سورۃ سورۃ حآقہ
سورۃ سورۃ حآقہ (الحاقة، معنی: حق ہونے والی) قرآن کی ۶۹ویں سورۃ ہے۔ یہ مکی سورۃ ہے جس میں ۵۲ آیات ہیں، اور یہ پارہ ۲۹ میں مدنی مصحف کے صفحہ ۵۶۶ سے شروع ہوتی ہے۔
سورۃ سورۃ حآقہ کا تعارف
نام :
سورة کے پہلےہی لفظ کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔
زمانۂ نزول :
یہ بھی مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے اور اس کے مضامین سے معلو م ہوتا ہے کہ یہ اُس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت تو شروع ہو چکی تھی، مگر اس نے ابھی زیادہ شدت نہ اختیار کی تھی۔ مسند احمد میں حضرت عمر ؓ کی روایت ہے کہ اسلام سے پہلے ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے کے لیے گھر سے نکلا مگر آپ مجھ سے پہلے مسجد حرام میں داخل ہو چکے تھے۔ میں پہنچا تو آپ نماز میں سورہ الحاقہ پڑھ رہے تھے ۔ میں آپؐ کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور سننے لگا۔ قرآن کی شانِ کلام پر میں حیران ہو رہا تھا کہ میرے دل میں یکایک خیال آیا کہ یہ شخص ضرور شاعر ہے جیسا کہ قریش کہتے ہیں۔ فوراً ہی حضورؐ کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے”یہ ایک رسولِ کریمؐ کا قول ہے کسی شاعر کا قول نہیں ہے“۔ میں نے اپنے دل میں کہا شاعر نہیں تو پھر کاہن ہے۔ اُسی وقت زبان مبارک پر یہ الفاظ جاری ہوئے”اور نہ کسی کاہن کا قول ہے ۔ تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے“۔ یہ سن کر اسلام میرے دل میں گہرا اُتر گیا۔ حضرت عمرؓ کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة اُن کے قبولِ اسلام سے بہت پہلے نازل ہو چکی تھی، کیونکہ اس واقعہ کے بعد بھی ایک مدت تک وہ ایمان نہیں لائے تھے اور وقتاً فوقتاً متعدد واقعات اُن کو اسلام سے متاثر کرتے رہے تھے، یہاں تک کہ اپنی بہن کے گھر میں اُن کے دل پر وہ آخری ضرب لگی جس نے ان کو ایمان کی منزل پر پہنچا دیا (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم،دیباچہ سورہ مریم۔ جلدپنجم، دیباچہ سورہ واقعہ)۔
موضوع اور مضمون:
اس کا پہلا رکوع آخرت کے بیان میں ہے، اور دوسرا رکوع قرآن کے مُنزَّل من اللہ اور محمد صلی للہ علیہ وسلم کے رسول ِ برحق ہونے کے بارے میں۔
پہلے رکوع کا آغاز اس بات سے ہوا ہے کہ قیامت کا آنا اور آخرت کا بر پا ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جو ضرور پیش آکر رہنی ہے۔ پھر آیت۴ سے ۱۲ تک یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے جن قوموں نے بھی آخرت کا انکار کیا ہے وہ آخر کار خدا کے عذاب کی مستحق ہو کر رہی ہیں۔ اس کے بعد آیت ۱۷ تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ وہ کس طرح بر پا ہوگی۔ پھر آیت۱۸ سے ۳۷ تک وہ اصل مقصد بیان کیا گیا ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی موجودہ زندگی کے بعد نوعِ انسانی کے لیے ایک دوسری زندگی مقدر فرمائی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اُس روز تمام انسان اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوں گے جہاں اُن کا کوئی راز چھپا نہ رہ جائے گا۔ ہر ایک کا نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا۔ جن لوگوں نے دنیامیں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کی تھی کہ ایک دن اُنہیں اپنے رب کو اپنا حساب دینا ہے، اور جنہوں نے دنیا کی زندگی میں نیک عمل کر کےاپنی آخرت کی بھلائی کے لیے پیشگی سامان کر لیا تھا، وہ اپنا حساب پاک دیکھ کر خوش ہو جائیں گے اور انہیں جنت کا ابدی عیش نصیب ہو گا۔ اس کے بر عکس جن لوگوں نے خدا کا حق مانا نہ بندوں کا حق ادا کیا، انہیں خدا کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے ۔دوسرے رکوع میں کفارِ مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم اس قرآن کو ایک شاعر اور کاہن کا کلام کہتے ہو، حالانکہ یہ اللہ کا نازل کردہ کلام ہے جو ایک رسولِ کریم کی زبان سے ادا ہو رہا ہے۔ رسول اس کلام میں اپنی طرف سے ایک لفظ گھٹانے یا بڑھا نے کا اختیار نہیں رکھتا ۔ اگر وہ اس میں اپنی من گھڑت کوئی چیز شامل کر دے تو ہم اُس کی رگِ گردن(یا رگِ دل)کاٹ دیں۔ یہ ایک یقینی برحق کلا م ہے اور جو لوگ اسے جھٹلائیں گے انہیں آخر کار پچھتانا پڑے گا۔
ماخذ: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن
سورۃ سورۃ حآقہ کی تمام آیات — عربی متن اور اردو ترجمہ
لفظی ترجمہ، تلفظ اور تفسیر کے لیے کوئی بھی آیت کھولیں۔
- 69:1ٱلْحَآقَّةُﺛابت ہونے والی.
- 69:2مَا ٱلْحَآقَّةُﺛابت ہونے والی کیا ہے؟
- 69:3وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْحَآقَّةُاور تجھے کیا معلوم ہے کہ وه ﺛابت شده کیا ہے؟
- 69:4كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌۢ بِٱلْقَارِعَةِاس کھڑکا دینے والی کو ﺛمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا
- 69:5فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا۟ بِٱلطَّاغِيَةِ(جس کے نتیجہ میں) ﺛمود تو بے حد خوفناک (اور اونچی) آواز سے ہلاک کردیئے گئے.
- 69:6وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا۟ بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍاور عاد بیحد تیز وتند ہوا سے غارت کردیئے گئے.
- 69:7سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَٰنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى ٱلْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍجسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک (اللہ نے) مسلط رکھا پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں.
- 69:8فَهَلْ تَرَىٰ لَهُم مِّنۢ بَاقِيَةٍکیا ان میں سے کوئی بھی تجھے باقی نظر آرہا ہے؟
- 69:9وَجَآءَ فِرْعَوْنُ وَمَن قَبْلَهُۥ وَٱلْمُؤْتَفِكَٰتُ بِٱلْخَاطِئَةِفرعون اور اس سے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں الٹ دی گئی، انہوں نے بھی خطائیں کیں.
- 69:10فَعَصَوْا۟ رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةًاور اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی (بالﺂخر) اللہ نے انہیں (بھی) زبردست گرفت میں لے لیا.
- 69:11إِنَّا لَمَّا طَغَا ٱلْمَآءُ حَمَلْنَٰكُمْ فِى ٱلْجَارِيَةِجب پانی میں طغیانی آگئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا.
- 69:12لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَٰعِيَةٌتاکہ اسے تمہارے لیے نصیحت اور یادگار بنادیں، اور (تاکہ) یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں.
- 69:13فَإِذَا نُفِخَ فِى ٱلصُّورِ نَفْخَةٌ وَٰحِدَةٌپس جب کہ صور میں ایک پھونک پھونکی جائے گی.
- 69:14وَحُمِلَتِ ٱلْأَرْضُ وَٱلْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَٰحِدَةًاور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے اور ایک ہی چوٹ میں ریزه ریزه کر دیے جائیں گے.
- 69:15فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ ٱلْوَاقِعَةُاس دن ہو پڑنے والی (قیامت) ہو پڑے گی.
- 69:16وَٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَهِىَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌاور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن بالکل بودا ہوجائے گا.
- 69:17وَٱلْمَلَكُ عَلَىٰٓ أَرْجَآئِهَا ۚ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَٰنِيَةٌاس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے، اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے.
- 69:18يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنكُمْ خَافِيَةٌاس دن تم سب سامنے پیش کیے جاؤ گے، تمہارا کوئی بھید پوشیده نہ رہے گا.
- 69:19فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ فَيَقُولُ هَآؤُمُ ٱقْرَءُوا۟ كِتَٰبِيَهْسو جسے اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وه کہنے لگے گا کہ لو میرا نامہٴ اعمال پڑھو.
- 69:20إِنِّى ظَنَنتُ أَنِّى مُلَٰقٍ حِسَابِيَهْمجھے تو کامل یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنا ہے.
- 69:21فَهُوَ فِى عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍپس وه ایک دل پسند زندگی میں ہوگا.
- 69:22فِى جَنَّةٍ عَالِيَةٍبلند وباﻻ جنت میں.
- 69:23قُطُوفُهَا دَانِيَةٌجس کے میوے جھکے پڑے ہوں گے.
- 69:24كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ هَنِيًٓٔۢا بِمَآ أَسْلَفْتُمْ فِى ٱلْأَيَّامِ ٱلْخَالِيَةِ(ان سے کہا جائے گا) کہ مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کیے.
- 69:25وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَٰبَهُۥ بِشِمَالِهِۦ فَيَقُولُ يَٰلَيْتَنِى لَمْ أُوتَ كِتَٰبِيَهْلیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وه تو کہے گا کہ کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی.
- 69:26وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْاور میں جانتا ہی نہ کہ حساب کیا ہے.
- 69:27يَٰلَيْتَهَا كَانَتِ ٱلْقَاضِيَةَکاش! کہ موت (میرا) کام ہی تمام کر دیتی.
- 69:28مَآ أَغْنَىٰ عَنِّى مَالِيَهْ ۜمیرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا.
- 69:29هَلَكَ عَنِّى سُلْطَٰنِيَهْمیرا غلبہ بھی مجھ سے جاتا رہا.
- 69:30خُذُوهُ فَغُلُّوهُ(حکم ہوگا) اسے پکڑ لو پھر اسے طوق پہنادو.
- 69:31ثُمَّ ٱلْجَحِيمَ صَلُّوهُپھر اسے دوزخ میں ڈال دو.
- 69:32ثُمَّ فِى سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَٱسْلُكُوهُپھر اسے ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ کی ہے جکڑ دو.
- 69:33إِنَّهُۥ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ ٱلْعَظِيمِبیشک یہ اللہ عظمت والے پرایمان نہ رکھتا تھا.
- 69:34وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِاور مسکین کے کھلانے پر رغبت نہ دﻻتا تھا.
- 69:35فَلَيْسَ لَهُ ٱلْيَوْمَ هَٰهُنَا حَمِيمٌپس آج اس کا نہ کوئی دوست ہے.
- 69:36وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍاور نہ سوائے پیﭗ کے اس کی کوئی غذا ہے.
- 69:37لَّا يَأْكُلُهُۥٓ إِلَّا ٱلْخَٰطُِٔونَجسے گناه گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا.
- 69:38فَلَآ أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَپس مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو.
- 69:39وَمَا لَا تُبْصِرُونَاور ان چیزوں کی جنہیں تم نہیں دیکھتے.
- 69:40إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍکہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے.
- 69:41وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَیہ کسی شاعر کا قول نہیں (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے.
- 69:42وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَاور نہ کسی کاہن کا قول ہے، (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو.
- 69:43تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ(یہ تو) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے.
- 69:44وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ ٱلْأَقَاوِيلِاور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا.
- 69:45لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِٱلْيَمِينِتو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے.
- 69:46ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ ٱلْوَتِينَپھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے.
- 69:47فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَٰجِزِينَپھر تم میں سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے واﻻ نہ ہوتا.
- 69:48وَإِنَّهُۥ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِينَیقیناً یہ قرآن پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے.
- 69:49وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں.
- 69:50وَإِنَّهُۥ لَحَسْرَةٌ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَبیشک (یہ جھٹلانا) کافروں پر حسرت ہے.
- 69:51وَإِنَّهُۥ لَحَقُّ ٱلْيَقِينِاور بیشک (و شبہ) یہ یقینی حق ہے.
- 69:52فَسَبِّحْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلْعَظِيمِپس تو اپنے رب عظیم کی پاکی بیان کر.