاریاں شروع کیں ، حضورؐ کے مخبروں نے بروقت آپ کو اُن کے اِرادوں سے با خبر کر دیا۔قبل اس کے کہ وہ چڑھ آتے ، آپ نے حضرت ابو سَلَمہ (اُمّ المومنین حضرت اُم سلَمہؓ کے پہلے شوہر)کی قیادت میں ڈیڑھ سو آدمیوں کا ایک لشکر ان کی سرکوبی کے لیے بھیج دیا۔ یہ فوج اچانک ان کے سَر پر پہنچ گئی۔ بدحواسی کے عالم میں وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھاگ نکلے اور ان کا سارا مال اسباب مسلمانوں کے ہاتھ لگ گیا۔اس کے بعد بنی النَّضیر کی باری آئی۔ جس روز انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو شہید کرنے کی سازش کی اور اس کا راز فاش ہوا اُسی روز آپؐ نے ان کو نوٹس دے دیا کہ دس دن کے اندر مدینے سے نِکل جاؤ ، اس کے بعد تم میں سے جو یہاں پایا جائے گا قتل کر دیا جائے گا۔ منافقین مدینہ کے سردار عبداللہ بن اُبیّ نے ان کو تَڑی دی کہ ڈٹ جاؤ اور مدینہ چھوڑنے سے انکار کر دو ، میں دو ہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری مدد کروں گا، بنی قُرَیظہ تمہاری مدد کریں گے اور نجد سے بنی غَطَفان بھی تمہاری مدد کے لیے آئیں گے۔ ان باتوں میں آ کر اُنہوں نے حضورؐ کو کہلا بھیجا کہ ہم اپنا علاقہ نہیں چھوڑیں گے ، آپ سے جو کچھ کر لیجئے ،حضورؐ نے نوٹس کی میعاد ختم ہوتے ہی ان کا محاصرہ کر لیا اور ان کے حامیوں میں سے کسی کی یہ ہمت نہ پڑی کہ مدد کو آتا۔ آخر کار انہوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈال دئے کہ ان میں سے ہر تین آدمی ایک اونٹ پر جو کچھ لاد کر لے جا سکتے ہیں لے جائیں اور باقی سب کچھ مدینہ ہی میں چھوڑ جائیں گے۔ اس طرح مضافات مدینہ کا وہ پورا محلہ جس میں بنی نَضیر رہتے تھے ، ان کے باغات اور گَڑھیوں اور سر و سامان سمیت مسلمانوں کے ہاتھ آگیا اور اس بد عہد قبیلے کے لو گ خیبر ، وادی القُریٰ اور شام میں تتّر بتّر ہو گئے۔
پھر آپؐ نے بنی غَطَفان کی طرف توجہ کی جو مدینے پر حملہ آور ہونے کے لیے پر تول رہے تھے۔ آپ چار سو کا لشکر لے کر نکلے اور ذات الرِّقاع کے مقام پر اس کو جالیا۔ اس اچانک حملے نے ان کے حواس باختہ کر دیے اور کسی جنگ کے بغیر وہ اپنے گھر بار اور مال اسباب چھوڑ کر پہاڑوں میں منتشر ہو گئے۔اس کے بعد شعبان ۴ ہجری میں آپ ابو سفیان کے اُس چیلنج کا جواب دینے کے لیے نکلے جو اس نے اُحد سے پلٹتے ہوئے دیا تھا۔ خاتمۂ جنگ پر اُس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں کی طرف رُخ کر کے اعلان کیا تھا کہ ان موعد کم بد رللعام المقبل(آئندہ سال بدع کے مقام پر ہمارا تمہارا پھر مقابلہ ہو گا)اور حضورؐ نے جواب میں ایک صحابی کے ذریعہ سے یہ اعلان کرا دیا تھا کہ نعم ، ھی بیننا وبینیک موعد(ٹھیک ہے ، یہ بات ہمارے اور تیرے درمیان طے ہو گئی )۔ اس قرار داد کے مطابق طے شدہ وقت پر آپ ۱۵ سو صحابیوں کو لے کر بدر کے مقام پر پہنچ گئے۔ اُدھر سے ابو سُفیان دو ہزار کا لشکر لے کر چلا مگر مُرَّالظَّہران (موجودہ وادیِ فاطمہ ) سے آگے بڑھنے کی ہمّت نہ کر سکا۔ حضورؐ نے بدر میں آٹھ دن اس کا انتظار کیا اور اس دوران میں مسلمان تجارت کر کے ایک درہم کے دو درہم کماتے رہے۔ اس واقعہ سے وہ دھاک جو اُحُد میں اُکھڑی تھی پہلے سے زیادہ جم گئی۔اس نے پورے عرب پر یہ بات کھول دی کہ اب تنہا قریش محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے۔(اس کی مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ،جلد اوّل ،ص ۳۰۴)
اس دھاک میں ایک اور واقعہ نے مزید اضافہ کیا۔ عرب اور شام کی سرحد پر دُدمتہ الجَنْدَل (موجودہ الجَوف )ایک اہم مقام تھا جہاں اے عراق اور مصر و شام کے درمیان عرب کے تجارتی قافلے گزرتے تھے۔ اس مقام کے لوگ قافلوں کو تنگ کرتے اور اکثر لوٹ لیتے تھے۔ نبی صلّی اللہ علیہ و سلم ربیع الاوّل ۵ ھ میں ایک ہزار کا لشکر لے کر ان کی تادیب کے لیے خود تشریف لے گئے۔وہ آپؐ کے مقابلے کی ہمت نہ کر سکے اور بستی چھوڑ کر بھاگ نکلے۔اس سے پورے شمالی عرب پر اسلام کی ہیبت بیٹھ گئی اور قبائل نے یہ سمجھ لیا کہ مدینے میں جو زبردست طاقت پیدا ہوئی ہے اس کا مقابلہ اب ایک دو قبیلوں کے بس کا کام نہیں ہے۔ یہ حالات تھے جن میں غزوۂ احزاب پیش آیا ، یہ غزوہ دراصل عرب کے بہت سے قبائل کا ایک مشترک حملہ تھا جو مدینے کی اس طاقت کو کچل دینے کے لئے کیا گیا تھا۔۔۔اس کے تحریک بنی النَّضِیر کے اُن لیڈروں نے کے تھی جو جلا وطن ہو کر خیبر میں مقیم ہو گئے تھے۔انہوں نے دَورہ کر کے قریش اور غَلْطفان اور ہُذَیل اور دوسرے بہت سے قبائل کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اب مِل کر بہت بڑی جمیعت کے ساتھ مدینے پر ٹوٹ پڑیں۔ چنانچہ ان کی کوششوں اے شوال ۵ ھ میں قبائل عرب کی اتنی بڑی جمیعت اس چھوٹی سی بستی پر حملہ آور ہو گئی جو اس سے پہلے عرب میں کبھی جمع نہ ہوئی تھی۔ اس میں شمال کی طرف بنی النَّضِیر اور قَیْنقُاع کے وہ یہودی آئے جو مدینے سی جلا وطن ہو کر خیبر اور وادی القُریٰ میں آباد ہوئے تھے۔ مشرق کی طرف سے غَطَفان کے قبائل(بنو سُلَیم،فَزارہ،مُرَّہ،اَشجع،سَعد اورا َسَد وغیرہ)نے پیش قدمی کی۔ اور جنوب کی طرف سے قریش اپنے حلیفوں کی ایک بھاری جمیعت لے کر آگے بڑھے۔ مجموعی طور پر ان کی تعداد دس بارہ ہزار تھی۔یہ حملہ اگر اچانک ہوتا تو سخت تباہ کُن ہوتا۔لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ طیّبہ میں بے خبر بیٹھے ہوئے نہ تھے بالکہ آپ کے خبر رساں اور تحریک اسلامی کے ہمدرد اور متاثرین جو تمام قبائل میں موجود تھے ، آپ کو دشمنوں کی نقل و حرکت سے برابر مطلع کرتے رہتے تھے (یہ قوم پرست جتھوں کے مقابلے میں ایک نظریاتی تحریک کی فوقیت کا ایک اہم سبب ہوتا ہے۔ قوم پرست جتھے صرف اپنی قوم کے افراد کی تائید و حمایت ہی پر انحصار رکھتے ہیں۔ لیکن ایک اُصولی و نظریاتی تحریک اپنی دعوت سے ہر سمت میں بڑھتی ہے اور خود ان جتھوں کے اندر سے اپنے حامی نکال لاتی ہے۔ )قبل اس کے کہ یہ جمِّ غفیر آپ کے شہر پہنچتا،آپ نے چھ دن کے اندر مدینہ کے شمال غربی رُخ پر ایک خندق کھُدوا لی اور کوہ سَلْع کو پشت پر لے کر تین ہزار فوج کے ساتھ خندق کی پناہ میں مدافعت کے لیے تیار ہو گئے۔ مدینہ کے جنوب میں باغات اس کثرت سے تھے (اور اب بھی ہیں ) کہ اس جانب سے کوئی حملہ اس پر نہ ہو سکتا تھا۔ مشرق میں حَرّات (لادے کی چٹانیں ) ہیں جن پر سے کوئی اجتماعی فوج کشی آسانی کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔ یہی کیفیت مغربی جنوبی گوشے کی بھی ہے۔ اس لیے حملہ صرف اُحُد کے مشرقی اور مغربی گوشوں سے ہو سکتا تھا اور اسی جانب حضورؐ نے خندق کھدوا کر شہر کو محفوظ کر لیا تھا۔ یہ چیز سرے سے کفار کے جنگی نقشے میں تھی ہی نہیں کہ انہیں مدینے کے باہر خندق سے سابقہ پیش آئے گا، کیونکہ اہل عرب اس طریقِ دفاع سے نا آشنا تھے۔ نا چار انہیں جاڑے کے زمانے میں ایک طویل محاصرے کے لیے تیار ہونا پڑا جس کے لیے وہ گھروں سے تیار ہو کر نہیں آئے تھے۔
اس کے بعد کفار کے لیے صرف ایک ہی تدبیر باقی رہ گئی تھی ، اور وہ یہ کہ بنی قُر یظہ کے یہودی قبیلے کو غدّاری پر آمادہ کریں جو مدینہ طیّبہ کے جنوب مشرقی گوشے میں رہتا تھا۔ چوں کہ اس قبیلے سی مسلمانوں کا باقاعدہ حلیفانہ معاہدہ تھا جس کی رو سے مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر مدافعت کرنے کا پابند تھا ، اس لیے مسلمانوں نے اس طرف سی بے فکر ہو کر اپنے بال بچّے اُن گڑھیوں میں بھجو دیے تھے جو بن قریظہ کی جانب تھیں اور اُدھر مدافعت کا کوئی انتظام نہ کیا تھا۔ کفار نے اسلامی دفاع کے اس کمزور پہلو کو بھانپ لیا۔اُن کی طرف سے بنی النَّضیر کا یہودی سردار حُیّی بن اخْطَب بنی قُریظہ کے پاس بھیجا گیا تاکہ انہیں معاہدہ توڑ کر جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کرے۔ ابتداءً اُنہوں نے اس سے انکار کیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ ہمارا محمد(صلی اللہ علیہ و سلم )سے معاہدہ ہے اور آج تک کبھی ہمیں ان سی کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی ہے۔ لیکن جب ابنِ اخطب نے ان سے کہا کہ ’’دیکھو ، میں اس وقت عرب کی متحدہ طاقت اس شخص پر چڑھا لایا ہوں ، یہ اسے ختم کر دینے کا نادر موقع ہے ، اس کو اگر تم نے کھو دیا تو پھر دوسرا کوئی موقع نہ مل سکے گا‘‘،تو ذہن کی اسلام دشمنی اخلاق کے پاس و لحاظ پر غالب آ گئی اور بنی قریظہ عہد توڑنے پر آمادہ ہو گئے۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس معاملے سے بھی بے خبر نہ تھے۔ آپؐ کو بر وقت اس کی اطلاع مل گئی اور آپؐ نے فوراً انصار کے سرداروں (سعد بن غُبّادہ،سعد بن مُعاذ ،عبداللہ بن رواعہ اور خَوّات بن جُبیر )کو ان کے پاس تحقیقِ حال اور فہمائش کے لیے بھیجا۔ چلتے وقت آپؐ نے اُن کو ہدایت فرمائی کہ اگر بنی قُریظہ عہد پر قائم رہیں تو آ کر سارے لشکر کے سامنے علی ا لاعلان یہ خبر سُنا دینا۔ لیکن اگر وہ نقضِ عہد پر مُصر ہوں صرف مجھ کو اشارۃً اس کی اطلاع دے دینا تاکہ عام مسلمان یہ بات سُن کر پست ہمّت نہ ہو جائیں۔ یہ حضرات وہاں پہنچے تو بنی قریظہ کو پوری خباثت پر آمادہ پایا اور انہوں نے برملا ان سی کہہ دیا کہ لا عقد بیننا وبین محمد ولا عھد۔ ’’ہمارے محمدؐ کے درمیان کوئی عہد پیما نہیں ہے ‘‘،۔اس جواب کو سن کر وہ لشکرِ اسلام میں واپس آئے اور اشارۃً حضورؐ سے عرض کر دیا :عَضَل وقارَہ۔ یعنی قبیلہ عَضَل وقارَہ نے رَجیع کے مقام پر مبلّغین اسلام کے وفد سے جو غدّاری کی تھی ، وہی کچھ اب بنی قریظہ کر رہے ہیں۔
یہ خبر بہت جلد ی مدینہ کے مسلمانوں میں پھیل گئی اور ان کے اندر اس سے سخت اضطراب پیدا ہو گیا۔ کیوں کہ اب وہ دونوں طرف سے گھیرے میں آ گئے تھے اور ان کے شہر کا وہ حصّہ خطرے میں پڑ گیا تھا جدھر دفاع کا بھی کوئی انتظام نہ تھا اور سب کے بال بچّے بھی اسی جانب تھے۔ اس پر منافقین کی سرگرمیاں اور تیز ہو گئیں اور انہوں نے اہل ایمان کے حوصلے پست کرنے کے لیے طرح طرح کے نفسیاتی حملے شروع کر دیے۔ کسی نے کہا کہ ’’ ہم سے تو وعدے تو قیصر و کسریٰ کے ملک فتح ہو جانے کے کیے جا رہے تھے ،اور حال یہ ہے کہ ہم رفع حاجت کے لیے بھی نہیں نکل سکتے۔‘‘ کسی نے یہ کہہ کر خندق کے محاذ سے رخصت مانگی کہ اب تو ہمارے گھر ہی خطرے میں پڑ گئے ہیں ہمیں جا کر اُن کی حفاظت کرنی ہے۔ کسی نے یہاں تک خفیہ پروپگنڈا شروع کر دیا کہ حملہ آوروں سے اپنا معاملہ درست کر لو اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ان کے حوالے کر دو۔ یہ ایسی شدید آزمائش کا وقت تھا جس میں ہر اس شخص کا پردہ فاش ہو گیا جس کے دِل میں ذرّہ برابر بھی نفاق موجود تھا۔ صرف صادق و مخلص اہل ایمان ہی تھے جو اس کڑے وقت میں بھی فدا کاری کے عزم پر ثابت قدم رہے۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس نازک موقع پر بنی غطفان سے صلح کی بات چیت شروع کی اور ان کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہا کہ مدینے کے پھلوں کی پیداوار کا تیسرا حصّہ لے کر واپس چلے جائیں۔ لیکن جب انصار کے سرداروں (سعدؓبن عُبادہ اور سعدؓ بن مُعاذ) سے آپؐ نے اِن شرائط صلح کے متعلق مشورہ طلب کیا تو انہوں نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ، یہ آپؐ کی خواہش ہے کہ ہم ایسا کریں ؟ یا یہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمارے لیے اسے قبول کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے ؟ یا آپؐ ہمیں بچانے کے لیے یہ تجویز فرما رہے ہیں ؟ آپؐ نے جواب دیا ’’ میں صرف تم لوگوں کو بچانے کے لیے ایسا کر رہا ہوں ، کیوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سارا عرب متحد ہو کر تم پر پِل پڑا ہے ، میں چاہتا ہوں کہ ان کو ایک دوسرے سے توڑ دوں۔‘‘اس پر دونوں سرداروں نے بالاتفاق کہا کہ ’’ اگر آپؐ ہماری خاطر یہ معاہدہ کر رہے ہیں تو اسے ختم کر دیجیے۔ یہ قبیلے ہم سے اُس وقت بھی ایک حبّہ خراج کے طور پر کبھی نہ لے سکے تھے جب ہم مشرک تھے۔ اور اب تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا شرف ہمیں حاصل ہے۔ کیا اب یہ ہم سے خراج لیں گے ؟ ہمارے اور ان کے درمیان اب صرف تلوار ہی ہے ،یہاں تک کہ اللہ ہمارا اور ان کا فیصلہ کر دے ‘‘۔ یہ کہہ کر انہوں نے معاہدے کے اس مسودے کو چاک کر دیا جس پر ابھی دستخط نہ ہوئے تھے۔
اسی دوران میں قبیلۂ غَطَفا ن کی شاخ اشجَع کے ایک صاحب نَعیم بن مسعُود مسلمان ہو کر حضورؐ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ابھی تک کسی کو بھی میرے قبول اسلام کا علم نہیں ہے ، آپؐ مجھ سے اس وقت جو خدمت لینا چاہیں میں اسے انجام دے سکتا ہوں۔ حضورؐ نے فرمایا ، تم جا کر دشمنوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوئی تدبیر کرو(اسی موقعہ پر حضورؐ نے فرمایا تھا اَلْحَرْبُ خُدْ عَۃ۔یعنی جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے۔)چنانچہ وہ پہلے بنی قُریظہ کے پاس گئے جن سے ان کا بہت میل جول تھا ،اور ان سے کہا کہ قریش اور غطفان تو محاصرے سے تنگ آ کر واپس بھی جا سکتے ہیں ، ان کا کچھ نہ بگڑے گا ، مگر تمہیں مسلمانوں کے ساتھ اسی جگہ رہنا ہے ، وہ لوگ اگر چلے گئے تو تمہارا کیا بنے گا۔ میری رائے یہ ہے کہ تم اس وقت تک جنگ میں حصّہ نہ لو جب تک اِن باہر سے آئے ہوئے قبائل کے چند نمایاں آدمی تمہارے پاس یرغمال کے طور پر نہ بھیج دیے جائیں۔ یہ بات بنی قریظہ کے دِل میں اُتر گئی اور انہوں نے متحدہ محاذ کے قبائل سے یرغمال طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ پھر یہ صاحب قریش اور غطفان کے سرداروں کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ بنی قریظہ کچھ ڈھیلے پڑتے نظر آ رہے ہیں ،بعید نہیں کہ وہ تم سے یرغمال کے طور پر کچھ آدمی مانگیں اور انہیں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے حوالے کر کے اپنا معاملہ صاف کر لیں۔ اس لیے ذرا ان کے ساتھ ہوشیاری سے معاملہ کرنا۔اس سے متحدہ محاذ کے لیڈر بنی قُریظہ کی طرف سے کھٹک گئے اور انہوں نے قُرظی سرداروں کو پیغام بھیجا کہ اس طویل محاصرے سے اب ہم تنگ آ گئے ہیں ، اب ایک فیصلہ کن لڑائی ہو جانی چاہیے ، کل تم اُدھر سے حملہ کرو اور ہم اِدھر سی یکبارگی مسلمانوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ بنی قُریظہ نے جواب میں کہلا بھیجا کہ آپ لوگ اپنے چند نمایاں آدمی یرغمال کے طور پر ہمارے حوالہ نہ کر دیں ، ہم جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ اس جواب سے متحدہ محاذ کے لیڈروں کو یقین آگیا کہ نعیم کی بات سچی تھی۔ انہوں نے یرغمال دینے سے انکار کر دیا اور اس سے بنی قُریظہ نے سمجھ لیا کہ نعیم نے ہم ٹھیک مشورہ دیا تھا۔ اِس طرح یہ جنگی چال بہت کامیاب ثابت ہوئی اور اس نے دشمنوں کے کیمپ میں پھوٹ ڈال دی۔اب محاصرہ پچیس دن سے زیادہ طویل ہو چکا تھا۔ سردی کا زمانا تھا۔ اتنے بڑے لشکر کے لیے پانی اور غذا اور چارے کی فراہمی بھی مشکل تر ہوتی چلی جا رہی تھی۔ اور پھوٹ پڑ جانے سی بھی محاصرین کے حوصلے پست ہو چکے تھے۔ اس حالت میں یکایک ایک رات سخت آندھی کی زور سے دشمنوں کے خیمے الٹ گئے اور ان کے اندر شدید افراتفری برپا ہو گئی۔ قدرت خداوندی کا یہ کاری وار وہ نہ سہہ سکے۔ راتوں رات ہر ایک نے اپنے گھر کی راہ لی اور صبح جب مسلمان اٹھے تو میدان میں ایک دشمن بھی موجود نہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے میدان کو دشمنوں سے خالی دیکھ کر فوراً ارشاد فرمایا: لن تغزوکم قریش بعد عا مکم ھٰذا ولکنکم تغز ونھم۔ یعنی ’’اب قریش کے لوگ تم پر کبھی چڑھائی نہ کر سکیں گے۔ اب تم ان پر چڑھائی کرو گے ‘‘۔ یہ حالات کے بالکل صحیح اندازہ تھا۔ قریش ہی نہیں ، سارے دشمن قبائل متحدہ ہو کر اسلام کے خلاف اپنا آخری داؤ چل چکے تھے۔ اس میں ہار جانے کے بعد اب ان میں یہ ہمت ہی باقی نہ رہی تھی کہ مدینے پر حملہ آور ہونے کی جرأت کر سکتے۔ اب حملے (
offensive) کی قوت دشمنوں سے مسلمانوں کی طرف منتقل ہو چکی تھی۔ خندق سے پلٹ کر جب حضورؐ گھر پہنچے تو ظہر کے وقت جبرئیلؑ نے آ کر حکم سنایا کہ ابھی ہتھیار نہ کھولے جائیں ، بنی قریظہ کا معاملہ باقی ہے ، ان سے بھی اسی وقت نمٹ لینا چاہئے۔ یہ حکم پاتے ہیں حضورؐ نے فوراً اعلان فرمایا کہ ’’جو کوئی سمع و طاعت پر قائم ہو وہ عصر کی نماز اس وقت تک نہ پڑھے جب تک دیار بنی قریظہ پر نہ پہنچ جائے ‘‘۔ اس اعلان کے ساتھ ہی آپؐ نے حضرت علیؓ کو ایک دستے کے ساتھ مقدمۃ الجیش کے طور پر بنی قریظہ کی طرف روانہ کر دیا۔ وہ جب وہاں پہنچے تو یہودیوں نے کوٹھوں پر چڑھ کر نبی ﷺ اور مسلمانوں پر گالیوں کی بوچھار کر دی، لیکن یہ بدزبانی ان کو اس جرم عظیم کے خمیازے سے کیسے بچا سکتی تھی کہ انہوں نے عین لڑائی کے وقت معاہدہ توڑ ڈالا اور حملہ آوروں سے مل کر مدینے کی پوری آبادی کو ہلاکت کے خطرے میں مبتلا کر دیا۔ حضرت علیؓ کے دستے کو دیکھ کر وہ سمجھے تھے کہ یہ محض دھمکانے آئے ہیں۔ لیکن جب حضورؐ کی قیادت میں پورا اسلامی لشکر وہاں پہنچ گیا اور ان کی بستی کا محاصرہ کر لیا گیا تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔ محاصرہ کی شدت کو وہ دو تین ہفتوں سے زیادہ برداشت نہ کر سکے اور آخر کار انہوں نے اس شرط پر اپنے آپ کو نبیﷺ کے حوالے کر دیا کہ وہ قبلہ اَوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے حق میں جو فیصلہ بھی کر دیں گے اس فریقین مان لیں گے۔ اُنہوں نے حضرت سعد بن مُعاذ رضی اللہ عنہ ان کے حق میں جو فیصلہ بھی کر دیں گے اسے فریقین مان لیں گے۔ انہوں نے حضرت سعدؓ کو اس امید پر حُکم بنایا تھا کہ زمانۂ جاہلیت میں اَوس اور بنی قریظہ کے درمیان جو حلیفانہ تعلقات مدّتوں سے چلے آ رہے تھے وہ ان کا لحاظ کریں گے اور اُنہیں بھی اسی طرح مدینہ سے نِکل جانے دیں گے جس طرح پہلے بنی قَیْنقُا ع اور بنی النضیر کو نِکل جانے دیا گیا تھا۔ خود قبیلۂ اَوس کے لوگ بھی حضرت سعد ؓ سے تقاضا کر رہے تھے کہ اپنے حلیفوں کے ساتھ نرمی برتیں۔ لیکن حضرت سعدؓ ابھی بھی دیکھ چکے تھے کہ پہلے جن دو یہودی قبیلوں کو مدینہ سے نِکل جانے کا موقع دیا تھا وہ کس طرح ساری گرد و پیش کے قبائل کو بھڑکا کر مدینے پر دس بارہ ہزار کا لشکر چڑھا لائے تھے۔ اور یہ معاملہ بھی ان کی سامنے تھا کہ اس آخری یہودی قبیلے نی عین بیرونی حملے کے موقع پر بد عہدی کر کے اہل مدینہ کو تباہ کر دینے کا کیا سامان کیا تھا۔ اس لیے انہوں نے فیصلہ دیا کہ بنی قریظہ کے تمام مرد قتل کر دیے جائیں ، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے ، اور ان کی تمام املاک مسلمانوں میں تقسیم کر دی جائیں۔ اس فیصلے پر عمل کیا گیا اور جب بنی قریظہ کی گڑھیوں میں مسلمان داخل ہوئے تو انہیں پتہ چلا کہ جنگِ احزاب میں حصہ لینے کے لیے ان غدّاروں نے پندرہ سو تلواریں ، تین سو زرہیں ، دو ہزار نیزے اور پندرہ سو ڈھالیں فراہم کی تھیں۔ اگر اللہ کی تائید مسلمانوں کے شامل حال نہ ہوتی تو یہ سارا جنگی سامان عین وقت مدینہ پر عقب سے حملہ کرنی کے لیے استعمال ہوتا جبکہ مشرکین یکبارگی خندق پار کر کے ٹوٹ پڑنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ س انکشاف کے بعد تو اس امر میں شک کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہ رہی کہ حضرت سعدؓ نے ان لوگوں کے معاملہ میں جو فیصلہ دیا وہ بالکل حق تھا۔
معاشرتی اصلاحات : جنگ اُحُد اور جنگ احزاب کے درمیان ، دو سال کا یہ زمانہ اگر چہ ایسے ہنگاموں کا زمانہ تھا جن کی بدولت نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپؐ کے اصحاب کو ایک دن کی لیے بھی امن اور اطمینان نصیب نہ ہوا۔ لیکن اس پوری مدّت میں نئے مسلم معاشرے کی تعمیر ، اور ہر پہلو میں زندگی کی اصلاح کا کا م برابر جاری رہا یہی زمانہ تھا جس میں مسلمانوں قوانین نکاح و طلاق قریب قریب مکمل ہو گئے اور وراثت کا قانون بنا ، شراب اور جوئے کو حرام کیا گیا ، اور معیشت و معاشرت کے دوسرے بہت سے پہلوؤں میں نئے ضابطے نافذ کئے گئے۔اس سلسلے کا ایک اہم مسئلہ جو اصلاح کا تقاضا کر رہا تھا تَبْنِیتْ(گود لینے یا بیٹا بنانے ) کا مسئلہ تھا۔ عرب کی لوگ جس بچے کو متبنیٰ بنا لیتے تھے وہ بالکل اُن کی حقیقی اولاد کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ اسے وراثت ملتی تھی۔ اس سی منہ بولی ماں اور منہ بولی بہنیں وہی خلا ملا رکھتی تھیں جو حقیقی بیٹے اور بھائی سے رکھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ منہ بولے باپ کے مر جانے کے بعد اس کی بیوہ کا نکاح اسی طرح ناجائز سمجھا جاتا تھا جس طرح سگی بہن اور حقیقی ماں کے ساتھ کسے کا نکاح حرام ہوتا ہے۔ اور یہی معاملہ اس صورت میں بھی کیا جاتا تھا جب منہ بولا بیٹا مر جائے یا اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ منہ بولے باپ کے لیے وہ عورت سگی بہو کی طرح سمجھی جاتی تھی۔ یہ رسم قدم قدم پر نکاح اور طلاق اور وراثت کے اُن قوانین سے ٹکراتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ اور سورۂ نساء میں مقرر فرمائے تھے اُن کی رُو سے جو لوگ حقیقت میں وراثت کے حق دار تھے یہ رسم ان کا حق مار کر ایک ایسے شخص دلواتی تھی جو سرے سے کوئی حق نہ رکھتا تھا۔ اُن کی رُو سے جن عورتوں اور مردوں کے درمیان رشتۂ نکاح حلال تھا، یہ رسم ان کے باہمی نکاح کو حرام کرتی تھی۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ اسلامی قانون جن بد اخلاقیوں کا سدِّ باب کرنا چاہتا تھا ، یہ رسم ان کے پھیلنے میں مدد گار کیوں کہ رسم کے طور پر منہ بولے رشتے میں خواہ کتنا ہی تقدُّس پیدا کر دیا جائے ، بہر حال منہ بولی ماں ، منہ بولی بہن اور منہ بولی بیٹی حقیقی ماں اور بیٹی کی طرح نہیں ہو سکتی۔ ان مصنوعی رشتوں کے رسمی تقدّس پر بھروسہ کر کے مردوں اور عورتوں کے درمیان جب حقیقی رشتہ داروں کا سا خلا ملا ہو تو وہ بُرے نتائج پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان وجوہ اے اسلامی قانونِ نِکاح و طلاق ، قانونِ وراثت اور قانونِ حرمتِ زنا کا یہ تقاضا تھا کہ متبنّیٰ کو حقیقی اولاد کی طرح سمجھنے کے تخیّل کا قطعی استیصال کر دیا جائے۔
لیکن یہ تخیّل محض ایک قانونی حکم کے طور پر اتنی سی بات کر دینے سے ختم نہیں ہو سکتا تھا کہ۔۔’’ منہ بولا رشتہ کوئی حقیقی رشتہ نہیں ہے۔‘‘صدیوں کے جمے ہوئے تعصبّات اور اوہام محض اقوال سے نہیں بدل جاتے۔ حکماً لوگ اس بات کو مان بھی لیتے کہ یہ رشتے حقیقی رشتے نہیں ہیں ، پھر بھی منہ بولی ماں اور منہ بولے بیٹے کے درمیان منہ بولے بھائی اور بہن کے درمیان ، منہ بولے باپ اور بیٹی کے درمیان ، منہ بولے خسر اور بہو کے درمیان نکاح کو لوگ مکروہ سمجھتے رہتے۔ نیز ان کے درمیان خلا ملا بھی کچھ نہ کچھ باقی رہ جاتا۔ اس لیے ناگزیر تھا کہ یہ رسم عملاً توڑی جائے ، اور خود رسول صلی اللہ علیہ و سلم بنفسِ نفیس اس کو توڑیں۔ کیوں کہ جو کام حضورؐ نے خود کیا ہو، اور اللہ کے حکم سے کیا ہو، اس کے متعلق کسی مسلمان کے ذہن میں کراہت کا تصوّر باقی نہ رہ سکتا تھا۔ اسی بنا پر جنگِ احزاب سے کچھ پہلے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ آپ اپنے منہ بولے بیٹے زید بن حارِثہ رضی اللہ عنہ کی مطلقہ بیوی سے خود نکاح کر لیں ، اور اس حکم کی تعمیل آپ نے محاصرۂ بنی قریظہ کے زمانی میں فرمائی۔ (غالباً تا خیر کی وجہ یہ تھی کہ عدّت ختم ہونے کا انتظار تھا، اور اسی دَوران میں جنگی مصروفیات پیش آگئی تھیں )۔یہ کام ہونا تھا کہ حضورؐ کے خِلاف پروپیگنڈے کا ایک طوفان یکلخت اُٹھ کھڑا ہوا۔ مشرکین اور منافقین اور یہود سب آپ کی پے درپے کامیابیوں سے جلے بیٹھے تھے۔ اُحُد کے بعد احزاب اور نبی قریظہ تک دو سال کی مدّت میں جس طرح وہ زک پر زک اُٹھا تے چلے گئے تھے اس کی وجہ ان کے دلوں میں آگ لگ رہی تھی۔ وہ اس بات سے بھی مایوس ہو چکے تھے کہ اب وہ کھلے میدان میں لڑ کر کبھی آپ کو زیر کر سکیں گے۔ اس لیے انہوں نے اس نکاح کے معاملے کو اپنے لیے ایک خدا داد موقع سمجھا اور خیال کیا کہ اب ہم محمد (صلی اللہ علیہ و سلم ) کی اُس اخلاقی برتری کو ختم کر سکیں گے جو اُن کی طاقت اور اُن کی کامیابیوں کا اصل راز ہے چنانچہ یہ افسانے تراشے کہ (معاذاللہ) محمد صلی اللہ علیہ و سلم بہو کو دیکھ کر عاشق ہو گئے تھے ، بیٹے کو اس تعلقِ خاطر کا علم ہو گیا ، اس نے بیوی کو طلاق دے دی ، اور باپ نے اس کے بہو سے بیَاہ رچا لیا۔ حالاں کہ یہ بات صریحاً لغو تھی۔ حضرت زینبؓ حضورؐ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ بچپن سے جوانی تک اُن کی ساری عمر آپ کے سامنے گزری تھی۔ کسی وقت ان کو دیکھ کر عاشق ہو جانے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا۔ پھر آپؐ نے خود اصرار کر کے حضرت زیدؓ سے ان کا نکاح کرایا تھا۔ ان کا سارا خاندان اس پر راضی نہ تھا کہ قریش کے اتنے اُونچے گھرانے کی لڑکی ایک آزاد کردہ غلام سے بیاہی جائے۔ خود حضرت زینب ؓ بھی اس رشتے سے ناخوش تھیں۔ مگر حضورؐ کے حکم سے سب مجبور ہو گئے ، اور حضرت زیدؓ کے ساتھ ان کی شادی کر کے عرب میں اس امر کی پہلی مثال پیش کر دی گئی کہ اسلام ایک آزاد کردہ غلام کو اُٹھا کر شرفائے قریش کے برابر لے آیا ہے۔ اگر فی الواقع حضورؐ کا کوئی میلان حضرت زینبؓ کی جانب ہوتا تو زید بن حارِثہ سے ان کا نِکاح کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی، آپ خود ان سے نِکاح کر سکتے تھے۔ لیکن بے حیا مخالفین نے ان سارے حقائق کے مو جود ہوتے یہ عشق کے افسانے تصنیف کیے ، خوب نمک مرچ لگا لگا کر ان کو پھیلایا اور اس پروپیگنڈے کا صور اس زور سے پھونکا کہ خود مسلمانوں کے اندر بھی ان کی گھڑی ہوئی روایات پھیل گئیں۔ یہ بات کہ دشمنوں کے تصنیف کیے ہوئے یہ افسانے مسلمانوں کی زبانوں پر چڑھنے سے بھی نہ رُکے اس امر کی کھلی ہوئی علامت تھی کہ معاشرے میں شہوانیت کا عنصر حدِّ اعتدال سے بڑھا ہوا تھا۔ یہ خرابی اگر موجود نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ ذہن ایسی پاک ہستی کے متعلق ایسے بے سر و پا اور اس قدر گھناؤنے افسانوں کی طرف ادنیٰ التفات بھی کرتے ، کجا کہ زبانیں ان کو دُہرانے لگتیں۔ یہ ٹھیک موقع تھا جبکہ اسلامی معاشرے میں اُن اصلاحی احکام کے نفاذ کی ابتدا کی گئی جو ’’ حجاب‘‘ (پردے ) کے عنوان سے بیان کیے جاتے ہیں۔ اِ ن اصلاحات کا آغاز اس سورے سے کیا گیا ، اور ان کی تکمیل ایک سال بعد سورۂ نور میں کی گئی، جبکہ حضرت عائشہؓ پر بہتان کا فتنہ کھڑا ہوا۔( مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سُورہ نور ، دیباچہ)۔حضور کی خانگی زندگی کے معاملات:اسی زمانہ میں دو مسئلے اور بھی توجہ طلب تھے۔ اگر چہ بظاہر ان کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خانگی زندگی سے تھا ، مگر جو ذات اپنی جان خدا کے دین کو پروان چڑھانے کے لیے کھپا رہی تھی اور ہمہ تن اس کارِ عظیم میں منہمک تھی اُس کے لیے خانگی زندگی کا سکون فراہم کرنا، اور اس کو پریشانیوں سی بچانا، اور اس کو لوگوں کے شکوک و شبہات سے محفوظ رکھنا بھی خود دین ہی کے مفاد کے لیے ضروری تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نی سرکاری طور پر ان دونوں مسئلوں کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
پہلا مسئلہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اُس وقت مالی حیثیت سے تنگ حال تھے۔ ابتدائی چار سال تک تو آپؐکا کوئی ذریعۂ آمدنی تھا ہی نہیں۔ ۴ھ میں بنی النضیر کی جلا وطنی کے بعد ان کی متروکہ زمینوں کا ایک حصّہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپؐ کی ضروریات کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔ مگر وہ آپؐ کے کنبے کے لیے کافی نہ تھا۔ ادھر منصبِ رسالت کے فرائض اتنے بھاری تھے کہ وہ آپؐ کے جسم اور دِل و دِماغ کے ساری طاقتیں اور آپ کے اوقات کا ایک ایک لمحہ سونتے ڈال رہے تھے اور آپ اپنی معاش کے لیے ذرہ برابر بھی کوئی فکر یا کوشش نہ کر سکتے تھے۔ اِن حالات میں جب آپؐ ازواجِ مطہّرات خرچ کی تنگی کے باعث آپؐ کے سکون طبع میں خلل انداز ہوتی تھیں تو اس سے آپؐ کے ذہن پر دُہرا بار پڑ جاتا تھا۔دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ حضرت زینب ؓ کے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے آپؐ کی چار بیویاں موجود تھیں۔ حضرت سَودہؓ، حضرت عائشہ ؓ، حضرت حَفْصہ ؓ اور حضرت اُمِّ سَلَمہؓ۔ اُمّ المومنین حضرت زینبؓ آپؐ کی پانچویں بیوی تھیں۔ اس پر مخالفین نے یہ اعتراض اُٹھایا ، اور مسلمانوں کے دِلوں میں بھی اس سے شبہات اُبھرنے لگے کہ دوسروں کے لیے تو بیک وقت چار بیویاں رکھنا ممنوع ٹھیرا دیا گیا ہے ، مگر خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ پانچویں بیوی کیسے کر لی۔
موضوع اور مباحث:
یہ مسائل تھے جو سُورۂ احزاب کے نزول کے زمانے میں پیش آئے تھے اور انہی پر اس سورے میں کلام فرمایا گیا ہے۔
اس کے مضامین پر غور کرنے ، اور پس منظر کو نِگاہ میں رکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہی کہ یہ پوری سورۃ ایک خطبہ نہیں ہے جو بیک وقت نازل ہوا ہو ، بلکہ یہ متعدد احکام و فرامین اور خطبات پر مشتمل ہے جو اُس زمانہ کے اہم واقعات کے سلسلے میں یکے بعد دیگرے نازل ہوئے اور پھر یک جا جمع کر کے ایک سورۃ کی شکل میں مرتب کر دیے گئے۔ اس کے حسبِ ذیل اجزاء صاف طور پر ممیز نظر آتے ہیں۔۱۔پہلا رکوع غزوۂ احزاب سے کچھ پہلے نازل شدہ معلوم ہوتا ہی۔ تاریخی پس منظر کو نِگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تواس رکوع کو پڑھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزول کے وقت حضرت زیدؓ حضرت زینب ؓ کو طلاق دے چکے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس ضرورت کو محسوس فرما رہے تھے کہ متبنیٰ کے بارے میں جاہلیت کے تصوّرات اور اوہام و رسوم کو مٹایا جائے ، اور آپؐ کو یہ بھی محسوس ہو رہا تھا کہ لوگ منہ بولے رشتوں کے معاملے میں محض جذباتی بنیادوں پر جس قسم کے نازک اور گہرے تصوّرات رکھتے ہیں وہ اس وقت تک ہر گز نہ مٹ سکیں گے جب تک آپؐ خود آگے بڑھ کر اس رسم کو نہ توڑ دیں۔لیکن اس کے ساتھ ہے آپؐ اس بنا پر سخت متردّد تھے اور قدم بڑھاتے ہوئے ہچکچا رہے تھے کہ اگر اس موقع پر آپؐ نے حضرت زیدؓ کی مطلّقہ بیوی سے نِکاح کیا تو اسلام کے خلاف ہنگامہ اُٹھانے کے لیے منافقین اور یہود اور مشرکین کو، جو پہلے ہی بھرے بیٹھے ہیں ، ایک زبردست شوشہ ہاتھ آ جائے گا۔ اس موقع پر رکوع اوّل کی آیات نازل ہوئیں۔
۲۔ رکوع دوّم و سوّم میں غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنی قریظہ پر تبصرہ فرمایا گیا ہے۔ یہ اس بات کی کھُلی علامت ہے کہ یہ دونوں رکوع ان لڑائیوں کے بعد نازل ہوئے ہیں۔۳۔ چوتھے رکوع کے آغاز سے آیت ۳۵ تک کی تقریر دو مضامین پر مشتمل ہے۔ پہلے حصّہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج کو ، جو اس تنگی و عُسرت کے زمانے میں بے صبر ہو رہی تھیں ، اللہ تعالیٰ نے نوٹِس دیا ہے کہ دنیا اور اس کی زینت، اور خدا و رسول اور آخرت میں سے کسی ایک کو انتخاب کر لو۔ اگر تمہیں پہلی چیز مطلوب ہے تو صاف کہہ دو ، تمہیں ایک دن کے لیے بھی اس تنگی میں مبتلا نہ رکھا جائے گا بلکہ بخوشی رخصت کر دیا جائے گا۔ اور اگر دوسری چیز پسند ہے تو صبر کے ساتھ اللہ اور اس کے رسو ل کا ساتھ دو۔ دوسرے حصّے میں اُس معاشرتی اصلاح کی طرف پہلا قدم اُٹھایا گیا جس کی ضرورت اسلام کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ذہن اب خود محسوس کرنے لگے تھے۔ اس سلسلہ میں اصلاح کی ابتدا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر سے کرتے ہوئے ازواجِ مطہرات کو حکم دیا گیا کہ تبرُّجِ جاہلیّت سے پرہیز کریں ، وقار کے ساتھ اپنے گھروں میں بیٹھیں اور غیر مردوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں سخت احتیاط ملحوظ رکھیں۔ یہ پردے کے احکام کا آغاز تھا۔
۴۔ آیت ۳۶ سے ۴۸ تک کا مضمون حضرت زینبؓ کے ساتھ حضورؐ کے نِکاح کے سلسلہ میں ہے۔ اس میں ان تمام اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو مخالفین کی طرف سے اس نِکاح پر کیے جا رہے تھے ، اُن تمام شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کی دِلوں میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی تھی، مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ حضورؐ کا مرتبہ و مقام کیا ہے ، اور خود حضورؐ کو کفار و منافقین کے جھوٹے پروپیگنڈے پر صبر کی تلقین فرمائی گئی ہے۔۵۔ آیت ۴۹میں طلاق کے قانون کی ایک دفعہ بیان ہوئی ہے۔ یہ ایک منفرد آیت ہے جو غالباً انہی واقعات کے سلسلے میں کسی موقع پر نازل ہوئی تھی۔
۶۔ آیت ۵۰۔ ۵۲ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے نکاح کا خاص ضابطہ بیان کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بات واضح کر دی گئی کہ حضورؐ اُن متعدد پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں جو ازدواجی زندگی کے معاملہ میں عام مسلمانوں پر عائد کی گئی ہیں۔۷۔ آیت ۵۳۔ ۵۵ میں معاشرتی اصلاح کا دوسرا قدم اُٹھایا گیا۔ یہ حسب ذیل احکام پر مشتمل ہے :
نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھروں میں غیر مردوں کی آمد و رفت پر پابندی۔ ملاقات اور دعوت کا ضابطہ۔ ازواج مطہرّات کے بارے میں یہ قانون کہ گھروں میں صرف ان کے قریبی رشتہ دار آ سکتے ہیں ، باقی رہے غیر مرد، تو انہیں اگر کوئی بات کہنی ہو یا کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے کہیں یا مانگیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج کے بارے میں یہ حکم کہ وہ مسلمانوں کے لیے ماں کی طرح حرام ہیں ا ور حضورؐ کے بعد بھی ان میں سے کسی کے ساتھ کسے مسلمان کا نکاح نہیں ہو سکتا۔۸۔ آیت ۵۶۔۵۷ میں اُن چہ میگوئیوں پر سخت تنبیہ کی گئی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نکاح اور آپ کی خانگی زندگی پر کی جا رہی تھیں اور اہل ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دشمنوں کی اس عیب چینی سے اپنے دامن بچائیں اور اپنے نبیؐ پر درود بھیجیں۔ نیز یہ تلقین بھی کی گئی ہے کہ نبیؐ تو درکنار ، اہل ایمان کو تو عام مسلمانوں پر بھی تہمتیں لگانے اور الزامات عائد کرنے سے کلّی اجتناب کرنا چاہیے۔
۹۔ آیت ۵۹ میں معاشرتی اصلاح کا تیسرا قدم اُٹھایا گیا ہے۔اس میں تمام مسلمان عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ جب گھروں سے باہر نکلیں تو چادروں سے اپنے آپ کو ڈھانک کر اور گھونگٹ ڈال کر نِکلیں۔ اس کے بعد آخر سورۃ تک افواہ بازی کی اُس مہم(Whispering Campaign) پر سخت زجر و توبیخ کی گئی ہے جو منافقین اور اراذل نے اس وقت برپا کر رکھی تھی۔
ماخذ: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن
سورۃ الاحزاب کی تمام آیات — عربی متن اور اردو ترجمہ
لفظی ترجمہ، تلفظ اور تفسیر کے لیے کوئی بھی آیت کھولیں۔
- 33:1يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ ٱتَّقِ ٱللَّهَ وَلَا تُطِعِ ٱلْكَٰفِرِينَ وَٱلْمُنَٰفِقِينَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًااے نبی! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کی باتوں میں نہ آجانا، اللہ تعالیٰ بڑے علم واﻻ اور بڑی حکمت واﻻ ہے.
- 33:2وَٱتَّبِعْ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًاجو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اس کی تابعداری کریں (یقین مانو) کہ اللہ تمہارے ہر ایک عمل سے باخبر ہے.
- 33:3وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًاآپ اللہ ہی پر توکل رکھیں، وه کار سازی کے لئے کافی ہے.
- 33:4مَّا جَعَلَ ٱللَّهُ لِرَجُلٍ مِّن قَلْبَيْنِ فِى جَوْفِهِۦ ۚ وَمَا جَعَلَ أَزْوَٰجَكُمُ ٱلَِّٰٓٔى تُظَٰهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَٰتِكُمْ ۚ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَآءَكُمْ أَبْنَآءَكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَٰهِكُمْ ۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِى ٱلسَّبِيلَکسی آدمی کے سینے میں اللہ تعالیٰ نے دو دل نہیں رکھے، اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو انہیں اللہ نے تمہاری (سچ مچ کی) مائیں نہیں بنایا، اور نہ تمہارے لے پالک لڑکوں کو (واقعی) تمہارے بیٹے بنایا ہے، یہ تو تمہارے اپنے منھ کی باتیں ہیں، اللہ تعالیٰ حق بات فرماتا ہے اور وه (سیدھی) راه سجھاتا ہے.
- 33:5ٱدْعُوهُمْ لَِٔابَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓا۟ ءَابَآءَهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَآ أَخْطَأْتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًالے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے۔ پھر اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وه تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں، تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناه نہیں، البتہ گناه وه ہے جس کا تم اراده دل سے کرو۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ مہربان ہے.
- 33:6ٱلنَّبِىُّ أَوْلَىٰ بِٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَٰتُهُمْ ۗ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِى كِتَٰبِ ٱللَّهِ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُهَٰجِرِينَ إِلَّآ أَن تَفْعَلُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِكُم مَّعْرُوفًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِى ٱلْكِتَٰبِ مَسْطُورًاپیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیاده حق رکھنے والے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں، اور رشتے دار کتاب اللہ کی رو سے بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیاده حق دار ہیں (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے.
- 33:7وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ ٱلنَّبِيِّۧنَ مِيثَٰقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ ۖ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًاجب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (بالخصوص) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے، اور ہم نے ان سے (پکا اور) پختہ عہد لیا.
- 33:8لِّيَسَْٔلَ ٱلصَّٰدِقِينَ عَن صِدْقِهِمْ ۚ وَأَعَدَّ لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًاتاکہ اللہ تعالیٰ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت فرمائے، اور کافروں کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھے ہیں.
- 33:9يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًااے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا اسے یاد کرو جبکہ تمہارے مقابلے کو فوجوں پر فوجیں آئیں پھر ہم نے ان پر تیز وتند آندھی اور ایسے لشکر بھیجے جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے.
- 33:10إِذْ جَآءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ ٱلْأَبْصَٰرُ وَبَلَغَتِ ٱلْقُلُوبُ ٱلْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِٱللَّهِ ٱلظُّنُونَا۠جب کہ (دشمن) تمہارے پاس اوپر سے اور نیچے سے چڑھ آئے اور جب کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منھ کو آگئے اور تم اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے.
- 33:11هُنَالِكَ ٱبْتُلِىَ ٱلْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا۟ زِلْزَالًا شَدِيدًایہیں مومن آزمائے گئے اور پوری طرح وه جھنجھوڑ دیئے گئے.
- 33:12وَإِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ إِلَّا غُرُورًااور اس وقت منافق اور وه لوگ جن کے دلوں میں (شک کا) روگ تھا کہنے لگے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا فریب کا ہی وعده کیا تھا.
- 33:13وَإِذْ قَالَت طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ يَٰٓأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَٱرْجِعُوا۟ ۚ وَيَسْتَْٔذِنُ فَرِيقٌ مِّنْهُمُ ٱلنَّبِىَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِىَ بِعَوْرَةٍ ۖ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًاان ہی کی ایک جماعت نے ہانک لگائی کہ اے مدینہ والو! تمہارے لئے ٹھکانہ نہیں چلو لوٹ چلو، اور ان کی ایک اور جماعت یہ کہہ کر نبی ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حاﻻنکہ وه (کھلے ہوئے اور) غیر محفوظ نہ تھے (لیکن) ان کا پختہ اراده بھاگ کھڑے ہونے کا تھا.
- 33:14وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِم مِّنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا۟ ٱلْفِتْنَةَ لََٔاتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا۟ بِهَآ إِلَّا يَسِيرًااور اگر مدینے کے اطراف سے ان پر (لشکر) داخل کیے جاتے پھر ان سے فتنہ طلب کیا جاتا تو یہ ضرور اسے برپا کر دیتے اور نہ لڑتے مگر تھوڑی مدت.
- 33:15وَلَقَدْ كَانُوا۟ عَٰهَدُوا۟ ٱللَّهَ مِن قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ ٱلْأَدْبَٰرَ ۚ وَكَانَ عَهْدُ ٱللَّهِ مَسُْٔولًااس سے پہلے تو انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعده کی باز پرس ضرور ہوگی.
- 33:16قُل لَّن يَنفَعَكُمُ ٱلْفِرَارُ إِن فَرَرْتُم مِّنَ ٱلْمَوْتِ أَوِ ٱلْقَتْلِ وَإِذًا لَّا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلًاکہہ دیجئے کہ گو تم موت سے یا خوف قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہیں کچھ بھی کام نہ آئے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائده اٹھاؤ گے.
- 33:17قُلْ مَن ذَا ٱلَّذِى يَعْصِمُكُم مِّنَ ٱللَّهِ إِنْ أَرَادَ بِكُمْ سُوٓءًا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً ۚ وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًاپوچھیئے! تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی برائی پہنچانا چاہے یا تم پر کوئی فضل کرنا چاہے تو کون ہے جو تمہیں بچا سکے (یا تم سے روک سکے؟)، اپنے لیے بجز اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار.
- 33:18۞ قَدْ يَعْلَمُ ٱللَّهُ ٱلْمُعَوِّقِينَ مِنكُمْ وَٱلْقَآئِلِينَ لِإِخْوَٰنِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا ۖ وَلَا يَأْتُونَ ٱلْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًااللہ تعالیٰ تم میں سے انہیں (بخوبی) جانتا ہے جو دوسروں کو روکتے ہیں اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ۔ اور کبھی کبھی ہی لڑائی میں آجاتے ہیں.
- 33:19أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ فَإِذَا جَآءَ ٱلْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَٱلَّذِى يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ ٱلْمَوْتِ ۖ فَإِذَا ذَهَبَ ٱلْخَوْفُ سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى ٱلْخَيْرِ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا۟ فَأَحْبَطَ ٱللَّهُ أَعْمَٰلَهُمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًاتمہاری مدد میں (پورے) بخیل ہیں، پھر جب خوف ودہشت کا موقعہ آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ آپ کی طرف نظریں جما دیتے ہیں اور ان کی انکھیں اس طرح گھومتی ہیں جیسے اس شخص کی جس پر موت کی غشی طاری ہو۔ پھر جب خوف جاتا رہتا ہے تو تم پر اپنی تیز زبانوں سے بڑی باتیں بناتے ہیں مال کے بڑے ہی حریص ہیں، یہ ایمان ﻻئے ہی نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال نابود کر دیئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ پر یہ بہت ہی آسان ہے.
- 33:20يَحْسَبُونَ ٱلْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا۟ ۖ وَإِن يَأْتِ ٱلْأَحْزَابُ يَوَدُّوا۟ لَوْ أَنَّهُم بَادُونَ فِى ٱلْأَعْرَابِ يَسَْٔلُونَ عَنْ أَنۢبَآئِكُمْ ۖ وَلَوْ كَانُوا۟ فِيكُم مَّا قَٰتَلُوٓا۟ إِلَّا قَلِيلًاسمجھتے ہیں کہ اب تک لشکر چلے نہیں گئے، اور اگر فوجیں آجائیں تو تمنائیں کرتے ہیں کہ کاش! وه صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوتے کہ تمہاری خبریں دریافت کیا کرتے، اگر وه تم میں موجود ہوتے (تو بھی کیا؟) نہ لڑتے مگر برائے نام.
- 33:21لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلَْٔاخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرًایقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے.
- 33:22وَلَمَّا رَءَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلْأَحْزَابَ قَالُوا۟ هَٰذَا مَا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَصَدَقَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ ۚ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّآ إِيمَٰنًا وَتَسْلِيمًااور ایمان والوں نے جب (کفار کے) لشکروں کو دیکھا (بے ساختہ) کہہ اٹھے! کہ انہیں کا وعده ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے دیا تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، اور اس (چیز) نے ان کے ایمان میں اور شیوہٴ فرماں برداری میں اور اضافہ کر دیا.
- 33:23مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا۟ مَا عَٰهَدُوا۟ ٱللَّهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُۥ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا۟ تَبْدِيلًامومنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی.
- 33:24لِّيَجْزِىَ ٱللَّهُ ٱلصَّٰدِقِينَ بِصِدْقِهِمْ وَيُعَذِّبَ ٱلْمُنَٰفِقِينَ إِن شَآءَ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًاتاکہ اللہ تعالیٰ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور اگر چاہے تو منافقوں کو سزا دے یا ان کی توبہ قبول فرمائے، اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ بہت ہی مہربان ہے.
- 33:25وَرَدَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا۟ خَيْرًا ۚ وَكَفَى ٱللَّهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلْقِتَالَ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًااور اللہ تعالیٰ نےکافروں کو غصے بھرے ہوئے ہی (نامراد) لوٹا دیا انہوں نے کوئی فائده نہیں پایا، اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہوگیا اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں واﻻ اور غالب ہے.
- 33:26وَأَنزَلَ ٱلَّذِينَ ظَٰهَرُوهُم مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ مِن صَيَاصِيهِمْ وَقَذَفَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعْبَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًااور جن اہل کتاب نے ان سے سازباز کر لی تھی انہیں (بھی) اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعوں سے نکال دیا اور ان کے دلوں میں (بھی) رعب بھر دیا کہ تم ان کے ایک گروه کو قتل کر رہے ہو اور ایک گروه کو قیدی بنا رہے ہو.
- 33:27وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَٰرَهُمْ وَأَمْوَٰلَهُمْ وَأَرْضًا لَّمْ تَطَُٔوهَا ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرًااور اس نے تمہیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھر بار کا اور ان کے مال کا وارث کر دیا اور اس زمین کا بھی جس کو تمہارے قدموں نے روندا نہیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.
- 33:28يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًااے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دﻻ دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں.
- 33:29وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلدَّارَ ٱلَْٔاخِرَةَ فَإِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَٰتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًااور اگر تمہاری مراد اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر ہے تو (یقین مانو کہ) تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت زبردست اجر رکھ چھوڑے ہیں.
- 33:30يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِىِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَٰحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَٰعَفْ لَهَا ٱلْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًااے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بے حیائی (کا ارتکاب) کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت ہی سہل (سی بات) ہے.
- 33:31۞ وَمَن يَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتَعْمَلْ صَٰلِحًا نُّؤْتِهَآ أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًااور تم میں سے جو کوئی اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک کام کرے گی ہم اسے اجر (بھی) دوہرا دیں گے اور اس کے لئے ہم نے بہترین روزی تیار کر رکھی ہے.
- 33:32يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِىِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ ٱلنِّسَآءِ ۚ إِنِ ٱتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِٱلْقَوْلِ فَيَطْمَعَ ٱلَّذِى فِى قَلْبِهِۦ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًااے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وه کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو.
- 33:33وَقَرْنَ فِى بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتِينَ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِعْنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ ٱلرِّجْسَ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًااور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اﻇہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو۔ اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیو! تم سے وه (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے.
- 33:34وَٱذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِى بُيُوتِكُنَّ مِنْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱلْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًااور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی احادیﺚ پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ لطف کرنے واﻻ خبردار ہے.
- 33:35إِنَّ ٱلْمُسْلِمِينَ وَٱلْمُسْلِمَٰتِ وَٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَٱلْقَٰنِتِينَ وَٱلْقَٰنِتَٰتِ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلصَّٰدِقَٰتِ وَٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰبِرَٰتِ وَٱلْخَٰشِعِينَ وَٱلْخَٰشِعَٰتِ وَٱلْمُتَصَدِّقِينَ وَٱلْمُتَصَدِّقَٰتِ وَٱلصَّٰٓئِمِينَ وَٱلصَّٰٓئِمَٰتِ وَٱلْحَٰفِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَٱلْحَٰفِظَٰتِ وَٱلذَّٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرًا وَٱلذَّٰكِرَٰتِ أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًابےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاه کی حفاﻇت کرنے والے مرد اور حفاﻇت کرنے والیاں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ﺛواب تیار کر رکھا ہے.
- 33:36وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًا مُّبِينًااور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا.
- 33:37وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِىٓ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَٱتَّقِ ٱللَّهَ وَتُخْفِى فِى نَفْسِكَ مَا ٱللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى ٱلنَّاسَ وَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَىٰهُ ۖ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَٰكَهَا لِكَىْ لَا يَكُونَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِىٓ أَزْوَٰجِ أَدْعِيَآئِهِمْ إِذَا قَضَوْا۟ مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ مَفْعُولًا(یاد کرو) جب کہ تو اس شخص سے کہہ رہا تھا جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تو نے بھی کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وه بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ﻇاہر کرنے واﻻ تھا اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا، حاﻻنکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیاده حق دار تھا کہ تو اس سے ڈرے، پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالکوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے جب کہ وه اپنی غرض ان سے پوری کرلیں، اللہ کا (یہ) حکم تو ہو کر ہی رہنے واﻻ تھا.
- 33:38مَّا كَانَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ ٱللَّهُ لَهُۥ ۖ سُنَّةَ ٱللَّهِ فِى ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلُ ۚ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورًاجو چیزیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے مقرر کی ہیں ان میں نبی پر کوئی حرج نہیں، (یہی) اللہ کا دستور ان میں بھی رہا جو پہلے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے کام اندازے پر مقرر کئے ہوئے ہیں.
- 33:39ٱلَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَٰلَٰتِ ٱللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُۥ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا ٱللَّهَ ۗ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ حَسِيبًایہ سب ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور اللہ ہی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ حساب لینے کے لئے کافی ہے.
- 33:40مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّۧنَ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًا(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے.
- 33:41يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًامسلمانو! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیاده کرو.
- 33:42وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًااور صبح وشام اس کی پاکیزگی بیان کرو.
- 33:43هُوَ ٱلَّذِى يُصَلِّى عَلَيْكُمْ وَمَلَٰٓئِكَتُهُۥ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ ۚ وَكَانَ بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًاوہی ہے جو تم پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وه تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے.
- 33:44تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُۥ سَلَٰمٌ ۚ وَأَعَدَّ لَهُمْ أَجْرًا كَرِيمًاجس دن یہ (اللہ سے) ملاقات کریں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا، ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے.
- 33:45يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِنَّآ أَرْسَلْنَٰكَ شَٰهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًااے نبی! یقیناً ہم نے ہی آپ کو (رسول بنا کر) گواہیاں دینے واﻻ، خوشخبریاں سنانے واﻻ، آگاه کرنے واﻻ بھیجا ہے.
- 33:46وَدَاعِيًا إِلَى ٱللَّهِ بِإِذْنِهِۦ وَسِرَاجًا مُّنِيرًااور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے واﻻ اور روشن چراغ.
- 33:47وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَضْلًا كَبِيرًاآپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیجئے! کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے.
- 33:48وَلَا تُطِعِ ٱلْكَٰفِرِينَ وَٱلْمُنَٰفِقِينَ وَدَعْ أَذَىٰهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًااور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانیئے! اور جو ایذا (ان کی طرف سے پہنچے) اس کا خیال بھی نہ کیجیئے اللہ پر بھروسہ کئے رہیں، اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کام بنانے واﻻ.
- 33:49يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نَكَحْتُمُ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًااے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ہاتھ لگانے سے پہلے (ہی) طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو، پس تم کچھ نہ کچھ انہیں دے دو اور بھلے طریق پر انہیں رخصت کر دو.
- 33:50يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِنَّآ أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَٰجَكَ ٱلَّٰتِىٓ ءَاتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّٰتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَٰلَٰتِكَ ٱلَّٰتِى هَاجَرْنَ مَعَكَ وَٱمْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِىِّ إِنْ أَرَادَ ٱلنَّبِىُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۗ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِىٓ أَزْوَٰجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًااے نبی! ہم نے تیرے لئے تیری وه بیویاں حلال کر دی ہیں جنہوں تو ان کا مہر دے چکا ہے اور وه لونڈیاں بھی جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خاﻻؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وه باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کردے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے، یہ خاص طور پر صرف تیرے لئے ہی ہے اور مومنوں کے لئے نہیں، ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں، یہ اس لئے کہ تجھ پر حرج واقع نہ ہو، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے اور بڑے رحم واﻻ ہے.
- 33:51۞ تُرْجِى مَن تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَتُْٔوِىٓ إِلَيْكَ مَن تَشَآءُ ۖ وَمَنِ ٱبْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ ءَاتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِى قُلُوبِكُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمًاان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے، اور اگر تو نے ان میں سے بھی کسی کو اپنے پاس بلالے جنہیں تو نے الگ کر رکھا تھا تو تجھ پر کوئی گناه نہیں، اس میں اس بات کی زیاده توقع ہے کہ ان عورتوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وه رنجیده نہ ہوں اور جو کچھ بھی تو انہیں دے دے اس پر سب کی سب راضی رہیں۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ (خوب) جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی علم اور حلم واﻻ ہے.
- 33:52لَّا يَحِلُّ لَكَ ٱلنِّسَآءُ مِنۢ بَعْدُ وَلَآ أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَٰجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ رَّقِيبًااس کے بعد اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ (درست ہے) کہ ان کے بدلے اور عورتوں سے (نکاح کرے) اگر چہ ان کی صورت اچھی بھی لگتی ہو مگر جو تیری مملوکہ ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا (پورا) نگہبان ہے.
- 33:53يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَدْخُلُوا۟ بُيُوتَ ٱلنَّبِىِّ إِلَّآ أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَٰظِرِينَ إِنَىٰهُ وَلَٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَٱدْخُلُوا۟ فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَٱنتَشِرُوا۟ وَلَا مُسْتَْٔنِسِينَ لِحَدِيثٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِى ٱلنَّبِىَّ فَيَسْتَحْىِۦ مِنكُمْ ۖ وَٱللَّهُ لَا يَسْتَحْىِۦ مِنَ ٱلْحَقِّ ۚ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَٰعًا فَسَْٔلُوهُنَّ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ۚ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا۟ رَسُولَ ٱللَّهِ وَلَآ أَن تَنكِحُوٓا۟ أَزْوَٰجَهُۥ مِنۢ بَعْدِهِۦٓ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمًااے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لئے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہوجایا کرو۔ نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے۔ تو وه لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بیان) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا، جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے کامل پاکیزگی یہی ہے، نہ تمہیں یہ جائز ہے کہ تم رسول اللہ کو تکلیف دو اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔ (یاد رکھو) اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا (گناه) ہے.
- 33:54إِن تُبْدُوا۟ شَئًْا أَوْ تُخْفُوهُ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًاتم کسی چیز کو ﻇاہر کرو یا مخفی رکھو اللہ تو ہر چیز کا بخوبی علم رکھنے واﻻ ہے.
- 33:55لَّا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِىٓ ءَابَآئِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآئِهِنَّ وَلَآ إِخْوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآءِ إِخْوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآءِ أَخَوَٰتِهِنَّ وَلَا نِسَآئِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُنَّ ۗ وَٱتَّقِينَ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدًاان عورتوں پر کوئی گناه نہیں کہ وه اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی (میل جول کی) عورتوں اور ملکیت کے ماتحتوں (لونڈی، غلام) کے سامنے ہوں۔ (عورتو!) اللہ سے ڈرتی رہو۔ اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر شاہد ہے.
- 33:56إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًااللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو.
- 33:57إِنَّ ٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلَْٔاخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًاجو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسوا کن عذاب ہے.
- 33:58وَٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ بِغَيْرِ مَا ٱكْتَسَبُوا۟ فَقَدِ ٱحْتَمَلُوا۟ بُهْتَٰنًا وَإِثْمًا مُّبِينًااور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہو، وه (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناه کا بوجھ اٹھاتے ہیں.
- 33:59يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًااے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتیں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی، اور اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے.
- 33:60۞ لَّئِن لَّمْ يَنتَهِ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَٱلْمُرْجِفُونَ فِى ٱلْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَآ إِلَّا قَلِيلًااگر (اب بھی) یہ منافق اور وه جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وه لوگ جو مدینہ میں غلط افواہیں اڑانے والے ہیں باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان (کی تباہی) پر مسلط کردیں گے پھر تو وه چند دن ہی آپ کے ساتھ اس (شہر) میں ره سکیں گے.
- 33:61مَّلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوٓا۟ أُخِذُوا۟ وَقُتِّلُوا۟ تَقْتِيلًاان پر پھٹکار برسائی گئی، جہاں بھی مل جائیں پکڑے جائیں اور خوب ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں.
- 33:62سُنَّةَ ٱللَّهِ فِى ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ ٱللَّهِ تَبْدِيلًاان سے اگلوں میں بھی اللہ کا یہی دستور جاری رہا۔ اور تو اللہ کے دستور میں ہرگز ردوبدل نہ پائے گا.
- 33:63يَسَْٔلُكَ ٱلنَّاسُ عَنِ ٱلسَّاعَةِ ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ ٱللَّهِ ۚ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًالوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر بہت ممکن ہے قیامت بالکل ہی قریب ہو.
- 33:64إِنَّ ٱللَّهَ لَعَنَ ٱلْكَٰفِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًااللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے.
- 33:65خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ۖ لَّا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًاجس میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ وه کوئی حامی ومددگار نہ پائیں گے.
- 33:66يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِى ٱلنَّارِ يَقُولُونَ يَٰلَيْتَنَآ أَطَعْنَا ٱللَّهَ وَأَطَعْنَا ٱلرَّسُولَا۠اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ (حسرت وافسوس سے) کہیں گے کہ کاش ہم اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرتے.
- 33:67وَقَالُوا۟ رَبَّنَآ إِنَّآ أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَآءَنَا فَأَضَلُّونَا ٱلسَّبِيلَا۠اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہمیں راه راست سے بھٹکا دیا.
- 33:68رَبَّنَآ ءَاتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ ٱلْعَذَابِ وَٱلْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًاپروردگار تو انہیں دگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت نازل فرما.
- 33:69يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ ءَاذَوْا۟ مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ ٱللَّهُ مِمَّا قَالُوا۟ ۚ وَكَانَ عِندَ ٱللَّهِ وَجِيهًااے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی پس جو بات انہوں نے کہی تھی اللہ نے انہیں اس سے بری فرما دیا، اور وه اللہ کے نزدیک باعزت تھے.
- 33:70يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَقُولُوا۟ قَوْلًا سَدِيدًااے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو.
- 33:71يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَٰلَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًاتاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی.
- 33:72إِنَّا عَرَضْنَا ٱلْأَمَانَةَ عَلَى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱلْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا ٱلْإِنسَٰنُ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًاہم نے اپنی امانت کو آسمانوں پر زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے (مگر) انسان نے اسے اٹھا لیا، وه بڑا ہی ﻇالم جاہل ہے.
- 33:73لِّيُعَذِّبَ ٱللَّهُ ٱلْمُنَٰفِقِينَ وَٱلْمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلْمُشْرِكِينَ وَٱلْمُشْرِكَٰتِ وَيَتُوبَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًۢا(یہ اس لئے) کہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں عورتوں اور مشرک مردوں عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں عورتوں کی توبہ قبول فرمائے، اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ اور مہربان ہے.