سورۃ القلم
سورۃ القلم (القلم، معنی: قلم) قرآن کی ۶۸ویں سورۃ ہے۔ یہ مکی سورۃ ہے جس میں ۵۲ آیات ہیں، اور یہ پارہ ۲۹ میں مدنی مصحف کے صفحہ ۵۶۴ سے شروع ہوتی ہے۔
سورۃ القلم کا تعارف
نام:
اس کا نام سورہ "ن" بھی ہے اور "القلم" بھی۔ دونوں الفاظ سورۃ کے آغاز ہی میں موجود ہیں۔
زمانۂ نزول:
یہ بھی مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سُورتوں میں سے ہے، مگر اس کے مضمون سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ اُس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کر چکی تھی۔
موضوع اور مضمون:
اس میں تین مضامین بیان ہوئے ہیں۔ مخالفین کے اعتراضات کا جواب ، اُن کو تنبیہ اور نصیحت ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر و استقامت کی تلقین۔
آغازِ کلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد ہوا ہے کہ یہ کفار تم کو دیوانہ کہتے ہیں، حالانکہ جو کتاب تم پیش کر رہے ہو اور اخلاق کے جس اعلیٰ مرتبے پر تم فائز ہو وہ خود ان کے اس جھوٹ کی تردید کے لیے کافی ہے۔ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب سب ہی دیکھ لیں گے کہ دیوانہ کون تھا اور فرزانہ کون۔ لہٰذا مخالفت کا جو طوفان تمہارے خلاف اٹھایا جا رہا ہے اس کا دباؤ ہر گز قبول نہ کرو۔ دراصل یہ ساری باتیں اِس لیے کی جارہی ہیں کہ تم کسی نہ کسی طرح دب کر ان سے مصالحت(Compromise)
کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔پھر عوام کی آنکھیں کھولنے کے لیے نام لیے بغیر مخالفین میں سے ایک نمایاں شخص کا کردار پیش کیا گیا ہے جسے اہلِ مکہ خوب جانتے تھے۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ اخلاق بھی سب کے سامنے تھے ، اور ہر دیکھنے والا یہ بھی دیکھ سکتا تھا کہ آپ کی مخالفت میں مکہ کے جو سردار پیش پیش ہیں اُن میں کسی سیرت و کردار کے لوگ شامل ہیں۔
اس کے بعد آیت ۱۷ سے ۲۳ تک ایک باغ والوں کی مثال پیش کی گئی ہے جنہوں نے اللہ سے نعمت پا کر اُس کی نا شکری کی اور اُن کے اندر جو شخص سب سے بہتر تھا اس کی نصیحت بر وقت نہ مانی، آخر کار وہ اُس نعمت سے محروم ہو گئے اور اُن کی آنکھیں اُس وقت کھلیں جب اُن کا سب کچھ بر باد کر چکاتھا۔ یہ مثال دے کر اہلِ مکہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تم بھی اُسی آزمائش میں پڑ گئے ہو جس میں وہ باغ والے پڑے تھے۔ اگر ان کی بات نہ مانوگے تو دنیا میں بھی عذاب بھگتو گے اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ بڑا ہے۔پھر آیت ۳۴ سے ۴۷ تک مسلسل کفار کو فہمائش کی گئی ہے جس میں کہیں تو خطاب براہ راست اُن سے ہے اور کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے دراصل تنبیہ اُن کو کی گئی ہے ۔ اس سلسلہ میں جو باتیں ارشاد ہوئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ آخرت کی بھلائی لازماً اُنہی لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے دنیا میں خدا ترسی کے ساتھ زندگی بسر کی ہے ۔ یہ بات سراسر عقل کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں فرمانبرداروں کا انجام وہ ہو جو مجرموں کا ہو نا چاہیے۔ کفار کی یہ غلط فہمی قطعی بے بنیاد ہے کہ خدا اُن کے ساتھ وہ معاملہ کرے گا جو وہ خود اپنے لیے تجویز کرتے ہیں، حالانکہ اِس کے لیے اُنہیں کوئی ضمانت حاصل نہیں ہے ۔جن لوگوں کو دنیا میں خدا کے آگے جھکنے کی دعوت دی جا رہی ہے اور وہ اس سے انکار کرتے ہیں، قیامت کے روز وہ سجدہ کرنا چاہیں گے بھی تو نہ کر سکیں گے اور ذلت کا انجام انہیں دیکھنا پڑیگا۔ قرآن کو جھٹلا کو وہ خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکتے ۔ اُنہیں جو ڈھیل دی جا رہی ہے اس سے وہ دھوکے میں پڑ گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس تکذیب کے با وجود جب اُن پر عذاب نہیں آرہا ہے تو وہ صحیح راستے پر ہیں، حالانکہ وہ بے خبری میں ہلاکت کی راہ پر چلے جا رہے ہیں۔ اُن کے پاس رسول کی مخالفت کے لیے کوئی معقول وجہ نہیں ہے ، کیونکہ وہ ایک بے غرض مبلغ ہے، اپنی ذات کے لیے اُن سے کچھ نہیں مانگ رہا ہے، اور وہ یہ دعویٰ بھی نہیں کر سکتے کہ اُنہیں اُس کے رسول نہ ہونے اور اُس کی باتوں کے غلط ہونے کا علم حاصل ہے۔
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اللہ کا فیصلہ آنے تک جو سختیاں بھی تبلیغ دین کی راہ میں پیش آئیں اُن کو صبر کے ساتھ برداشت کرتے چلے جائیں اور اُس بے صبری سے بچیں جو یونس علیہ السلام کے لیے ابتلا کی موجب بنی تھی۔
ماخذ: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن
سورۃ القلم کی تمام آیات — عربی متن اور اردو ترجمہ
لفظی ترجمہ، تلفظ اور تفسیر کے لیے کوئی بھی آیت کھولیں۔
- 68:1نٓ ۚ وَٱلْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں.
- 68:2مَآ أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍتو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے.
- 68:3وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍاور بے شک تیرے لیے بے انتہا اجر ہے.*
- 68:4وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍاور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے.
- 68:5فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَپس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے.
- 68:6بِأَييِّكُمُ ٱلْمَفْتُونُکہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے.
- 68:7إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَبیشک تیرا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وه راه یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے.
- 68:8فَلَا تُطِعِ ٱلْمُكَذِّبِينَپس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان.
- 68:9وَدُّوا۟ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَوه تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں.
- 68:10وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍاور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻ.
- 68:11هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِيمٍبے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور.
- 68:12مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍبھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار.
- 68:13عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍگردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہو.
- 68:14أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَاس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہے.
- 68:15إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَجب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیں.
- 68:16سَنَسِمُهُۥ عَلَى ٱلْخُرْطُومِہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے.
- 68:17إِنَّا بَلَوْنَٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا۟ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَبیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے.
- 68:18وَلَا يَسْتَثْنُونَاور انشاءاللہ نہ کہا.
- 68:19فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَپس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھے.
- 68:20فَأَصْبَحَتْ كَٱلصَّرِيمِپس وه باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی.
- 68:21فَتَنَادَوْا۟ مُصْبِحِينَاب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں.
- 68:22أَنِ ٱغْدُوا۟ عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰرِمِينَکہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو.
- 68:23فَٱنطَلَقُوا۟ وَهُمْ يَتَخَٰفَتُونَپھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے.
- 68:24أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا ٱلْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌکہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے.*
- 68:25وَغَدَوْا۟ عَلَىٰ حَرْدٍ قَٰدِرِينَاور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پاگئے.
- 68:26فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوٓا۟ إِنَّا لَضَآلُّونَجب انہوں نے باغ دیکھا تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ بھول گئے.
- 68:27بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَنہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی.
- 68:28قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟
- 68:29قَالُوا۟ سُبْحَٰنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَتو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ﻇالم تھے.
- 68:30فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَلَٰوَمُونَپھر وه ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں ملامت کرنے لگے.
- 68:31قَالُوا۟ يَٰوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَٰغِينَکہنے لگے ہائے افسوس! یقیناً ہم سرکش تھے.
- 68:32عَسَىٰ رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا رَٰغِبُونَکیا عجب ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے دے ہم تو اب اپنے رب سے ہی آرزو رکھتے ہیں.
- 68:33كَذَٰلِكَ ٱلْعَذَابُ ۖ وَلَعَذَابُ ٱلَْٔاخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَیوں ہی آفت آتی ہے اور آخرت کی آفت بہت بڑی ہے۔ کاش انہیں سمجھ ہوتی.
- 68:34إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِپرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں.
- 68:35أَفَنَجْعَلُ ٱلْمُسْلِمِينَ كَٱلْمُجْرِمِينَکیا ہم مسلمانوں کو مثل گناه گاروں کے کردیں گے.
- 68:36مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَتمہیں کیا ہوگیا، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟
- 68:37أَمْ لَكُمْ كِتَٰبٌ فِيهِ تَدْرُسُونَکیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟
- 68:38إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَکہ اس میں تمہاری من مانی باتیں ہوں؟
- 68:39أَمْ لَكُمْ أَيْمَٰنٌ عَلَيْنَا بَٰلِغَةٌ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۙ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَیا تم نے ہم سے کچھ قسمیں لی ہیں؟ جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لیے وه سب ہے جو تم اپنی طرف سے مقرر کر لو.
- 68:40سَلْهُمْ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَعِيمٌان سے پوچھو تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہدار (اور دعویدار) ہے؟
- 68:41أَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ فَلْيَأْتُوا۟ بِشُرَكَآئِهِمْ إِن كَانُوا۟ صَٰدِقِينَکیا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو چاہئے کہ اپنے اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر یہ سچے ہیں.
- 68:42يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَجس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو (سجده) نہ کر سکیں گے.
- 68:43خَٰشِعَةً أَبْصَٰرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ وَقَدْ كَانُوا۟ يُدْعَوْنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ وَهُمْ سَٰلِمُونَنگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت و خواری چھارہی ہوگی، حاﻻنکہ یہ سجدے کے لیے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم تھے.
- 68:44فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَٰذَا ٱلْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَپس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا.
- 68:45وَأُمْلِى لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌاور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے.
- 68:46أَمْ تَسَْٔلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَکیا تو ان سے کوئی اجرت چاہتا ہے جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہیں.
- 68:47أَمْ عِندَهُمُ ٱلْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَیا کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے وه لکھتے ہوں.
- 68:48فَٱصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ ٱلْحُوتِ إِذْ نَادَىٰ وَهُوَ مَكْظُومٌپس تو اپنے رب کے حکم کا صبر سے (انتظار کر) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جا جب کہ اس نے غم کی حالت میں دعا کی.
- 68:49لَّوْلَآ أَن تَدَٰرَكَهُۥ نِعْمَةٌ مِّن رَّبِّهِۦ لَنُبِذَ بِٱلْعَرَآءِ وَهُوَ مَذْمُومٌاگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وه برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا.
- 68:50فَٱجْتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَجَعَلَهُۥ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَاسے اس کے رب نے پھر نوازا اور اسے نیک کاروں میں کر دیا.
- 68:51وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَٰرِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا۟ ٱلذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُۥ لَمَجْنُونٌاور قریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں، جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو ضرور دیوانہ ہے.
- 68:52وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَٰلَمِينَدر حقیقت یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہی ہے.